03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھ بیٹوں، ایک بیٹی اوربیوی کے درمیان میراث کی تقسیم
87786میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص کا انتقال ہوا، اور اس نے اپنے پیچھے ورثاء میں بیوی، چھ بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ اس کی ملکیت میں 16 مرلے کا ایک گھر تھا۔ برائے کرم بتائیں کہ ہر وارث کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

اس کے علاوہ سب سے بڑے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس تحریری طور پر لکھا ہوا ہے کہ وہ جس جگہ میں رہ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت ہے، جبکہ مرحوم نے اپنی زندگی میں نہ کسی کے سامنے باقاعدہ طور پر یہ جگہ اس کے حوالے کی تھی، اور نہ ہی اس بیٹے نے والد کی زندگی میں ایسا کوئی دعویٰ کیا تھا۔براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ آیا وہ جگہ اس بیٹے کی ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکور گھر سمیت منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز و سامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔

اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے درمیانے درجے کے اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے تبرعاً (رضاکارانہ طور پر) ادا نہ کیے ہوں۔اس کے بعد مرحوم کا وہ قرض ادا کیا جائے گا، جس کی ادائیگی مرحوم کے ذمے واجب ہو۔اس کے بعد اگر مرحوم نے غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو (اور اسی حکم میں نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے لیے کی جانے والی وصیت بھی ہوگی، اگر ایسی کوئی وصیت کی ہو) تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس کو شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ میں سے:مرحومہ کی بیوی کو 12.5%،ہر بیٹے کو 13.461%اور بیٹی کو 6.73%حصہ دیاجائےگا۔

مسئولہ صورت میں بڑے بھائی کا دعویٰ ہبہ (تحفہ) کا تب صحیح ہوسکتا ہے جب باقی ورثاء بھی اس کی تصدیق کریں یا وہ اپنا دعویٰ دو عادل گواہوں سے ثابت کر دے، اور یہ بھی ثابت کرے کہ والد نے یہ زمین الگ کر کے انہیں قبضہ بھی دیا تھا۔اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر ان کا یہ دعویٰ ہبہ باطل ہے، اور ان کے پاس موجود تحریر بے اثر ہے، اگرچہ وہ اس پر قسم بھی اٹھا لے۔اس لیے ان کے ذمے (یعنی مدعی ہونے کی وجہ سے) گواہ پیش کرنا لازم ہے، نہ کہ قسم کھانا، کیونکہ قسم مدعی علیہ سے لی جاتی ہے۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." 

(ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللہ تعالی :

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن   [النساء/11]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

العصبة نوعان نسبية وسببية فالنسبية ثلاثة أنواع عصبة بنفسه، وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه، وجزء جده.

وفی تکملہ فتح الملہم:

إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند.

وفی السنن الکبری للبیھقي:

عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواهم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیھقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 14 / ص 90)

 ثم اعلم أن دعوى الهبة من غير قبض غير صحيحة فلا بد من دعواها من ذكر القبض.

وفی الفتاویٰ العالمگیریة:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية". (4/378،  الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، ط: رشیدیة)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/12/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب