03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی دکان میں قبریں اور کتبے بنانے کا کام کرنا اور ساتھ امامت کرنا
87789نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد کی دکانوں میں ایک شخص قبریں اور کتبے بنانے کا کام کرتا ہے، اور وہ ساتھ ہماری مسجد میں امامت بھی کرتا ہے۔ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں فتویٰ چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کچی قبر تیار کرنا، اور بوقتِ ضرورت نام اور تاریخِ وفات وغیرہ لکھ کر قبر کے سرہانے کتبہ لگانا جائز ہے، اور پکی قبر بنانا جائز نہیں۔ لہٰذا، مذکورہ امام صاحب اگر امامت کے ساتھ ساتھ مسجد کی دکان میں کرایہ ادا کرکے نام، تاریخِ وفات وغیرہ لکھ کر کتبہ بنانے اور کچی قبریں تیار کرنے کا کام کرتے ہوں، اور اس پر اجرت لیتے ہوں، تو ان کا یہ کام جائز ہے، اس میں اشکال کی کوئی بات نہیں، اور ان کی امامت بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ پکی قبر بنانے کا کام کرتے ہوں، تو پھر ان کا یہ کام، چاہے مسجد کی دکان میں ہو یا کہیں اور، جائز نہیں ہے۔ اس صورت میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز اگرچہ کراہت کے ساتھ ہو جائے گی، اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن ثواب اتنا نہیں ملے گا جتنا ایک متقی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے ملتا ہے۔

حوالہ جات

وإن كُتِبَ عليه شيءٌ أو وُضِعَتِ الأحجارُ، فلا بأسَ بذلك عند البعضِ۔(الخانية، على هامشِ الهندية، بابُ غسلِ الميت وما يتعلقُ به( 1/194، ط: سعيد)

قال العلامةُ ابنُ عابدينَ رحمَهُ اللهُ تعالى:

"وإن احتيجَ إلى الكتابةِ حتى لا يذهبَ الأثرُ، ولا يُمتهنَ، فلا بأسَ به، فأما الكتابةُ بغيرِ عذرٍ فلا." اهـ
حتى إنه يُكرهُ كتابةُ شيءٍ عليه من القرآنِ أو الشعرِ أو إطراءِ مدحٍ له ونحوِ ذلك.( رد المحتار على الدر المختار: 2/238، دار الفكر، بيروت)

والأفضلُ أن يُغسَّلَ الميتُ مجاناً، فإنِ ابتغى الغاسلُ الأجرَ جازَ إن كان ثمَّةَ غيرُه، وإلا فلا، لتعينِه عليه، وينبغي أن يكونَ حكمُ الحمّالِ والحفّارِ كذلك. الخ(الدر المختار، باب صلاة الجنازة، مطلب: في حديث "كلُّ سببٍ ونسبٍ منقطعٌ إلا سببي ونسبي"، زكريا 3/92، كراتشي 2/199، الهندية، زكريا قديم 1/159، جديد زكريا 1/220، الدر المنتقى مصري قديم 1/181، دار الكتب العلمية بيروت 1/267، البحر الرائق، كويته 2/173، زكريا 2/304)

وفی الشامیة:

"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل. "(کتاب النکاح،ج: 1/ صفحہ: 156، ایچ، ایم، سعید)

وفی الخانیة:

"قال الفقیه أبو جعفر: إذا لم یذکر الواقف في صک الوقف إجارة الوقف، فرأی القیم أن یواجرها ویدفعها مزارعةً، فما کان أدر علی الوقف وأنفع للفقراء فعل."(خانیه ۳/۳۳۲، ط: زکریا)

عن جابرٍ رضي الله عنه قال:

نهى رسولُ الله ﷺ أن تُجَصَّصَ القبورُ، وأن يُكتبَ عليها، وأن يُبنى عليها، وأن تُوطَأَ.(رواه الترمذي: 1/203)

وفی الدر المختارمع الشامیة :

"ويكره إمامة عبد ... وفاسق..." إلخ.

(قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل."

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

28/12/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب