03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ
88194ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میری کل 150 مرلہ زمین ہے، میں اپنی حیات میں ہی یہ زمین تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ میری ایک بیوی ، سات بیٹے  اور ایک بیٹی ہے،  تو ہم میں سے ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک  ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ، نیز والد ین کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں شرعی طور پر حصہ  نہیں  ہوتا اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتاہے۔  تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی  زندگی میں  اپنی جائیداد  خوشی  ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ۔

صاحبِِ جائیداد کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی  طریقہ یہ ہے کہ   اپنی جائیداد میں سے  اپنے  لیے   جتنا چاہے رکھ لے،تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے اور بقیہ مال  میں سے بیوی کو  جتنا چاہے ،دے دے، بہتر ہے کہ آٹھواں حصہ دے دے اور باقی اپنی  تمام  اولاد میں برابر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے،  نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہوگا اور اس صورت میں ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ کہلائے گی۔ تاہم میرا ث کی حصص کی بقدر بھی تقسیم کی گنجائش ہے۔

البتہ  اولاد میں سے کسی ایک کو  کسی معقول وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی شرافت  ودین داری یا غریب ہونے کی بنا پر  یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔اگر صاحبِ جائیداد  اپنی  زندگی میں اپنی بعض  اولاد  کو کچھ دینا چاہے اور دوسرے   دل سے رضامند ہوں کہ ان کو دیا جانے والا حصہ اوروں کو دیا جائے اوران پر کسی قسم کا دباؤ وغیرہ نہ ہو اور صاحبِ جائیداد کا مقصد بھی ان اولاد کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا نہ ہو ، بلکہ کسی بنا پر وہ اپنے بعض بچوں کو کچھ دے رہا ہے تو  یہ

جائز ہے۔

لہٰذا  آپ  اگر زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس میں سے آپ اپنی ضرورت کے بقدر اپنے پاس رکھیں اور اس کے علاوہ جو ہو وہ یا تو  مذکورہ  بالا اصول سےبچوں ، بچیوں اور بیوی میں تقسیم کردیں یا میراث میں ان کے حصص کے اعتبار سے  تقسیم کردیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ  کل یا ما بقی(جو آپ نے اپنے  ضرورت کے لئے رکھا ہے، اس کے علاوہ) جائیداد کے 120 حصے بنائے جائیں گے،جس میں بیوی کو پندرہ(15)حصے ، ہر   بیٹے کو چودہ(14)حصے اور  بیٹی کو سات(7)  حصے ملیں گے۔ فیصدی اعتبار سے بیوی کو  %12.5ہر بیٹے کو % 11.67 اور بیٹی  %5.83ملے گا۔

ذیل میں حصص اور فیصدی اعتبار سے نقشہ ملاحظہ فرمائیں :

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

15

12.5%

2

بیٹا

14

11.6667%

3

بیٹا

14

11.6667%

4

بیٹا

14

11.6667%

5

بیٹا

14

11.6667%

6

بیٹا

14

11.6667%

7

بیٹا

14

11.6667%

8

بیٹا

14

11.6667%

9

بیٹی

7

5.8333%

میزان

 

120

100%

حوالہ جات

 مشکاۃ  المصابیح،( 1/261، باب العطایا، ط: قدیمی):

'' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم».

رد المحتار، كتاب الوقف(444/4):

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".         

  حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   25/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب