03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کے لیے ہدایات
88103وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

درج ذیل ہدایات اگر درست ہوں تو براہِ کرم ان کی تائید فرمائیں، اور اگر اصلاح کی ضرورت ہو تو اصلاح فرمائیں تاکہ مسجد میں انہیں آویزاں کیا جا سکے۔

اطلاع عام و ہدایات برائے خاص و عام

 ١۔جامع مسجد نیاز ایک ر جسٹرڈ ادارہ ہے، اور ایک رجسٹرڈ ادارے کے ماتحت اس کی دیکھ بھال ہوتی ہے۔

۲۔ مسجد کی چیزیں وقف للہ ہوتی ہیں۔ ان کا استعمال مسجد کی کمیٹی کی اجازت کے بغیر کرنا مکروہ اورناجائز ہے۔

 ۳۔مسجد میں بغیر اجازت کسی چیز کار کھنا جیسا کہ کوئی کتاب یا کسی خاص ذہنی ،مذہبی ،ملکی اشاعت یاکوئی اورچیزیالٹریچرکو رکھنا سختی سے منع ہے۔

 ۴۔ چھوٹے بچوں کو جنہیں پاکی ناپاکی کا علم نہ ہومسجد میں لانا ممنوع ہے۔سات سال سے کم  بچوں کو بڑوں کی  نگرانی میں آدب کے ساتھ لائیں۔ بچوں کو بڑوں کی صف میں کھڑا کرنا مکروہ ہے۔

۵۔ مسجد انتظامیہ کی تحریری اجازت کے بغیر کسی فردیاادارے یاتنظیم کا درس دینا یا تقریر یاکسی قسم کا چندہ  جمع کرنا یا تحریری مواد تقسیم کر ناسخت منع ہے۔

 ٦ جامعہ مسجد نیاز میں تبلیغی جماعت کے افراد کو شرعی آداب کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہے۔

۷مسجد ہذا سے گمشدہ اشیاء یا افراد وغیرہ کےلیے اعلان کرنامنع ہے۔

۸۔اما م صاحب اورمؤذن صاحب کا اوقات ِنما زمیں موجود ہونا ضروری ہے ،مجبوری کی وجہ سے تاخیر کی صورت میں مقتدی حضرات پر لازم ہے کہ تین چار منٹ انتظارکریں اورمڑمڑکردیکھنایا امام صاحب سے پہلے صف بنانامکروہ ہے۔

 ۹۔ امام صاحب کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو امامت یا اقامت کرنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ اماام موذن موجوہودہوں

١۰۔ مسجد کے استعمال کی اشیاء مثلا کولر کا پانی یا سادہ پانی یا کوئی اور چیز مسجد سے باہر لے جانا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے۔

١١۔ مسجد میں ذاتی حاجات کے حصول کے لیے سوال کرنا حرام ہے اور دینا نا جائز اور مکر وہ عمل ہے۔

١۲- مسجد میں جاندار کی تصاویر ، نکاح کے موقع پر مووی اور تصاویر بنانا سختی سے منع ہے۔

١۳۔ مشورہ یا مسجد کے حوالے سے احسن تجاویزمسجد انتظامیہ کو تحریری طور پر دیں۔

١۴۔ مقتدی حضرات سے التماس ہے کہ مسجد انتظامیہ کی تحریری طور پر دی گئی ہدایات کی سختی کے ساتھ پابندی کریں۔

١۵۔ امام یا موذن سے کسی قسم کی شکایت کی صورت میں صرف انتظامیہ سے رجوع کریں۔ امام و موذن کے ساتھ بالمشافہ بحث کی قطعا اجازت نہیں۔

١٦۔ مسجد کی حدود یا باہر دیوار پر کسی بھی قسم کا اشتہار لگا نا سختی سے منع ہے۔

١۷۔ حفاظت کے پیش نظر مسجد کا گیٹ ، وضو اور استنجا خانہ اذان کے بعد سے لیکر نماز کے بعد صرف 30 منٹ تک کھلے رہے گا۔

١۸۔ مسجد میں سونا یاد نیادی باتیں کر ناشر عا  منع ہے۔ اس لیے جب نماز کے لیے وقت نکالا ہی ہے تو اسے ذکر و عبادت میں ہی صرف کیا جائے۔

١۹۔ مغرب کی نماز اذان کے ٹھیک 2 منٹ بعد ادا کی جائیگی۔

۲۰۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اس کو شور و غل اور غیر ضروری حرکات سے پاک رکھیں۔ مسجد کی اشیاء کا خیال کریں۔ اور کسی بھی شخص کی مشکوک حرکات کےبارےمیں انتظامیہ کو فوری مطلع کریں۔

۲١۔ مسجد کی لائیٹیں، پنکھیں ، موٹر وغیرہ ضرورت کے تحت چلائے جا ئیں اور ان کی ذمہ داری مؤذن / خادم صاحب کی ہے۔ نمازی حضرات سے گذارش ہے کہ اپنے طور پر انھیں چلانے سے گریز کریں اور ضرورت کے تحت موذن / خادم صاحب سے رجوع کریں۔مسجد کمیٹی ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بعض امور کو چھوڑ کر، مجموعی طور پر یہ ہدایات شریعت کے دائرے میں آتی ہیں اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم، چند نکات میں وضاحت اور توازن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ذیل میں جامع مسجد نیاز کے لیے ایک متوازن، شریعت کے مطابق، واضح اور باوقار ہدایات نامہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں شرعی اصول، آدابِ مسجد، اور انتظامی ضوابط کو احسن انداز میں یکجا کیا گیا ہے۔

اطلاعِ عام و ہدایات برائے خاص و عام

جامع مسجد نیاز ایک مقدس مقام اور دینی مرکز ہے، جو ایک معتبراوررجسٹرڈ ادارے کے زیرِ انتظام ہے۔ مسجد میں نظم و ضبط، ادب، پاکیزگی اور شریعت کے احترام کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان ہدایات پر عمل مسجد کے وقار، امن اور روحانی ماحول کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

١۔ مسجد کی حیثیت اور نگرانی

مسجدنیاز وقفِ عام  ہے اور اس کی دیکھ بھال باقاعدہ ایک رجسٹرڈادارےکی تحت کی جاتی ہے۔لہذا مسجدکی  اشیاء اموروقف کے علاوہ ذاتی استعمال میں لانے،نتظامیہ کے وضع کردہ قواعدسےہٹ کراستعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

۲۔مسجد کی اشیاء کا استعمال

مسجد کی اشیاء جیسے پانی کا کولر، کتابیں، فرش، پنکھے وغیرہ صرف مسجد کے اندر استعمال کے لیے ہیں۔ انہیں مسجد سے باہر لے جانےکی شرعابھی اورمسجد انتظامیہ کی طرف سے بھی اجازت نہیں ہے۔

۳۔ ذاتی یا غیر مجاز اشیاء رکھنا

مسجد میں بغیر اجازت کوئی بھی چیز افادہ عام کےلیےرکھنا منع ہے، جیسے کتاب، پمفلٹ، اشتہار، یا کوئی دینی، سیاسی یا ذاتی اشاعت۔ یہ عمل خلافِ نظم ہے۔

۴۔ چھوٹے بچوں کی آمد

سات سال سے کم عمرایسے چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہ لایا جائے جنہیں طہارت  اورآداب مسجدکا شعور نہ ہو۔ سات سال سے زائد عمرکے بچوں کوبھی صرف  بڑوں کی نگرانی میں، آداب سکھا کر لایا جائے۔ بچوں کو بڑوں کی صف میں کھڑا کرنے کی بجائے صف کے کنارے یا علیحدہ صف میں کھڑا کیا جائے،تاہم اگربچے الگ گھڑے ہونے کی صوت میں مسجد میں شوروغل کریں توپھرانہیں اپنے ساتھ صف میں کھڑاکرنازیادہ بہترہے۔

۵۔ تقریر، درس یا چندہ جمع کرنا

انتظامیہ کی اجازت کے بغیر مسجد میں تقریر، درس، چندہ جمع کرنا یا تحریری مواد تقسیم کرنا سختی سے منع ہے۔

٦۔ تبلیغی جماعت کی آمد

تبلیغی جماعت کو شرعی آداب کے ساتھ مسجد میں قیام اور کام کی اجازت ہے۔

۷۔گمشدہ اشیاء کے اعلانات

مسجد میں گمشدہ اشیاء یا افراد کے بارے میں اعلان کرنا ممنوع ہے۔

۸۔ امام و مؤذن کی حاضری

امام و مؤذن کا وقت پر موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے تاخیر ہو تو مقتدی حضرات تین سے چار منٹ انتظار کریں۔ امام کے آنے سے پہلے صف بنانا یا بار بار مڑ کرگھڑی یا امام کے راستے کو دیکھنادرست طرزِ عمل نہیں ہے۔

۹۔امامت و اقامت کا نظم

جب امام و مؤذن موجود ہوں تو بغیر اجازت کسی اور کو امامت یا اقامت کہنے کی اجازت نہیں ہے۔

١۰۔ مسجد میں سوال (بھیک مانگنا)

مسجد میں ذاتی ضروریات کے لیے سوال کرنا شرعاً ناپسندیدہ اور بعض اوقات حرام  عمل ہے۔ نمازی حضرات کاایسے افراد کو کچھ دینا بھی  درست نہیں ہے۔

١١۔ تصاویر اور ویڈیوز

مسجد میں جانداروں کی تصاویر بنانا یا نکاح کے موقع پر ویڈیو ریکارڈنگ کرنا سختی سے ممنوع ہے۔

١۲۔ مشورہ یا تجاویز

مسجد کے متعلق کوئی بھی تجویز یا مشورہ تحریری طور پر انتظامیہ تک پہنچائیں۔ زبانی یا عوامی مباحثے سے اجتناب کریں۔

١۳۔ امام و مؤذن سے شکایت کا طریقہ

اگر امام یا مؤذن سے کوئی شکایت ہو تو صرف انتظامیہ سے رجوع کریں۔ امام و مؤذن سے براہِ راست بحث کرنے کی اجازت نہیں۔

١۴۔ اشتہارات

مسجد کی دیواروں یا حدود کے اندر کسی بھی قسم کا اشتہار چسپاں کرنا سختی سے ممنوع ہے۔

١۵۔ وضو و استنجا خانے کا وقت

حفاظتی تدابیر کے تحت مسجد کا کیٹ وضو خانے اور استنجا خانےاذان اور نماز کے بعد صرف 50 منٹ تک کھلے رہیں گے۔

١٦۔ مسجد میں سکون اور ادب

مسجد میں نیند، فضول گفتگو یا شور شرابہ کرناشرعاً منع ہے،لہذا جب مسجد میں ہوں تواپنے وقت کو ذکر، تلاوت اور عبادت سے قیمتی بنائیں۔

١۷۔ نمازِ مغرب کا وقت

نمازِ مغرب اذان کے ٹھیک دو منٹ بعد ادا کی جائے گی۔

١۸۔ مسجد کی حرمت اور حفاظت

مسجد اللہ کا گھر ہے، اسے غیر ضروری حرکات، شور و غل اور بے ادبی سے پاک رکھیں۔ اگر کسی شخص کی مشکوک حرکات

نظر آئیں تو فوراً انتظامیہ کو اطلاع دیں۔

١۹۔ بجلی و دیگر سہولیات

مسجد کی لائٹس، پنکھے، موٹر وغیرہ صرف ضرورت کے وقت استعمال کیے جائیں گے۔ ان کےآن،آف کرنےکی ذمہ داری مؤذن یا خادم پر ہے۔ نمازی حضرات ان کی موجودگی کی صورت میں  از خود انہیں آن،آف کرنے سے گریزکریں۔

۲۰۔خلافِ شریعت بات کی نشاندہی

اگر ان ہدایات میں کوئی بات خلافِ شریعت محسوس ہو تو براہِ کرم انتظامیہ کو تحریری طور پر مطلع کریں تاکہ بروقت اصلاح کی جا سکے۔

حوالہ جات

.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 18/01/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب