| 88054 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد کا انتقال سن 1979ء میں ہوا۔ اُس وقت ہم چھ بہن بھائی اور والدہ حیات تھیں۔ والد کی میراث میں ایک جاری کاروبار شامل تھا، جسے میرے بڑے بھائی اور میں نے مل کر سنبھالا اور چلایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے اسی کاروبار سے آمدن حاصل کر کے چھ عدد پلاٹ، ایک دکان اور کچھ شیئرز خریدے۔ بعد ازاں ہم دونوں نے مشترکہ کاروبار چھوڑ کر اپنے اپنے طور پر علیحدہ کاروبار شروع کیے۔ پہلے کاروبار کے دوران اسی سے ہم سب کی شادیاں بھی ہوئیں۔
1987ء میں میرے بڑے بھائی نے ایک پلاٹ خریدنے کا ارادہ کیا۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ چونکہ پہلے تمام جائیدادیں اُن کے نام سے خریدی گئیں تھیں، اس بار یہ پلاٹ میرے نام پر خریدا جائے۔ انہوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی اور یہ پلاٹ میرے نام سے خریدا گیا۔ اس پلاٹ پر تعمیر کر کے اسے فروخت کیا گیا اور حاصل شدہ رقم سے مکان نمبر 191 خریدا گیا۔ یہ مکان میرے نام پر تھا اور سوسائٹی میں ٹرانسفر کے لیے درخواست بھی میرے نام سے دی گئی۔ اس مقصد کے لیے پاور آف اٹارنی نے بڑے بھائی کے نام پر جاری کیا تاکہ وہ اسے میرے نام پر منتقل کرا سکیں، لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود انہوں نے مکان میرے نام منتقل نہ کروایا، حالانکہ یہ مکان 1996ء سے پہلے تعمیر کیا جا چکا تھا۔
اسی دوران خاندانی اختلافات کے سبب کارخانے اور مشینری کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا گیا اور دو پلاٹ فروخت کر کے ان کی رقم کا نصف حصہ مجھے دے دیا گیا۔ تاہم باقی جائیداد یعنی چار پلاٹ، ایک دکان، کاروبار، شیئرز، بینک بیلنس اور فیکٹری کی باقی مشینری تقسیم نہ کی گئی۔
بعد میں بڑے بھائی نے بیس لاکھ روپے اور مزید رقم ملا کر ایک مکان اور دکان خرید لی۔ 2009ء میں انہوں نے کچھ افراد کو بیچ میں ڈال کر مجھ سے کہا کہ اگر میں مکان نمبر 191 لینا چاہتا ہوں تو مجھے 20 لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے، حالانکہ اس وقت اس مکان کی مارکیٹ ویلیو چالیس لاکھ روپے تھی۔ میں نے 20 لاکھ روپے ادا کیے اور انہوں نے مکان کے کاغذات میرے حوالے کر دیے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ہماری والدہ اور چار بہنیں بھی زندہ تھیں، لیکن بڑے بھائی نے باقی تمام جائیداد،یعنی دو مکانات، دو دکانیں، مشترکہ کاروبار، شیئرز، بینک بیلنس اور فیکٹریاں اپنے قبضے میں لے لیں۔
کیا شرعی اور قانونی اعتبار سے ان تمام جائیدادوں میں والدہ اور بہنوں کا بھی حق بنتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد مرحوم کے انتقال کے بعد ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد، کاروبار اور دیگر اثاثے شرعاً تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن گئے تھے۔ اگر ان میں سے کسی فرد، جیسے آپ اور آپ کےبڑے بھائی نے اس کاروبار کو تمام ورثاء کی عملی یا خاموش رضامندی سے آگے بڑھایا تو آپ دونوں باقی ورثاء کی طرف سے بطورِ وکیل کام کرتے رہے ، نہ کہ ذاتی حیثیت میں مالک کے طور پر۔ کیونکہ یہ کاروبار والد کے ترکہ کا تسلسل تھاجس میں تمام ورثاء کا حق کا تھا۔ لہٰذا یہ کاروبار اپنے تمام مراحل اور توسیع کے باوجود ورثاء کے درمیان مشترک شمار ہوگا۔
جب سے تم دونوں نے کاروبار کو سنبھالاتو تمھارا شرعی حق صرف اجرتِ مثل بنتاہے، یعنی وہ تنخواہ جو اس جیسی صلاحیت والےشخص کو اتنی ہی مدت کاروبار چلانے پر دی جاتی ہے ، لہذا مسئولہ صورت میں میراث کے حصے کے علاوہ اتنی تنخواہ آپ کا کاروبار سے لینا جائز ہوگا ، مثال کے طور پر اگر ایک بھائی نے دس سال اور دوسرے نے پندرہ سال تک کاروبار چلایا تو ہر ایک کو اسی مدت کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق تنخواہ دی جائے گی، اور باقی مال و جائیداد شرعی حصوں کے مطابق تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔
کاروبار سے حاصل شدہ آمدن سے خریدے گئے پلاٹ، دکانیں، مکانات یا شیئرز، چاہے وہ کسی ایک فرد کے نام پر رجسٹرڈ ہوں ، چونکہ ان کی قیمت مشترکہ سرمایہ سے ادا کی گئی، اس لیے وہ بھی تمام ورثاء کی ملکیت ہوں گے۔ صرف رجسٹری کا کسی فرد کے نام ہونا شرعاً ملکیت کی دلیل نہیں ہے،الا یہ کسی وارث کے پاس مشترکہ مال کے علاوہ کوئی مال ہو اور وہ اس سے کوئی جائیداد صرف اپنےلئے خریدے ، تو وہ اس شرط پر اس کی ہوگی کہ وہ خریداری کے وقت اس پر گواہ بنائے کہ یہ میں اپنی رقم سے اپنے لیے خریدرہاہوں ۔
جن بھائیوں نے کاروباری آمدن سے اپنے ذاتی اخراجات یا شادی کے اخراجات وصول کیے وہ رقوم بھی ان کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق تنخواہ سے میں شمار ہوں گی، البتہ وہ بہنیں یا دیگر ورثاء جنہوں نے کاروبار میں حصہ نہیں لیا لیکن ان کی شادی یا دیگر اخراجات اسی آمدن سے کیے گئے تو یہ اخراجات بھی اگر غیر معمولی ہوں تو ان کا ان ورثاء کے حصۂ میراث میں حساب کرنے کی گنجائش ہے ،ورنہ عام حالات میں تبرع سمجھے جائیں گے ۔جہاں تک مکان نمبر 191 کا تعلق ہےتو اگرچہ وہ آپ کے نام سے خریدا گیا، لیکن چونکہ اس کی خریداری بھی مشترکہ آمدن سے ہوئی ہے، اس لیے وہ بھی تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت شمار ہوگا۔ اس پر انفرادی ملکیت کا دعویٰ اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ ثابت ہو کہ اس کی قیمت آپ کی ذاتی ملکیت سے ادا کی گئی ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني (8/ 390):
في «مجموع النوازل»: رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجر، فإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له.
الدر المختار (6/ 42):
وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له. وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج وشرط عليه كل شهر كذا جاز ولو لم يشترط فبعد التعليم طلب كل من المعلم والمولى أجرا من الآخر اعتبر عرف البلدة في ذلك العمل.
رد المحتار (6/ 42):
قوله ( فالعبرة لعادتهم ) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإلا فلا. قوله ( اعتبر عرف البلدة الخ ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل،وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 325)::
(وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل .....مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.فأجاب بأنه بينهما سوية وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولو اختلفوا في العمل والرأي .
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 51)
إذا بذر بعض الورثة الحبوب المشتركة بين جميع الورثة في الأراضي المورثة أو في أراضي الغير بإذن الورثة الآخرين أو إذن وصيهم أو بإذن القاضي إذا كان الورثة صغارا فتكون الحاصلات مشتركة بينهم جميعا، والحال الذي يوجب أن تكون الحاصلات مشتركة بينهم هو كون البذر مشتركا بينهم وكون الوارث الزارع قد زرع بإذن أصحاب الحصص الآخرين سواء زرع في الأراضي الموروثة أو في أراضي الغير أي في الأرض المأجورة أو المستعارة (الفتاوى الجديدة) أو في ملكه الخاص، وفي هذه الصورة يكون الزارع أصيلا عن نفسه ووكيلا عن شركائه في الزراعة.
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
18/محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


