03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کاحصہ چھوڑنے کا حکم (میراث کے حصہ سے دست برداری)
86898میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے دادا کے ترکے میں ایک رہائشی مکان اور ایک پلاٹ تھا ،ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کے بیٹے (میرے والد صاحب)نے اپنے والد (میرے دادا) کی وفات کے بعد اپنی بہنوں سے پوچھا کہ اگر وہ حصہ لینا چاہیں تو وہ ان کو حصہ دےدیں،مگر دونوں بہنوں نے کہا کہ انہیں حصہ نہیں چاہیے۔اب میں نے دین کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیادوبارہ ان دونوں بہنوں کو حصہ دینا چاہیے، باوجود اس کے کہ انہوں نے کہا کہ انہیں حصہ نہیں چاہیے اوراب بھی وہ مطالبہ نہیں کر رہی ہیں۔ ابھی میرے والد حیات ہیں اور مکان اور پلاٹ ان کے اختیار میں ہیں۔انہوں نے پلاٹ فروخت کر دیا ہے اور پیسے ان کے پاس ہیں۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ وہ وارثت صحیح طریقہ سے تقسیم کریں ،وہ اس کے بعد خاموش ہو گئے اور شاید وہ حصہ نہیں دیں گے ۔اب کیا میں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے صحیح بات بتا کر؟کیا مجھ پر کوئی وبال تو نہیں ہو گا؟کیونکہ میں اسی گھر میں رہ رہا ہوں؟ ابھی میرے والد حیات ہیں اور گھر ان کے اختیار میں ہے ،میں نے اس بات کی تلقین کی ہے کہ وہ سب کو حصہ دیں ،لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے، اب مجھے اس معاملے میں کیا کرنا چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میراث کے بارے  میں اصل یہ ہے کہ وارث کا اپناحصہ چھوڑدینے سے حصہ میراث ختم نہیں  ہوتا ،تاہم وارث کو اپنا حصہ لینے کے بعداپنی مرضی سے  کسی اور کو دینے کا اختیار حاصل ہے،جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہروارث اپنا حصہ الگ کرکے حاصل کرلے ،پھر جس کودینا چاہے ہبہ کے شرائط کے مطابق دیدے۔چنانچہ بیٹیوں کا حصہ نہ لینےکےباوجود  ان کا حصہ بدستور میراث میں (جو کہ مکان اور پلاٹ کی صورت میں تھا) باقی ہے  اور آپ کے والد پر لازم ہے کہ بہنوں  کو میراث میں ان کا حصہ دیں، چاہے  ان کی طرف سے مطالبہ نہ ہو۔جہاں تک آپ کی بات ہے تو آپ کو چاہیے کہ اپنے والد صاحب کو مناسب انداز سے سمجھانے کی کوشش کریں،تاہم سمجھانے کےباوجود ان کے بہنوں کو حصہ نہ دینے میں آپ پر کوئی گناہ نہیں ہوگا،البتہ اگربعد میں بعینہ یہی مکان  آپ کے قبضہ میں آتا ہےتو پھر آپ پراپنی پھوپھیوں کو ان کے حصہ کے  بقدر ان کا حق دینالازم ہوگا۔

حوالہ جات

ذکرفي تكملة رد المحتار:وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه؛لان ‌الارث ‌جبري لا يصح تركه.(تكملة رد المحتار:8/ 208):

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:لو ‌قال ‌الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك. (الأشباه والنظائر :ص272)

وذکر العلامۃابن عابدین رحمہ اللہ في العقود الدرية:الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط ،وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت.( العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:2/ 26)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

21/شعبان المعظم1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب