03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکومت کی طرف سےبیوی کے نام جاری ہونے والی رقم سے حاصل کردہ مکان میں بیٹوں کا جھگڑا
84324تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرانام ساجدہ ہے،جب میرے پہلے شوہرکا انتقال ہوا تو میرے ان سے دو بچے تھے: ایک بیٹا اورایک بیٹی،میرے مرحوم شوہر نیوی میں ملازم تھے،ان کے انتقال کے بعد حکومت کی طرف سے صرف میرےنام پر کچھ پیسے ملے جن سے میں نے ایک مکان (65000کا)خریدا۔

پھر میری شادی امتیاز نامی شخص سے ہوئی جوکہ میرے موجودہ شوہرہیں،نکاح کے بعد ہم نے مذکورہ مکان (110000)میں فروخت کیااورمیری یہ رقم امتیازکے پاس تھی پھراس رقم میں سے اس نے (85000)میں ایک اورمکان میرے لیےخریدااورباقی 25ہزارروپےان کے پاس میرے باقی بچے،امتیاز نے اس مکان کے ایک کمرے کا پلاسٹرکروایا اورگیس وبجلی کا میٹرلگوایا۔

دوسرے شوہرامتیاز سےمیرا ایک بیٹا ہوا اورپھر یہ مکان بھی ہم نے (290000)میں فروخت کردیا۔

پھر ایک تیسرامکان (390000)میں خریدا جس میں سے 290000 تومیرے پہلے مکان کے تھے اورمزید ایک لاکھ میرے دوسرے شوہر امتیازنے ملائے۔

پھر امتیازنے اس مکان پر دوسرا مکمل پورشن بنوایا،اوراس کو کرایہ پر دیا اورفیکٹری بھی اس میں رہی، جبکہ نیچے ہماری رہائش تھی ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ میرےبڑے بیٹے ذیشان جوکہ پہلے شوہرسے ہیں اوردوسرے شوہر امتیاز کے درمیان  اس گھر میں حق کے حوالے سے اختلافات شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے گھرمیں لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں،آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں ہمارے جھگڑے ختم کرائیں اوریہ بتائیں کہ

١١۔ اس تیسرے گھر میں کس  کا  کتنا حصہ بنتا ہے؟

۲۔ میرےبڑےبیٹے ذیشان نے جو فیملی کےساتھے الگ رہتاہے مجھے دوسرے شوہرامتیازسے ملنے سے روک رکھاہے، جبکہ ہم میاں بیوی اکھٹے رہنا چاہتے ہیں،بتائیں کہ ان کےلئے ایسا کرناشرعاًصحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۔آپ کےپہلے شوہرکے فوت ہونےکے بعد جو رقم حکومت کی طرف سےصرف آپ کے نام جاری ہوئی تھی وہ صرف آپ کی تھی، اس میں آپ کے بیٹے ذیشان کا کوئی حق نہیں،لہذا اس سےجو پہلامکان،پھر دوسرامکان خریداگیاتھا وہ صرف آپ کا تھا مذکورہ بیٹےکا اس میں حق نہیں تھا اورپھرجب اس کو بیچ کر تیسرامکان خریدا گیا تو اس میں جتنی رقم آپ کی لگی ہے(290000) اتنا حصہ آپ کا ہے،اس میں آپ کے بیٹے ذیشان کاکوئی حق نہیں اورجتنی رقم آپ کے دوسرے شوہر امتیاز کی لگی ہے اتنا حصہ اس کا ہےاس میں بھی ذیشان کا کوئی حق نہیں،پھراس پر امتیاز نےجو دوسرا پورشن اپنے لیےتعمیر کیا ہے وہ صرف اس کا ہے،اس میں بھی ذیشان کا کوئی حق نہیں،خلاصہ یہ ہے کہ اس پورے مکان میں آپ کی زندگی میں آپ کے پہلے بیٹے ذیشان کا کوئی حق نہیں ہے، والدین کی حیات میں میں اولاد کاان کے مال میں کوئی حق نہیں ہوتا، لہذا اس کا آپ کے دوسرے شوہر امتیاز کے ساتھ اس مکان میں حق کے حوالے سے لڑنا،جھگڑنا جائزنہیں ہےکیونکہ اس  کااس مکان میں سرےسے کوئی حق ہی نہیں جس کےلیے وہ جھگڑاکرے۔

۲۔آپ کےبڑےبیٹے ذیشان کےلیے آپ کو دوسرے شوہرامتیازسے ملنے سے روکنا ہرگزجائزنہیں ہے، بیوی کو خاوندسے روکنا اوران کے درمیان تفریق ڈالنا سخت گناہ ہے،لہذا ذیشان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے صدقِ دل سے توبہ واستغفارکرے،حق کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے اوروالدہ کو شوہر کے پاس بھیج کرجھگڑا ختم کردے،امتیاز صاحب کو بھی چاہیےکہ وہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے اوردرگزرسے کام لیتے ہوئے لڑائی جھگڑے کوختم کرے،حدیث میں آتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ:”میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں گھر دیے جانے کی ضمانت لیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے بالائی حصے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اچھےاخلاق کا مالک بن جائے“۔(السنن الكبرى للبيهقي 10/ 420)

حوالہ جات

وفی امداد الفتاوی :

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔‘‘(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

وفی البحرالرائق:

الإرث يثبت بعد موت المورث.(البحرالرائق، كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)

وفی الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 219)

كل من بنى في أرض غيره بأمره ة فالبناء لمالكها.

فی رد المحتار(6/747سعید):

کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لآمرہ ولولنفسہ بلاأمرہ فھولہ ولہ رفعہ.

وفيه أيضا :

(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.أقول: وفي فتاوى قارئ الهداية: وإن وقع البناء في نصيب الشريك قلع وضمن ما نقصت الأرض بذلك اهـ

وفی  سنن أبي داؤد

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منا من خبب امرأة على زوجها، أو عبدا على سيده."(ج:2، ص: 254،ط:دار الكتب العلمية)

وفی القرآن الکریم[الإسراء : 23 ، 24]:

{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا}

وفی مشكاة المصا بيح(2/ 419):

وعن عبد الله بن عمرو رضي الله تعاليى عنهما قال : قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:رضي الرب في رضي الوالد ،وسخط الرب في سخط الوالد۔

وفی السنن الكبرى للبيهقي (10/ 420):

عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا , وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا , وببيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه "

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

16/01/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب