| 87785 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے بیٹے نے تقریباً سات ماہ قبل اپنی بیوی مسماۃ مدینہ سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور اسے کہہ دیا: ’’میری طرف سے آزاد ہو، اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔‘‘ڈیڑھ دو ماہ بعد میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تو بتایا کہ میں نے طلاق دے دی ہے۔ایک روز جب میری اہلیہ اور دو بیٹیاں موجود تھیں، ہم چاروں کی موجودگی میں میں نے دوبارہ پوچھا کہ: "کیا آپ نے تحریری طور پر طلاق بھیج دی ہے؟" تو کہنے لگا: "نہیں، ابھی صرف زبانی طلاق دی ہے۔"تقریباً چار ماہ بعد اُس نے تحریری طور پر طلاق بھیج دی۔اُس لڑکی نے اپنے کسی واقف کے ساتھ واٹس ایپ پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ دوسری طلاق موصول ہو گئی ہے، اور ایک طلاق پہلے اُس نے (یعنی میرے بیٹے نے) زبانی دی تھی۔ تو اُس بندے نے لڑکی کو کہا کہ تمہارا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ایک ماہ بعد میرے بیٹے نے تیسری طلاق بھی تحریری طور پر بھیج دی۔اب میرے بیٹے کا مؤقف یہ ہے کہ اُس کی بیوی نے اُس سے پوچھا: "تم کیا چاہتے ہو؟"تو اُس نے جواب دیا: "میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا، میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔"بیوی نے پھر پوچھا: "کیا آپ مجھے چھوڑ رہے ہو؟" تو اس نے کہا: "ہاں، میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔"بیٹا کہتا ہے کہ پہلی مرتبہ میں نے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ مخصوص ایام میں تھی، اس لیے لفظِ طلاق جان بوجھ کر نہیں کہا۔جبکہ میرے دو بار پوچھنے پر اُس نے گھر میں ہم چاروں کے سامنے واضح الفاظ میں کہا: "میں نے زبانی طلاق دی ہے۔"لڑکی بھی اپنے کسی واقف کو یہ بتا رہی ہے کہ ایک طلاق زبانی دی گئی ہے۔اب بیٹا کہتا ہے کہ اُس وقت میں نے آپ سے دونوں مرتبہ جھوٹ بولا تھا، درحقیقت میں نے طلاق نہیں دی تھی بلکہ صرف مذکورہ بالا گفتگو ہوئی تھی۔جبکہ میری اہلیہ جذباتی انداز میں کہتی ہے کہ اُس نے مجھے ایک طلاق زبانی دے دی تھی۔بیٹے کا کہنا ہے کہ اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔براہِ کرم شریعت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرمائیں تاکہ شرعی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
سوالات:
- کیا پہلی طلاق واقع ہو چکی ہے؟
- اگر بیٹے کا کہنا درست مانا جائے تو کیا پہلی طلاق واقع نہیں ہوئی؟
- کیا صرف دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
- یا کیا تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں؟
سائل نے زبانی فون پر بتایاکہ پہلی طلاق کے بعد عدت کے اندرخاوندنے عملاًرجوع کیاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ آپ کے بیٹے کا کہنا کہ "میں نے طلاق دے دی ہے"، نیز اہلیہ اور دو بیٹیوں کی موجودگی میں پوچھنے پر کہنا کہ "ابھی صرف زبانی طلاق دی ہے" قرینہ ہے کہ اس نے" آزاد"کے لفظ سےطلاق کی نیت کی تھی۔ "چھوڑ دیا" یہ لفظ طلاق میں صریح ہے([1])۔ طلاق کی جھوٹی خبر دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
اب آپ کے سوالوں کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:
(۱، ۲)۔ جی ہاں، پہلی طلاق واقع ہوئی ہے، چاہے خاوند نے "آزاد" کا لفظ استعمال کیا ہو، "چھوڑ دیا" لفظ استعمال کیا ہو یا طلاق کی جھوٹی خبر دی ہو، طلاق کا وقوع صرف لفظ "طلاق" سے ہی نہیں ہوتا بلکہ اور الفاظ سے بھی طلاق کا وقوع ہو جاتا ہے جن میں مذکورہ الفاظ شامل ہیں، لہٰذا آپ کے بیٹے کی بات کا اعتبار نہیں اور پہلی طلاق واقع ہو گئی ہے۔
دوسری طلاق پہلی تحریری طلاق کا نوٹس بھیجنے سے ہو گئی ہے، جبکہ تیسری طلاق دوسری تحریری نوٹس بھیجنے سے ہو گئی ہے، لہٰذا بحیثیت مجموعی مسئولہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب میاں بیوی میں نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی حلالہ کے بغیر نیا نکاح۔
(۳، ۴)۔ نہیں، مجموعی اعتبار سے دو نہیں بلکہ تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
([1] ) وفی فتاوی دارالعلوم دبوبند علی الشبکة العنکبوتیة ”آزاد کردیا“ کی طرح ”چھوڑدیا“ کا لفظ بھی اردو محاورے میں طلاق کے معنی میں صریح ہے، راجح یہی ہے (دیکھئے: امداد الفتاوی ۲: ۴۵۶، سوال: ۵۵۰، امداد الاحکام ۲: ۴۴۳، ۴۴۵، ۴۴۶، ۴۴۸، امداد المفتین ص ۶۱۶، فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل ۱۲: ۳۴۰-۳۵۸، سوال: ۶۰۸۸-۶۰۹۹، فتاوی رحیمیہ جدید تخریج شدہ ۸: ۲۹۶، ۲۹۷، سوال: ۳۶۶، آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید تخریج شدہ ۶: ۴۳۹، احسن الفتاوی۵: ۱۶۶، منتخبات نظام الفتاوی ۲: ۲۱۳، ۲۳۵، فتاوی عثمانی ۲: ۳۴۱-۳۴۵، ۳۴۸، ۳۶۱، ۳۶۵) ، پس اس کا حکم وہی ہوگا جو اوپر ”میں نے تمھیں آزاد کردیا“ یا ”تم میری طرف سے آزاد ہو“ وغیرہ کا تحریر کیا گیا۔ https://darulifta-deoband.com/home/ur/talaq-divorce/63306
حوالہ جات
وفی الشامیة (۴؍۵۳۰ زکریا )
فإن سرحتک کنایۃ لکنہ في عرف الفرس غلب استعمالہ في الصریح، فإذا قال: رہا کردم أی سرحتک یقع بہ الرجعي مع أن أصلہ کنایۃ أیضا وما ذاک إلا لأنہ غلب في عرف الناس استعمالہ في الطلاق.
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 137)
ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء ا هـ .
وفی الشامیة:
"(الصريح يلحق الصريح و ) يلحق ( البائن ) بشرط العدة.
وفی العالمگیریة(۱/۴۷۳)
وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرۃ، وثنتین في الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بہا، ثم یطلقہا، أو یموت عنہا۔ (العالمگیرية، زکریا قدیم ۱/۴۷۳، زکریا جدید ۱/۵۳۵)
وفی بدائع الصنائع:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة۔ (3/187، فصل في حكم الطلاق البائن، کتاب الطلاق)
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .
سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)
أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.
رد المحتار - (ج 10 / ص 448)
وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال} وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
لو قال لزوجتہ أنت طالق طالق طالق طلقت ثلاثاً۔ (الأشباہ والنظائر ۲۱۹ قدیم)کرر لفظ الطلاق وقع الکل۔ (شامي ۴؍۵۲۱ زکریا)
أحكام القرآن للجصاص ج: 5 ص: 415
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق
ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25/12/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


