| 87796 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم چھ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جب ہمارے والد زندہ تھے تو ہم سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد بھی ہم والدہ کے ساتھ ایک ساتھ ہی رہتے رہے۔ پھر جب والدہ کا بھی انتقال ہو گیا تو ہم سب الگ الگ ہو گئے، اور ہم نے مال و جائیداد آپس میں تقسیم کر لی۔ ہر بھائی کو 45,50,000 روپے ملے، جو کہ جائیداد، گھر وغیرہ کی مجموعی قیمت ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ ان تینوں بہنوں کو بھی اس مال میں سے ان کا حصہ دے دوں۔ آپ حضرات مہربانی فرما کر میرا یہ مسئلہ حل فرما دیں۔
سائل نے زبانی طور پر بتایا کہ چھ بھائیوں نے والدین کی وفات کے بعد آپس میں میراث کو حتمی طور پر تقسیم کر لیا تھا، اور بہنوں کو ان کے حصے نہیں دیے گئے تھے۔ اب سائل اپنی بہنوں کو ان کا حصہ دینا چاہتا ہے، تو یہ بتایا جائے کہ سائل کے حصے میں ہر بہن کا کتنا حصہ آیا ہے تاکہ وہ ان کو ادا کر سکے۔
سائل نے زبانی یہ بھی بتایا کہ اس نے مذکورہ تقسیم کے بعد اپنے حصے میں آئی کچھ زمین بیچ بھی دی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومین(والد،والدہ) کے کفن دفن کے متوسط اخراجات (بشرطیکہ کسی نے تبرعاً نہ کیے ہوں)،قرض (اگرباقی ہو) اوروصیت (اگرکی ہو)کی علی الترتیب ادائیگی کے بعدچونکہصورتِ مسئولہ میں دولوگ یکے بعددیگرےفوت ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے وارث ہیں، لہذاموجودہ صورت میں مرحومین کے مال میں سے جن جن ورثاء کوجو جوحصہ ملے گا،آسانی کے لیے ذیل میں اس کاجدول ملاحظہ ہو۔
مورث اعلی ولد/ کل مال : %100/4550000روپے
|
دیگرتفصیل |
فیصدی حصہ |
4550000 میں حصہ |
زندہ ورثہ |
نمبر شمار |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا١ |
1 |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا۲ |
2 |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا۳ |
3 |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا4 |
4 |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا۵ |
5 |
|
والد اوروالدہ سے |
13.33333% |
606666.7 |
بیٹا٦ |
6 |
|
والد اوروالدہ سے |
6.666667% |
303333.3 |
بیٹی١ |
7 |
|
والد اوروالدہ سے |
6.666667% |
303333.3 |
بیٹی۲ |
8 |
|
والد اوروالدہ سے |
6.666667% |
303333.3 |
بیٹی۳ |
9 |
|
|
100٪ |
4550000 |
ٹوٹل: |
واضح رہے کہ یکے بعد دیگرے ورثہ کے فوت ہونے کی صورت میں دوسری میت سے آخر تک کے اموات کوپہلی میت سے بھی ملتاہے اورعام طورپر فوت ہونے کے وقت ان کی ذاتی ملکیت میں بھی کچھ نہ کچھ مال ہوتاہے تو جب ان کا مال تقسیم ہوتوپہلی میت سے ملنے والے مال کے ساتھ اس کے دیگرذاتی اموال کو بھی ملایاجاتاہے جو بوقت موت ان کی ملکیت میں ہوتاہے لہذا مسئولہ صورت میں دوسری میت زوجہ کی میراث تقسیم کرتے وقت دونوں مالوں(پہلی میت خاوندسے ملنے والااوراپنا) کو جمع کرلیا جائےگا،اورپھر کل مال جتنا بھی ہوجائے اس کوورثہ میں تقسیم کیاجائے گا، تقسیم کا طریقہ کار وہی ہوگاجو اوپر مذکورہوا۔
واضح رہے کہ ہر بھائی کے حصے میں ہر بہن کا 1.111111 فیصد حصہ آیا ہے، جو کہ مذکورہ کل رقم 45,50,000 روپے کے حساب سے 50,555.56 روپے بنتا ہے۔ لہٰذا، ہر بھائی اپنی ہر بہن کو 50,555.56 روپے ادا کرنے کا پابند ہے۔
جس بھائی نے زمین فروخت کی ہے، اگر اس نے بہنوں کی اجازت کے بغیر بیچی ہے اور اب بھی بہنیں رضامند نہیں ہیں، تو یا تو ان کی زمین واپس کر کے انہیں دینی ہوگی، یا اگر وہ راضی ہوں، تو زمین کی موجودہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔
یہ بھی واضح رہے کہ بہنیں بھائیوں کی طرح شرعی وارث ہیں اورشرعی وارث کو میراث سے محروم نہیں کیاجاسکتا،جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کو کوشش کرتاہے وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اوراللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلتاچاہتا ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔ سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)جس نےاللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی﴿ اپنے وارث کی﴾ میراث کو کاٹ دیااللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹیں گے۔ایک اورحدیث میں ہے: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛جوشخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔
تفصیل بالا کی روسے معلوم ہوا کہ کسی وارث مثلاً بہنوں کو میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم،ناانصافی، حق تلفی اور الله کے احکام سے کھلی بغاوت ہے ، جو ناجائزاورحرام ہے،لہذا مسئولہ صورت میں میراث روکنے والے بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کے حصے ان کو دیدیں، ورنہ ساری عمر حرام کھانے کا وبال ان پر رہے گا اورقیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا ۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 51)
ومن باع ملك غيره بغير أمره فالمالك بالخيار، إن شاء أجاز البيع؛ وإن شاء فسخ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/12/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


