| 86570 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا والدہ کی جانب سے مجھے دی گئی رقم کے علاوہ بقیہ رقم میں مجھے میراث والا حصہ ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ زندگی میں اولاد میں سے کسی کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کی وجہ سے میراث میں سے حصہ ختم نہیں ہوتا،اس لئے والدہ کے انتقال کے بعداصولی طورپر ان کے ترکہ(متروکہ مال اور جائیداد وغیرہ) میں بقیہ بہن بھائیوں کی طرح آپ کو بھی آپ کا حصہ ملے گا۔
تاہم چونکہ والدہ نے زندگی میں ہی ایک خطیر رقم آپ کو ہبہ کردی تھی،اس لئے آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ مرحوم والدہ کے ترکہ میں سےاپنا پورا حصہ لینے کے بجائے کوئی چھوٹی(کم قیمت) چیز لے کر اپنے بقیہ حصے سے دستبردار ہوجائیں،لیکن ایسا کرنا آپ پر لازم نہیں،اگر آپ اپنی خوشی سے ایسا نہ کرنا چاہیں تو بقیہ ورثا آپ کو اس پر مجبور نہیں کرسکتے۔
حوالہ جات
....
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


