03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یتیم پوتوں کی وراثت اور کفالت کاحکم
85485میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ ایک عورت ہے،اس کے چار بچے ہیں،شوہر کا انتقال ہو چکا ہے،شوہر کی کوئی جائدادنہیں،ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا،اس کے چار بچے ہیں،دادا دادی بولتے ہیں کہ باپ کی موجودگی میں بیٹا فوت ہو جائے توپو تا وراثت سے محروم ہو جاتا ہے،اب سسرال والےعورت کو گھر سے نکال رہے ہیں،کہتے ہیں کہ آپ کے بچوں کا اس گھر میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی آپ کا،آپ یہاں سے چلی جائیں،آیا اسلام کی رو سے ان کا اخلاقی فریضہ یہ نہیں بنتا کہ یتیم کی کفالت کریں اور ان کو رہنے کے لیے ٹھکانا دیں؟ بیچارے کہاں جائیں؟ میکے والے بھی اس سے نہیں پوچھتے تو اس کے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں جواب تحریر فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رکھیں کہ پوتا علی الاطلاق دادا کی وراثت سے محروم نہیں ہوتا،بلکہ جب پوتے کے ساتھ اس کا چچاموجود ہو تواس خاص صورت میں پوتا اپنے دادا کی میراث سے محروم ہوتا ہے،اسی طرح پوتی علی الاطلاق دادا کی میراث سے محروم نہیں ہوتی بلکہ ایک سے زائد صورتیں ایسی ہیں جن میں پوتیوں کو دادا کی وراثت سے حصہ ملتا ہے،چونکہ سوال کے مطابق ابھی دادا زندہ ہیں تو یہاں پوتے پوتیوں کی وراثت کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔رہی بات یتیم بچوں کی کفالت یعنی مالی ضروریات کی تو اس حوالے سے یہ تفصیل ہے کہ یتیم خواہ رشتہ دار ہو یا رشتہ دار نہ ہو دونوں صورتوں میں اس کا خیال رکھنا،اس کی ضروریات کا انتظام کرنا بہت بڑے ثواب کے حصول کاذریعہ ہے،پھر جب وہ رشتہ دار بھی ہو تو شریعت کا صلہ رحمی کا حکم بھی متوجہ ہوجاتا ہے،جبکہ مذکورہ صورت میں تو وہ سگے بیٹے کی اولاد ہیں تو بطریق اولی ان یتیم بچوں کی ضروریات کا انتظام دادا کو اپنی استطاعت کے مطابق بہرحال کرنا چاہیے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں یتیم بچوں کے دادا اور چچا وغیرہ کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے یتیم پوتے پوتیوں یا بھتیجے بھتیجیوں کی ضروریات کا انتظام اپنی استظاعت کے مطابق لازمی کریں اور یتیم کی کفالت کے ثواب کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی کے ثواب کے بھی مستحق ٹہریں۔اس حوالے سے چند آیات واحادیث ملاحظہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ نےسورۃ الماعون میں قیامت کو جھٹلانے والوں کی دوبڑی علامتیں بیان کی ہیں:

(الف) یتیموں کو دھکے دینا (ب) مساکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دینا

أ{أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (1) فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (2) وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (3)} [الماعون: 1 - 3]

"کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے ۔ سو وہ ، وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور (محتاج اور مسکین ) کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا "۔

اسی طرح دنیا میں انسانوں کی ذلت و رسوائی کے چار اسباب سورۃ الفجرمیں مذکور ہیں ، دو کرنے کے کام ہیں پر لوگ کرتے نہیں اور دو نہ کرنے کے کام ہیں لیکن وہ ضرور کرتے ہیں :

( ١ )   یتیم کا اکرام نہیں کرتے جبکہ یہ کرنے کا کام ہے۔

( ٢ )  مساکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے جب کہ ان کے ذمہ یہ ترغیب دینا لازم ہے ۔

( ٣ )  پوری میراث پر قبضہ کرتے ہیں جب کہ ان کے ذمہ میراث کو تمام ورثاء پر تقسیم کرنا لازم ہے۔

( ٤ )  مال سے بے انتہاء محبت کرتے ہیں جبکہ ان کے ذمہ لازم تھا کہ مال سے شدید محبت نہ کرتے۔

{كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ (17) وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (18) وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا (19) وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (20) } [الفجر: 17 - 21]

"بلکہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہو اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے،اور میراث کا مال سارا سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو ''

ایک روایت میں آتا ہے کہ:

"مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہواور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جارہا ہواور مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیاجارہا ہو"۔

الأدب المفرد لمحمد البخاري (ص: 61)

 حدثنا عبد الله بن عثمان قال أخبرنا سعيد بن أبى أيوب عن يحيى بن سليمان عن بن أبي عتاب عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يحسن إليه وشر بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يساء إليه أنا وكافل اليتيم في الجنة كهاتين يشير بإصبعيه .

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے"(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی)۔

صحيح البخاري ـ م م (7/ 35)

5304 - حدثنا عمرو بن زرارة أخبرنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن سهل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا وكافل اليتيم في الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما شيئا.

ایک طویل حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:"مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہےجو مسکین،یتیم اور مسافر کو دیا جائے"۔

صحيح البخاري ـ م م (2/ 121)

وإن هذا المال خضرة حلوة فنعم صاحب المسلم ما أعطى منه المسكين واليتيم وابن السبيل أو كما قال النبي صلى الله عليه وسلم.

ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ:"جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہویا عمر کی درازی چاہتا ہوتو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے"۔

صحيح البخاري (2/ 728)

 1961 - حدثنا محمد بن أبي يعقوب الكرماني حدثنا حسان حدثنا يونس حدثنا محمد عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من سره أن يبسط له في رزقه أو ينسأ له في أثره فليصل رحمه.

ایک اور روایت میں فرمایا کہ :"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے"۔

صحيح البخاري ـ م م (8/ 32)

ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليصل رحمه.

حوالہ جات

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۱۳.جمادی الاولی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب