03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی جانب سے ہبہ کی وجہ سے میراث کا حق ختم نہیں ہوتا
86570میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا والدہ کی جانب سے مجھے دی گئی رقم کے علاوہ بقیہ رقم میں مجھے میراث والا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ زندگی میں اولاد میں سے کسی کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کی وجہ سے میراث میں سے حصہ ختم نہیں ہوتا،اس لئے والدہ کے انتقال کے بعداصولی طورپر ان کے ترکہ(متروکہ مال اور جائیداد وغیرہ) میں بقیہ بہن بھائیوں کی طرح آپ کو بھی آپ کا حصہ ملے گا۔

تاہم چونکہ والدہ نے زندگی میں ہی ایک خطیر رقم آپ کو ہبہ کردی تھی،اس لئے آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ مرحوم والدہ کے ترکہ میں سےاپنا پورا حصہ لینے کے بجائے کوئی چھوٹی(کم قیمت) چیز لے کر اپنے بقیہ حصے سے دستبردار ہوجائیں،لیکن ایسا کرنا آپ پر لازم نہیں،اگر آپ اپنی خوشی سے ایسا نہ کرنا چاہیں تو بقیہ ورثا آپ کو اس پر مجبور نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

....

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب