| 86568 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
پڑوسی کے گھر میں گیس موجود ہے،اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں اس شرط پر آپ کو گیس فراہم کروں گا کہ ماہانہ بل آپ دیں گے،لیکن پڑوسی سے ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کا میٹر حکومت کاٹ کر لے گئی ہے اور وہ سوئی گیس کے ادارے کے ایک شخص کو ماہانہ فکس رقم دے کر گیس استعمال کررہا ہے، اب ایسے پڑوسی سے گیس لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس شخص کے ذمے لازم ہے کہ گیس محکمے کے متعلقہ دفتر جاکر قانونی طریقے سے اپنا گیس کنکشن بحال کرے،گیس کے استعمال کے بدلے محکمے کے کسی فرد کو ذاتی طور پر دی جانے والی رقم رشوت کے حکم میں ہے اورعام حالات میں رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہے،اس لئے ایسے پڑوسی سے گیس لینا شرعا جائز نہیں۔
حوالہ جات
"القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة "(1/ 401):
"القاعدة: [65] ما حرم فعله حرم طلبه .
الألفاظ الأخرى: يحرم طلب ما يحرم على المطلوب منه فعله.
التوضيح: إن ما حرم أخذه حرم الأمر بالأخذ؛إذ الحرام لا يجوز، ولا يجوز الأمر بفعله، وكذا ما يكره فعله يكره طلبه؛ لأن السكوت على الحرام أو المكروه، والتمكين منه حرام ومكروه، ولا شك أن طلبه فوق السكوت عليه والتمكين منه، فيكون مثله في أصل الحرمة بالأولى، وإن تفاوتت الحرمتان بالقوة. وهذه القاعدة قريبة من قاعدة "ما حرم أخذه حرم إعطاوْه " .
التطبيقات:
الرشوة يحرم أخذها وإعطاؤها، ويحرم أيضاً طلبها من غيره إذا كانت لإحقاق باطل، أو إبطال حق".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


