| 85414 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک پلاٹ مسجد کے لیے وقف کیا گیا اور ایک پلاٹ اس کے ساتھ خرید ا گیا۔ خرید تے وقت یہ نیت تھی کہ مسجد اس میں بنے گی ہی بنے گی، ضرورت ہوئی تو اوپر کسی منزل پر مدرسہ یا مکان بھی بنا لیں گے،تین منزل مسجد بن چکی ہے، اب اس سے اوپر خریدے ہوئے پلاٹ پر مدرسہ بنانا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ
کیا مدرسہ مسجد کے تابع کہلائے گا یا نہیں؟ کیونکہ اصل مسجد ہے اور مسجد کے نام پر جمع ہونے والی رقم اس پر خرچ ہو سکے گی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد اورمدرسہ الگ الگ اوقاف ہیں اورعمومی حالات میں ایک کا فنڈ دوسرے پر خرچ نہیں ہوسکتا، تاہم مدرسہ کی نیت شروع سے ہواوروہ مسجد کا اس طرح تابع ہوکہ دونوں کا انتظامیہ ایک ہی ہواوراکثر چندہ دہندگان کو بھی معلوم ہوکہ جمع ہونے والا فنڈ مسجد اورمدرسہ دونوں پر خرچ ہوتاہے (بہترہوگا کہ اس کے لئے کوئی وضاحتی بورڈ بھی نصب ہوکہ جمع ہونے والا چندہ مسجد اورمدرسہ دونوں پرخرچ ہوتاہے) تو اس صورت میں مدرسہ مسجد کے تابع ہوکرمسجد کا فنڈ اس پر بھی خرچ ہوسکے گا۔
حوالہ جات
وفی الشامیة:
"اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد،(وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك."(رد المحتار علیٰ الدرالمختار،کتاب الوقف،4/ 360ط:سعید)
قال العلامہ ابن نجیم رحمہ اللہ:
"أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفتت الجہۃ ، بأن بنیٰ مدرسۃ ومسجداً ، وعین لکلٍّ وقفا،
وفضل من غلۃ أحدہما ، لایبدل شرط الواقف ، وکذا إذا اختلف الواقف لاالجہۃ ، یتبع شرط الواقف ، وقد علم بہذا التقریر إعمال الغلتین إحیاء للوقف ورعایۃ شرط الواقف ، ہذا ہو الحاصل من الفتاویٰ، وقد علم أنہ لایجوز لمتولی الشیخونیۃ بالقاہرۃ صرف أحد الوقفین للآخر."
البحرالرائق(5/ 234،ط: دارالكتب الاسلامي)
البقعة الموقوفة علی جہة إذا بنی رجل فیہا بناء ووقفہا علی تلک الجہة یجوز بلا خلاف تبعا لہا، فإن وقفہا علی جہة أخری اختلفوا فی جوازہ والأصح أنہ لا یجوز کذا فی الغیاثیة.
الفتاوی الہندیة( 2/ 362،ط: زکریا):
قالوا مراعاة غرض الواقفین واجبة. (رد المحتار علی الدر المختار6/665،ط: زکریا)۔
وفی الشامیة:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."(مطلب في وقف المنقول قصدا،ص:366،ج:4،ط:دار الفکر بیروت )
وفی البحر الرائق(5/234):
السادسة عشرة في البزازية وقد تقرر في فتاوى خوارزم أن الواقف ومحل الوقف أعني الجهة إن اتحدت بأن كان وقفا على المسجد أحدهما إلى العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه والإمام والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح والعمارة إلى الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة إن كان الواقف متحدا لأن غرض الواقف إحياء وقفه وذلك يحصل بما قلنا أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 358):
قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. اهـِ
وفی التحریر المختار( 80/2):
وقال الرافعی رحمہ اللہ تعالی ( قول المصنف لمصالحہ)لیس بقید بل الحکم کذلک اذا کان ینتفع بہ عامۃ المسلمین علی ما افادہ فی غایۃ البیان حیث قال اورد الفقیہ ابو اللیث سئوالا وجوابا فقال فان قیل الیس مسجدبیت االمقدس تحتہ مجتمع الماء والناس ینتفعون بہ قیل اذا کان تحتہ شیء ینتفع بہ عامۃ المسلمین یجوز لانہ اذا انتفع بہ عامتھم صار ذلک للہ تعالی ایضا
وفی فتاوی جامعة الرشید:
اگر اب تک باقاعدہ مسجد کی بنیاد نہیں رکھی گئی ہے اور وہاں نماز کا اہتمام شروع نہیں ہوا ہے تو نچلی منزل اور دوسری منزل کو ابتداء سے ہی مدرسہ اور مصالح مسجدکے لیے دکانیں تعمیر کرنے کے لیے مختص کرنا اور پہلی منزل پر مسجد بنانا درست ہے﴿[1]﴾ ۔
وفی فتاوی بنوی ٹاؤن علی الشبکة:
صورتِ مسئولہ میں اگر مدرسہ مسجد کے تابع ہے،او رمسجد ہی کے خرچہ سے مدرسہ قائم کیاگیاہے،
اورمسجدومدرسہ کا ذمہ دار ایک ہی شخص ہے یامسجدومدرسہ کی ذمہ دار مسجد کی کمیٹی ہی ہے، اور مسجد ہی کی رسید سے سب کیلئے چندہ کیاجاتاہے، اور الگ رسید کے ذریعہ سے الگ الگ چندہ کاانتظام نہیں ہے، اورمدرسہ کےالگ ذمہ دار نہیں ہیں ، اور چندہ بھی صرف مسجد ہی کے نام سے ہوتاہے، اور اسی سے سب کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ، اور اکثر چندہ دہندگان کو اس کا علم بھی ہے ، کہ مسجدکمیٹی کی جانب سےمسجد اور مدرسہ کا خرچہ چلتاہے، تو ایسی صورت میں مدرسہ مسجد سے الگ نہیں، سب چیزوں کی آمدنی اور خرچہ مشترک طور پر جائز اور درست ہے ،ہاں البتہ اگر مدرسہ کے ذمہ دار مسجد سے الگ ہیں ، یامدرسہ چلانے کی انتظامیہ مسجد سے الگ ہے ، تو ایسی صورت میں مسجد کی آمدنی سے مدرسہ چلانا درست نہیں ہے ۔([2])
فی فتاوی عثمانیہ :
وقف میں واقف کی شرط کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ لہذا اگر کوئی چیز مسجد کے لئے وقف ہے تو
مسجد ہی میں استعمال ہوگی ،اور اگر مدرسہ کے لیے وقف ہے تو مدرسہ میں استعمال ہوگی ،لیکن اگر کوئی مدرسہ مسجد کے تابع ہو تو پھر مسجد کی چیز مدرسہ میں استعمال کرنا جائز ہے،اور اگر مدرسہ مسجد کے تابع نہ ہو تو پھر مسجد کی چیز مدرسہ میں استعمال کرنا جائز نہیں( [3])۔
وفی خير الفتاویٰ(6/487) :
’’اگر مسجد و مدرسہ کا حساب کتاب الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تابع ہیں اور چندہ بھی مشترکہ ہوتا ہے تو ایک کا فنڈ دوسرے پر خرچ کرنے کی گنجائش ہے‘‘
وفی فتاوی جامعہ دارالتقوی:
مذکورہ صورت حال کے پیش نظر چونکہ مسجد و مدرسہ الگ الگ نہیں ہیں اس لیے مسجد کے فنڈ سے مدرسے کی تعمیر اور قاری صاحب کے گھر کی تعمیر کی جا سکتی ہے([4])۔
[1] https://almuftionline.com/2021/02/05/3802/
[2] https://www.banuri.edu.pk/readquestion/masjid-ki-amadni-se-bacho-ka-madarsa-chlane-aur-masjid-ke-uper-wale-hisse-me-madarsa-chalane-ka-hukumm-144309100429/10-04-2022
[3] https://usmaniapsh.com/read_question/14467378
[4] https://darultaqwa.org/masjid-ke-funds-se-madrase-aur-imam-sahib-ke-ghar-ki-tameer-karna/
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/5/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


