| 84877 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج سے تقریباً 8 سال پہلے، میری سگی بہن کی نند مجھے پسند آئی اور میں بھی انہیں پسند آیا۔ اس کے بعد، میں نے دو گواہوں کے سامنے ان سے نکاح کر لیا۔ اس وقت لڑکی کی عمر 16 سال تھی۔ ہم نے یہ نکاح اپنے والدین سے پوشیدہ رکھا کیونکہ ہم دونوں کی کچھ مجبوریاں تھیں۔ میری طرف سے یہ مجبوری تھی کہ میرے گھر میں مجھ سے بڑی تین بہنیں اور دو بھائی تھے، اور لڑکی اپنے بہنوں اور بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ ہم نے نکاح کے بعد یہ طے کیا کہ مناسب وقت پر والدین کو بتا دیں گے، لیکن اس وقت ہمارے درمیان ناراضگی چل رہی تھی۔اس دوران لڑکی کے گھر والوں نے اس کی منگنی دوسری جگہ طے کر دی۔ تین دن بعد لڑکی کو اپنی منگنی کا پتہ چلا، لیکن لڑکی نے ایجاب خود قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی کو وکیل مقرر کیا۔ لہٰذا وہ خاموش رہی۔ پھر 9 مہینے بعد، ان کے گھر والوں نے اس کی شادی دوسری جگہ کر دی اور اب وہ 5 سال سے اس کے ساتھ رہ رہی ہے۔ لڑکی اس رشتے میں ناخوش ہے اور علیحدگی چاہتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ
لڑکی شوہر اول کے نکاح میں ہے یا دوسرے کے نکاح میں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عورت کا کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً حرام اور ناجائز ہے، اور ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا جب تک کہ پہلے شوہر سے درست طریقے سے نکاح ختم نہ ہو جائے اور پھر عدت نہ گزر جائے۔
مسئولہ صورت میں اگر آپ مذکورہ لڑکی کے کفؤ (ہم پلہ) تھے اور آپ دونوں نے واقعۃً دو بالغ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کیا تھا، جیسے کہ آپ نے لکھا ہے، تو اگرچہ شرعاً اولیاء سے چھپ کر نکاح کرنا اچھااورپسندیدہ عمل نہیں ہے، تاہم اس طرح کا نکاح شرعاً منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مسئولہ نکاح منعقد ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے مذکورہ لڑکی آپ کی بیوی بن گئی تھی۔
لہٰذا اس کا آپ کے نکاح میں ہوتے ہوئے جو دوسرا نکاح ہوا ہے، وہ منعقد نہیں ہوا، کیونکہ نکاح پر نکاح شرعاً جائز نہیں ہے۔ مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ اپنے کیے پر صدقِ دل سے توبہ اور استغفار کرے اوراپنے اولیاء کو اعتماد میں لیتے ہوئے حکمت کے ساتھ اس دوسرے شخص سے علیحدگی اختیار کرکے اپنے سابقہ شوہر کے پاس واپس آجائے، یا سابقہ شوہر سے طلاق حاصل کرکےعدت گزارے، اور پھر اس کے بعداس دوسرےشخص سے نکاح کرکے رہے۔
حوالہ جات
بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعليه الفتوی...وأدنى مدة البلوغ بالاحتلام ونحوه في حق الغلام اثنتا عشرة سنة، وفي الجارية تسع سنين، ولا يحكم بالبلوغ إن ادعى وهو ما دون اثنتي عشرة سنة في الغلام وتسع سنين في الجارية."(کتاب الحجر، الباب الثانی فی الحجر للفساد، الفصل الثانی فی معرفۃ حد البلوغ، ج: 5، ص: 61، ط: رشیدیہ)
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے۔ ارشادر بانی ہے:
حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْ ھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَجَھُن [البقرة: 232]
نکاح کی نسبت عورت کی طرف کرنے سے معلوم ہوا کہ بالغ عورت نے اگراپنانکاح ولی کی اجازت کے بغیر کردیا تووہ ہوجائے گا،تاہم شرط یہ ہے کہ وہ کفؤ میں ہو،غیر کفؤ میں ہوتو نکاح راحج قول کے مطابق منعقد نہیں ہوگا۔
و فی الدر المختار،کتاب النکاح (باب الولی ج:۳،ص:۵۶)
ویفتیٰ فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان.
وفی الفتاوى الهندية (1/ 280)
(القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير) . لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
2/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


