| 86441 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
سوال: السلام علیکم!میرا نام امیر حمزہ ہے اور میں سیالکوٹ سے ہوں،میں نے آج سے 2 سال پہلے ایک لڑکی سے آن لائن نکاح کیا تھا، وہ لڑکی تب دبئی میں رہتی تھی اور وہاں ہی کام کرتی تھی اُسکی ایک لڑکے سے دوستی ہوئی اور وہ دونوں آپس میں ملنے لگے جس کے نتیجے میں وہ لڑکی حاملہ ہو گئی اور وہ لڑکی پہلے سے کسی کے ساتھ نکاح میں بھی تھی لیکن جس سے نکاح ہوا تھا اُس کے ساتھ تنہائی اخیتار نہیں کی تھی پھر جب وہ حاملہ ہوئی تو اُس کے پاس بچہ ضائع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا ،اُس صورت میں نے اُسکی عزت بچانے کے لئے اُس سے نکاح کر لیا، وہ بچہ بھی میرے نکاح کے بعد ہی میرے گھر پیدا ہوا تھا ۔ نکاح کے وقت میری بیوی نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے اپنی سابقہ شوہر سے طلاق لے لی ہے، لیکن اس نے یہ سوچ کر کے سب کچھ خراب نہ ہو جائے، اس لیے جھوٹ بولا تھا آج اُس نے مجھے بتایا ہے کہ میں نے طلاق نہیں لی تھی اب میرا نکاح اِس سے ہے یاں نہیں ہے اور اگر نہیں ہے تو میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،مجھے بتائیں کیاکروں ؟راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بیوی نےاگرپہلےشوہرسےطلاق نہیں لی تھی توآپ کانکاح منعقدہی نہیں ہوا،کیونکہ ایک نکاح کےہوتےہوئےدوسرانکاح منعقد نہیں ہوتا،لہذابیوی پر لازم ہےکہ پہلےشوہرسےطلاق یاخلع لے،اس کےبعد عدت گزارے،عدت گزارنےکےبعددوبارہ نئےسرےسےآپ کےساتھ نکاح کیاجاسکتاہے،اس سےپہلےساتھ رہناجائزنہیں،فوراعلیحدگی ضروری ہے،جتناعرصہ ساتھ رہے،یہ گناہ کاکام تھا،اس پر بھی توبہ واستغفاربھی لازم ہوگا۔
حوالہ جات
"ردالمحتار" 3/516 :
وامامنکوحۃ الغیر ومعتدتہ (الی )لم یقل احدہ بجوازہ وفی قاضیخان ولایجوز نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدۃ الغیر عندالکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
14/رجب1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


