| 87977 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ہمارا ادارہ آغوش ٹرسٹ کے نام سے ایک عرصہ سے شہر کراچی میں انسانیت کی فلاح و بہبود میں مصروف عمل ہے۔فی الحال ادارہ کے زیر انتظام مندرجہ ذیل شعبوں میں کام جاری ہے:
- نادار بوڑھی خواتین کی مکمل رکھوالی: اس شعبے میں ان بوڑھی عورتوں کو رکھا جاتا ہے، جن کے ہاں اولاد نہیں ہوئی یا اولاد ہوئی، مگر نا فرمان اولادوں نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا تو آغوش ٹرسٹ " ایسی عورتوں کو اپنے سینٹر میں لا کر کی رہائش ، قیام و طعام، علاج و معالجہ و دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔
- نادار لڑکیوں کی شادیاں: معاشرے کی نادار اور مفلس بچیاں جو صرف جہیز اور دیگر ضروریات کی وجہ سے شادی سے محروم ہیں ، آغوش ایسی بچیوں کےلئے مناسب انتظام کرتا ہے۔
- رمضان المبارک میں غریبوں کو راشن کی تقسیم۔
- معذور اور ذہنی طور پر مفلوج افراد کے لئے خصوصی انتظام كرنا: اس شعبہ میں فی الحال معاشرے کی معذور بچیاں زیر کفالت ہیں۔
- غریب اور نادار بچوں کے لئے اسکول کا قیام: اس شعبے میں فی الحال ایک اسکول ملیر کے علاقے میں کام کر رہا ہے۔
- روز گارا سکیم: اس شعبے میں ان غریب افراد کو کچھ محد و در قم دی جاتی ہے جو اپنا روزگار کرنا چاہتے ہوں۔
ان تمام شعبہ جات میں اخراجات کچھ اجناس کی شکل میں آتے ہیں جو براه ر است مستحقین تک پہنچائے جاتے ہیں، جبکہ کچھ امداد بشکل نقدی آتی ہے، جس میں زکوۃ وغیر زکوۃ دونوں مدوں میں امداد آتی ہے، زکوۃ خرچ کرنے کےلئے ہمارے پاس ایک وکالت نامہ ہے، جو ہم سند یافتہ مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی مستحقین سے پُر کراکے سائن کراتے ہیں، جو ادارہ ہذا کو زکوہ وغیرہ کی وصولی کا وکیل بناتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمار ا یہ طریقہٴ کار شرعاً درست ہے؟کیاو کالت کےلئے صرف یہ طریقہ کافی ہے یا کوئی اور مناسب طریقہ اپنایا جائے؟کیا حیلہٴ تملیک کے بغیریہ طریقہ درست ہے؟ وکالت نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منسلکہ وکالت نامہ کا جائزہ لیا گیا، جس میں مستحق زکوة شخص سےمعلومات لینے کے سلسلے میں درج کی گئی شقیں درست ہیں، البتہ ضرورت سے زائد سامان والے خانہ میں یہ بھی اضافہ کیا جائے کہ جو سامان سال بھر استعمال میں نہ آئے، جیسے شادی کے موقع پر بچیوں کو دیے جانے والے برتن اور بستر وغیرہ، بعض اوقات سالہا سال استعمال میں نہیں آتے، اس لیے ایسا سامان بھی ضرورت سے زائد میں شامل ہے۔
نیز وکالت کا فارم پُر کرنے والوں کو اس بات کابھی پابند بنایا جائے کہ وہ مستحقِ زکوة نہ رہنے کی صورت میں فوراً ادارہ کو اطلاع کریں، تاکہ اس کا وکالت نامہ منسوخ کر دیا جائے، کیونکہ اس کے مستحق زکوة باقی نہ رہنے کی صورت میں ادارے کا اس کی طرف سے زکوة اور صدقاتِ واجبہ وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
11/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


