| 84322 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
سمیرہ اورنمرہ کی شادی ایک دوسرے کے بھائی سے ہونی تھی ،سمیرہ کی منگنی ہوگئی، مگراس کے منگیترنے اپنی بہن نمرہ کا رشتہ دینے سے انکارکردیا اورآپس میں یہ طے کیا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کےلیے مہر کے علاوہ تین تولہ سونابنائے گا جوکہ ہمارے ہاں ایک رواج بن چکاہے جس پر اس کے سالے نے بھی یہ شرط لگائی کہ میری بہن کے تین تولہ سونے کے علاوہ مجھے بھی تین تولہ سونا بناکر آپ دیں گے،کیونکہ اگرمیں کہیں شادی کرنا چاہوں گا تو میں بھی پھراس لڑکی کو یہ تین تولہ سونا دے سکوں اوراس نے یہ شرط قبول کرلی تو سوال یہ ہے کہ
١۔شوہر اپنی بیوی کے لیے مذکورسونا بناکر دے سکتاہے یانہیں ؟
۲۔دوسرایہ کہ سالے کےلئےسونا بنانے کی شرط رکھناجائزہے یانہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگرنمرہ کے گھروالوں نےنمرہ کا رشتہ دینے کا وعدہ کیا تھا تو وعدے کا شرعی حکم یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے، تاہم مجبوری کی صورت میں اس کے خلاف کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لہذا شدید شرعی مجبوری کی وجہ سے وعدہ ختم کرنے کی گنجائش ہے، لیکن شدید عذر کے بغیر وعدہ سے پھرنا اوراسے ختم کرنا دوسرے فریق کےلیےایذاء کا سبب ہےاورباعثِ گناہ ہے،البتہ لڑکے اور لڑکی کی اجازت کے بغیر گھر والوں کووعدہ ختم کرنے کی اجازت نہیں، پس صورتِ مسئولہ میں مذکورہ رشتےکا وعدہ اگرکرلیاگیاتھااوررشتہ کرنے میں کوئی شرعی مجبوری نہ ہواور لڑکی بھی اس پر راضی ہو تو ایسی صورت میں رشتہ دینےسے انکار کرنا درست طرزِعمل نہیں۔
١۔ بغیرمطالبہ کے خاوند بیوی کو سونا بناکردے یا لڑکی خودشوہر سے سونے کا مطالبہ کرے اورشوہر اس پرراضی ہوجائے اوررواج وغیرہ کی وجہ سےوہ مجبور نہ ہوتو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں،مگرلڑکی کے خاندان والوں کا لڑکےکے خاندان والوں سے مہر کے علاوہ اضافی سونے وغیرہ کا مطالبہ کرنا جو عرف میں لڑکے پر لازم نہ ہو،جائز نہیں ہے،یہ رشوت ہےاوربغیررضاء کے مسلمان کا مال کھاناہے۔
۲۔ سالے کا اپنے متوقع بہنوئی سے اپنے لیے سونے کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ہے،چاہےکسی بھی وجہ سے یہ مطالبہ ہو ،کیونکہ اس مطالبہ کی کوئی شرعی وجہ نہیں ہے،شرعا کسی کا مال اس کی رضامندی اور خوش دلی کے بغیر استعمال کرنا حلال نہیں،لہذاشرعاًیہ رشوت کے زمرے میں آئے گا۔
حوالہ جات
قال النووي:
أجمعوا على أن من وعد إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي أن يفي بوعده...فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الأدب، باب المزاح، ج:9،ص:130)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ النَّاسَ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ :« لاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلاَّ مَا أَعْطَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ وَلاَ تَظْلِمُوا وَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِى كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ».(السنن الكبرى للبیهقي،كتاب الغصب رقم الحديث،11719)
وفی ردالمحتار مع الدرالمختار:
(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة.وقال ابن عابدین تحت(قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة بزازية.(ردالمحتار مع الدرالمختار،كتاب النكاح،قبيل مطلب في دعوى الأب أن الجهاز عارية،307/4)
وفیہ أیضاً:
ما هو معروف بين الناس في زماننا من أن البكر لها أشياء زائدة على المهر۔۔۔۔۔۔وأنت خبير بأن هذه المذكورات تعتبر في العرف على وجه اللزوم على أنها من جملة المهر، غير أن المهر منه ما يصرح بكونه مهرا ومنه ما يسكت عنه بناء على أنه معروف لا بد من تسليمه، بدليل أنه عند عدم إرادة تسليمه لا بد من اشتراط نفيه أو تسمية ما يقابله كما مر، فهو بمنزلة المشروط لفظا فلا يصح جعله عدة وتبرعا۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب النكاح،باب المهر،272/4 مطبع:دارالكتب العلمية)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


