03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹے اور چھ بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم
86511میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم!کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق :ایک بھائی  اور چھ بہنیں ہیں،والدین  دونوں فوت ہوچکے ہیں۔اب بھائی چاہتا ہے کہ میں اپنی بہنوں کو میراث میں حصہ دوں ،کل مالیت 1,50,00,000  ہے۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس مال کو سب پر کیسے تقسیم کریں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کے ترکہ میں سب سے پہلا حق تجہیز وتکفین کا ہے ،اس کے بعد کسی پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس  کے بعد اگر اس نے وصیت کی ہو تو ایک تہائی تک وہ پوری کی جائے،اس کے بعد اس کا ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔لہذا اگر ورثہ یہی ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تو مرحوم کے کل ترکے میں سے   بیٹے کوبیٹی کے حصے کا دوگنا دیا جائے گا،لہذا بیٹے کو کل مال میں سے   37,50,000 روپے اور ہر بیٹی کو 18,75,000 روپے ملیں گے۔اگر تاخیر کی صورت میں مالیت بڑھ گئی تو نئی مالیت کا حساب ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامة الألوسي رحمه الله :  )للذكر مثل حظ الأنثيين  )...والمراد أنه يعدّ كل ذكر بأنثيين حيث اجتمع الصنفان من الذكور والإناث واتحدت جهة إرثهما فيضعف للذكر نصيبه كذا قيل، والظاهر أن المراد بيان حكم اجتماع الابن والبنت على الإطلاق.(روح المعاني:426/2)

قال في الهندية :فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن .... وعصبة بغيره وهي كل أنثى تصير عصبة بذكر يوازيها وهي أربعة: البنت بالابن...(الفتاوى الهندية:451/6)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله:ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن.

(الدر المختار:763)

قال العلامة القرطبي رحمه الله : وأجمع العلماء على أن الأولاد إذا كان معهم من له فرض مسمى أعطيه، وكان ما بقي من المال للذكر مثل حظ الأنثيين.(تفسير القرطبي:60/5)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب