| 85393 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام شاداب علی ہے۔ میرے اپنے پڑوسی یوسف سلمان اور ان کے بیٹے ابراہیم کے ساتھ گزشتہ دو سال سے کچھ مسائل چل رہے ہیں۔ ان مسائل کے بارے میں مجھے ایک فتویٰ مطلوب ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنے پڑوسی کو دکھا سکوں، اور خود بھی اس پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکوں۔ ساتھ ہی ساتھ ظلم سے بچ سکوں اور اپنے پڑوسی کے ظلم کا شکار نہ بنوں اور نہ ہی خود ان پر ظلم کا مرتکب بنوں۔
یکم اکتوبر 2012 کو میرے گھر میں تعمیراتی کام جاری تھا، لیکن رقم کی کمی کی وجہ سے میں نے کام روک دیا اور دونوں طرف کے دروازے لگا کر تالا لگا دیا۔ اس دوران، یوسف سلمان کے گھر سے سولر پلیٹ چوری ہو جاتی ہے، اور وہ بغیر اجازت میرے گھر کے زینے کو توڑ دیتے ہیں۔ میرے اعتراض پر انہوں نے کہا کہ چور نے آپ کا زینہ استعمال کیا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ زینہ نہ توڑیں،دونوں طرف کے دروازے بندتھے توپھرچورکیسے آگیا،آپ چاہیں تو زینہ کے ٹاپےاتارکررکھ دیں،جب میں دوبارہ کام شروع کرونگا تو اسے ٹھیک کروا لوں گا، مگر انہوں نے پھر بھی زینہ توڑ دیا۔ سوال یہ ہے کہ
کیا یوسف سلمان سے زینہ توڑنے کا ہرجانہ لینا میرے لیے شرعاً جائز ہے؟ اور کیا ان پر لازم ہے کہ وہ میرا نقصان پورا کریں؟(نوٹ: اس سلسلے میں درخواست 11/10/2012 کو معمار تھانہ میں جمع کرائی گئی ہے)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں، آپ اپنے پڑوسی یوسف سلمان سے ٹوٹی ہوئی سیڑھی کا معاوضہ مارکیٹ میں اس جیسی سیڑھی کی موجودہ قیمت کے حساب سے لے سکتے ہیں۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 367)
قال (ومن كسر لمسلم ....طبل الغزاة والدف الذي يباح ضربه في العرس يضمن بالإتلاف من غير خلاف.
المبسوط للسرخسي (11/ 51)
بدأ محمد الكتاب بحديث ابن سيرين عن شريح رحمهما الله قال: من كسر عصى فهي له، وعليه مثله، وذكر بعده عن الحكم عن شريح قال: من كسر عصى فهي له، وعليه قيمتها.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 321)
وما لا يكون له مثل كامل فعليه مثله القاصر وهو القيمة فينتظم المقام بلا كلفة، قال في الكافي بعد ذكر مسألتنا هذه: وقال مالك: يضمن مثله صورة من جنس ذلك لما تلونا. ولنا ما روي عن شريح: " من كسر عصا فهي له وعليه قيمتها " وهي المراد بالمثل المذكور في النص اهـ.
البناية شرح الهداية (13/ 39)
فإذا قتله حر غرم قيمته مائة؛ لأنه تعتبر قيمته يوم الإتلاف في ضمان الإتلاف؛ لأن الجابر بقدر الفائت وأخذه المرتهن؛ لأنه بدل المالية.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١١/۵/۱۴۴٦ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


