03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کی قسم کی ایک خاص صورت کاحکم (اگر میری بہن کا گھر نہ بسا تو آپ کی بیٹی کو تین طلاق)
84295طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں نے کچھ الفاظ کہے ہیں جس سے پہلے سیاق و سباق بتانا ضروری سمجھوں گا، میری اہلیہ کی خالہ کی ایک جگہ سے طلاق ہوئی وہیں پر پھرمیری بہن کا رشتہ ہوا،میری ساس اور اہلیہ بلکہ سارا سسرال اس بات پر رضامند نہیں تھا،میری ساس میرے ہونے والے بہنوئی (جس نے میری اہلیہ کی خالہ/ساس کی بہن کو طلاق دی تھی) کی بہن (جو میری بیوی کی نند ہے) کے ساتھ گھاس کاٹنے کے لیے جایا کرتی تھی اور اس کے کان بھرا کرتی تھی جس سے میری بہن کا رہنا محال ہو گیا تھا،اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں ایک دن بہت زیادہ جذباتی ہوگیااوراپنے سسرچچا کواپنے ساس کی چالوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک قسم اٹھائی،میں اپنے الفاظ جو پنجابی میں کہے تھے کو اردو میں دہراتا ہوں "چاچا جان! میری چاچی/ساس میری بہن کی جڑیں کاٹ رہی ہے اور اگر میری بہن کا گھر نہ بسا تو آپ کی بیٹی کو تین طلاق" اس کےبعدان حضرات کی یعنی میرے سسرال کی مداخلت کم ہو گئی، البتہ میری بہن کے سسرال والے خود بھی اچھے لوگ نہیں تھے اور انہوں نے میری بہن کا جینا بہت ہی مشکل کر دیا ہے،تو اب ان حالات کی وجہ سے مجھے ان سے بہن کیلئے طلاق لینے پڑ رہی ہے،لیکن اس میں میرے سسرال کا بالکل دخل نہیں ہے،تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہےکہ

کیا اس صورت میں بھی میری بیوی کو تین طلاق ہو جائیں گی؟ حالانکہ وہ علت موجودنہیں ہے جس کی وجہ سے میں نے یہ قسم اٹھائی تھی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بات کرتے وقت اگر واقعةً آپ کی مراد آپ کی سسرال کی وجہ سے بہن کے گھر کا نہ بسنا تھا اوراس پر آپ قسم بھی اٹھاسکتے ہیں توپھرکسی اوروجہ سے جیسےکہ بہن کی سسرال والوں کی رویہ کی وجہ سےبہن کی طلاق لینے سے آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ جس چیز پر طلاق معلق تھی وہ نہیں پائی گئی۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية  (1 / 420):

"إذا أضاف الطلاق  .... إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا".الفصل الثالث في تعليق الطلاق،  ج:1، ص:420، ط:مكتبه رشيديه.

وفی الشامیة:

"الأصل أن الأيمان مبنية عند الشافعي على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على الاستعمال القرآني، وعند أحمد على النية، وعندنا على العرف ما لم ينو ما يحتمله اللفظ فلا حنث في لا يهدم إلا بالنية فتح

(قوله فلا حنث إلخ).....فالوجه فيه إن كان نواه في عموم قوله بيتا حنث وإن لم يخطر له فلا لانصراف الكلام إلى المتعارف عند إطلاق لفظ بيت فظهر أن مرادنا بانصراف الكلام إلى العرف إذا لم تكن له نية، وإن كان له نية شيء واللفظ يحتمله انعقد اليمين باعتباره اهـ وتبعه في البحر وغيره"

(کتاب الایمان، باب الیمین فی الدخول و الخروج  ج نمبر ۳ ص نمبر ۷۴۳،ایچ ایم سعید)

وفی المبسوط للسرخسي (7/ 82):

وبدون نيته إنما لم ندخله للعرف فإن المملوك اسم للعبد الكامل عرفا، وقد سقط اعتبار هذا العرف حين نوى بخلافه.

وفیہ أیضاً (8/ 178):

ولو حلف لا يأكل شواء، ولا نية له، فهو على اللحم خاصة ما لم ينو غيره؛ لأن الناس يطلقون هذه اللفظة على اللحم عادة دون الفجل والجزر المشوي، ألا ترى أن الشواء اسم لمن يبيع اللحم المشوي، فمطلق لفظه ينصرف إليه للعرف، إلا أن ينوي كل ما يشوى من بيض أو غيره، فتعمل نيته.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/1/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب