| 88110 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام مریم سعید جدون بنت سعید اعظم ہے۔ میرا نکاح فلان بن فلان سے ہوا تھا، مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اورنہ ہی خلوت صحیحہ ہوئی ہے۔ نکاح کے بعد میرے شوہر نے کئی بار مجھ سے کہا:"تم آزاد ہو"،"میں نے تمہیں چھوڑ دیا"،"جہاں چاہو رشتہ تلاش کرو"،"آج کے بعد مجھے اپنی شکل مت دکھانا"۔اس کے بعد میں نے عدالت سے رجوع کیا، اور وہاں سے مجھے خلع کی ڈگری بھی مل گئی ہے۔اب آپ مفتیانِ کرام سے قرآن و سنت کی روشنی میں گزارش ہے کہ میری راہنمائی فرمائیں:
- کیا میری طلاق ہو چکی ہے؟
- کیا میں دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیار ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
﴿١،۲﴾۔ واضح رہے کہ جب عورت غیر مدخول بہا ہوتی ہے تو اس کو صریح الفاظ میں طلاق دینے سے بھی طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے۔ اس کے حق میں صریح اور بائن، دونوں قسم کے الفاظ یکساں مؤثر ہوتے ہیں۔
مسئولہ صورت میں، جب شوہر نے پہلی مرتبہ بائن لفظ (جیسے "آزاد" وغیرہ) بِنِیَّت، یا صریح لفظ (جیسے "میں نے تمہیں چھوڑ دیا") بِنِیَّت، یا بِغَیر نیَّت بولا، تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے۔اور چونکہ وہ عورت غیر مدخول بہا ہے، اس لیے اس پر عدت نہیں، لہٰذا اس کے بعد دی جانے والی کوئی دوسری طلاق لاحق نہیں ہوئی۔لہٰذا، اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، اور باقی الفاظ اورعدالتی خلع کی ضرورت نہیں۔مذکورہ عورت بلا شبہ مُطَلَّقَہ ہے، اور کہیں بھی کُفْو کے اندر، اور بِاذنِ ولی غیر کُفْو میں اپنا نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
وفی الھندیة:
"إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق۔"(کتاب الطلاق،الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول:ج،1:ص،373:ط،رشیدیہ)
وفی الدر المختار:
(وإن فرق) بوصف أوخبر أوجمل بعطف أوغیرہ (بانت بالأولی) لا إلی عدۃ …… (وکذا أنت طالق
ثلاثا متفرقات ) أو ثنتین مع طلاقي إیاك (ف) طلقها واحدة، وقع (واحدة). (جلد 3 صفحہ 286 طبع: سعید)
الفتاوى الهندية (1/ 373،الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول:
الأصل في هذه المسائل أن الملفوظ به أولًا إن كان موقعًا أولًا وقعت واحدة، وإذا كان الملفوظ به أولًا موقعًا آخرًا وقعت ثنتان.
قال فی الاختيار لتعليل المختار :
وألفاظ البائن قوله: أنت بائن، بتة، بتلة، حرام، حبلك على غاربك، خلية، برية، الحقي بأهلك، وهبتك لأهلك، سرحتك، فارقتك، أمرك بيدك، تقنعي، استتري، أنت حرة، اغربي، اخرجي، ابتغي الأزواج؛ ويصح فيها نية الواحدة والثلاث، ولو نوى الثنتين فواحدة"۔(ج 1 / ص 35)
وفی الشامیة :
سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت." (کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج:3،ص:399،ط:سعید)
"الدر المختار " (3/ 306):
"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح")
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
21/01/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


