| 86906 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک ہاسٹل میں رہتا ہوں، میرے ساتھ میرے کمرے میں دو اور لڑکے رہتے ہیں جو کہ میرے دوست ہیں۔ وہ دونوں الگ الگ کمپنیوں میں کام کرتے ہیں اور ان میں سے ایک لڑکا ایک بیرون ملک کی کمپنی میں فراڈ کرتا ہے۔ اس فراڈ کی نوعیت اس طرح ہے کہ جیسے پاکستان میں موبائل نیٹ ورک کمپنیاں اپنے کسٹمرز کو موبائل فون دیتی ہیں، انگلینڈ میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ کمپنی والے اپنے کسٹمرز کو موبائل فون دیتے ہیں اور پھر یہاں سے ان کو کال کر کے لالچ دیتے ہیں کہ ہم آپ کو گفٹ دیں گے اور آپ کے اوپر لگا دیں گے، لیکن حقیقت میں وہ دھوکے سے ان کے ایڈریس پر موبائل بھیج دیتے ہیں اور پھر دھوکے سے وہ موبائل واپس منگوا لیتے ہیں۔
دوسری طرف، جو دوسرا لڑکا ہے، وہ امریکہ میں فراڈ کرتا ہے اور اپنی کمپنی کے ذریعے امریکی لوگوں کو سروس کالز کے ذریعے لالچ دیتا ہے، اور بعد میں ان سے دھوکے سے پیسے لے لیتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم کبھی کبھار اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور کبھی کبھار وہ لڑکے پیسے دے دیتے ہیں اور کبھی کبھار میں دے دیتا ہوں۔ تو اگر وہ پیسے دے دیں تو کیا میرے لیے کھانا جائز ہوگا؟ اگر وہ مجھے کوئی چیز دیں تو کیا وہ میرے لیے جائز ہوگی؟ کیا مجھے اس چیز کی قیمت کا صدقہ کرنا لازمی ہے یا میں ویسے ہی استعمال کر سکتا ہوں؟ برائے کرم جواب ارشاد فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر وہ ساتھی اسی حرام آمدن سے ہدیہ دیتےاورکھاناکھلاتے ہیں تو کھانااورہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ۔اگر حلال وحرام مخلوط سے دیتے ہیں تو اگر ان کی جائزآمدن غالب ہے تو پھر گنجائش ہے۔
حوالہ جات
فی المحيط البرهاني :وفي عيون المسائل : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه. (المحيط البرهاني :5/ 367)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمه الله:في الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله والإثم على الزوج. (رد المحتار :5/ 98)
في الفتاوى الهندية :أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار. (الفتاوى الهندية :5/ 342)
في الفتاوى الهندية :آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.( في الفتاوى الهندية :5 / 343)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/21 شعبان ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


