03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیدوارسے اخراجات منہاکرنے کاحکم
87352زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

باغات کی زکوة (عشر) کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مزدوروں کی تنخواہ، دواء،  اسپرے، خالی کریٹ، شالیاں (نرم لکڑی، بانس کی باریک پٹیاں، یا مخصوص قدرتی مواد جو پیکنگ کے لیے تیار کیا جاتا ہے)، میخیں، کاغذ، کریٹی اورمیخی کی تنخواہ ،گاڑی کا کرایہ، گاڑی سے کریٹیں اتارنے والوں کی مزدوری، اور کوٹی والوں کا کمیشن—ان تمام اخراجات کو منہا کرنے کيے بغیر جو رقم کچی بکری سے بنتی ہے، کیا عشر اس سے ادا کیا جائے گا یا پختہ بکری  سے موصول ہونے والی رقم سےادا کیا جائے گا؟مثلاً اگر کچی بکری کی مالیت 6 لاکھ ہو اور پختہ بکری کی مالیت 4 لاکھ ہو، تو عشر کس رقم سے ادا کیا جائے گا؟

سائل نے فون پر بتایاکہ کچی بکری سے مراد اخراجات نکالنے سے پہلے کی قیمت ہے اورپکی بکری سے مراد اخراجات منہاکرنے کے بعدکی قیمت ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

باغ کی پیداوار کا عشر ادائیگی کے وقت کون سے اخراجات کل پیداوار میں سے نکالے جائیں گے اور کون سے اس میں شامل رہیں گے، اس کے متعلق تفصیل اور ضابطہ یہ ہے کہ پیداواری اخراجات دو قسم کے ہوتے ہیں۔

پہلی قسم کے اخراجات وہ ہیں جو باغ کو کاشت کے قابل بنانے سے لے کر پیداوار حاصل ہونے اور اس کو سنبھالنے تک ہوتے ہیں۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو زراعت اور باغبانی کے امور میں شامل ہوتے ہیں اور پیداوار کو حاصل کرنے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے: زمین کو ہموار کرنا، پودے لگانا، پانی لگانا، رکھوالے کی اجرت، کھاد، اسپرے، پھل اتارنے والوں کی اجرت وغیرہ۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو عشر یا نصف عشر ادا کرنے سے پہلے منہا نہیں کیے جائیں گے، بلکہ عشر اخراجات نکالنے سے پہلے پوری پیداوار سے ادا کیا جائے گا۔

دوسری قسم کے اخراجات وہ ہیں جو درج بالا امور کے بعد واقع ہوتے ہیں، یعنی پیداوار کی کٹائی کے بعد کے وہ اخراجات جو زراعت اور باغبانی کے امور میں اصلاً شامل نہیں ہوتے اور پیداوار کے حصول کے لیے ان امور کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے: خالی کریٹ، شالیاں، میخیں، کاغذ، کریٹ اور میخوں کی تنخواہ، گاڑی کا کرایہ، گاڑی سے کریٹیں اتارنے والوں کی مزدوری، پیداوار کو گدھا گاڑی کے ذریعے مین روڈ تک پہنچانا اور پھر وہاں سے منڈی تک پہنچانے کے لیے گاڑی کا کرایہ وغیرہ۔ ایسے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے کل پیداوار میں سے منہا کیے جا سکتے ہیں۔

لہٰذا عشر پکی بکری (اخراجات نکلی رقم) پر دیا جائے گا، مگر اخراجات صرف مذکورہ بالا دوسرے قسم کے منہا ہوں گے، پہلی قسم کے اخراجات اس سے منہا نہیں کیے جائیں گے۔

حوالہ جات

وفی الشامیة:

(بلا رفع مؤن) أي كلف (الزرع) وبلا إخراج البذر (قوله: بلا رفع مؤن) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك، درر، قال في الفتح: يعني لايقال بعدم وجوب العشر في قدر الخارج الذي بمقابلة المؤنة، بل يجب العشر في الكل؛ لأنه عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة، ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحداً وهو العشر دائماً في الباقي؛ لأنه لم ينزل إلى نصفه إلا للمؤنة والباقي بعد رفع المؤنة لا مؤنة فيه فكان الواجب دائماً العشر لكن الواجب قد تفاوت شرعاً فعلمنا أنه لم يعتبر شرعاً عدم عشر بعض الخارج وهو القدر المساوي للمؤنة أصلاً اهـ وتمامه فيه ".(2 / 328، باب العشر، ط: سعید)

وفی مجمع الأنہر:

 (قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع... الخ (1 / 216، باب زکاۃ الخارج، ط: دار احیاء التراث العربی) الفتاویٰ التاتارخانیہ میں ہے: "إذا كانت الأرض عشريةً فأخرجت طعاماً وفي حملها إلى الموضع الذي يعشر فيه مؤنة فإنه يحمله إليه ويكون المؤنة منه".(3ْ/292 ، الفصل السادس فی التصرفات فیما یخرج من الارض، کتاب العشر، ط: زکریا)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

02/11/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب