03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ جائیداد میں ورثہ کی اجازت کے بغیر ذاتی گھربنانے کاحکم
87025میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مشترکہ موروثی زمین میں بڑے بھائی نے دیگر بھائیوں کی اجازت کے بغیرخفیہ طریقہ سے گھر تعمیر کیا۔ورثہ کو پتہ چلنے پر سخت دکھ ہوا۔ بعض ورثہ نے تو فوراً اکھاڑنے کی بات کی،لیکن ان کی عمر کا لحاظ رکھااور معاملہ وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیابڑے بھائی کا یہ عمل شرعاً جائز تھا ؟کیا دیگر ورثہ بڑے بھائی کو تعمیر اکھاڑنے پر شرعاً مجبورکرسکتے ہیں؟کیا ورثہ قیمت دے کر اس گھر کودیگر جائیداد کے ساتھ ملا کر تقسیم کرسکتے ہیں ؟اوراگر ورثہ خراب ڈیزائن یا کسی اور وجہ سے  قیمتاً گھر نہ لینا چاہیں، تو کیا بڑا   بھائی قیمت  لگاکر ورثہ کوگھر لینے پر شرعاً مجبور کرنے کا مجاز ہے یا پھر اکھاڑنا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں بڑے بھائی کا وراثت کی تقسیم سے پہلے دیگر بھائیوں کی اجازت کے بغیر مشترکہ جائیداد میں اپنے لیے گھر تعمیر کرنا شرعاً جائز نہیں تھا۔ البتہ اگر اس نے ورثہ کی اجازت کے بغیر مشترکہ مکان میں اپنی رقم سے تعمیر کی ہے تو وہ صرف اس تعمیر (چاردیواری، کمروں) کا مالک ہوگا، زمین کا نہیں۔

اب ورثہ کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بڑے بھائی کو تعمیر ہٹا کر زمین خالی کرنے پر مجبور کریں ،لیکن اگر تمام ورثہ باہمی رضامندی سے تعمیر کی قیمت ادا کر کے اس گھر کو دیگر جائیداد کے ساتھ تقسیم کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے۔

واضح رہےکہ  اگر دیگر بھائی کسی بھی وجہ سے یہ گھر نہ لینا چاہیں تو بڑے بھائی کو انہیں قیمتاً مکان لینے پر مجبور کرنے کا شرعاً کوئی حق نہیں۔ چونکہ اس نے خفیہ طور پر، ورثہ کی اجازت کے بغیر یہ تعمیر کی ہے، اسی لیے اس کا نقصان بھی اسے خود ہی برداشت کرنا ہوگا۔لہٰذا، اس صورت میں تعمیر کو ہٹانا ہی متعین ہے، جس کا ملبہ بڑے بھائی کی ملکیت ہوگا، اور خالی شدہ زمین  کو دیگر جائیداد کے ساتھ تمام ورثہ میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الکساني رحمہ اللہ :ولا يجوز التصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بغير إذنه.(بدائع الصنائع :(234/2

قال العلامۃ ابن عابدین  رحمہ اللہ:( بنى أحدهما ) أي أحد الشريكين ( بغير إذن الآخر ) في عقار مشترك بينهما ( فطلب شريكه رفع بنائه قسم ) العقار ( فإن وقع ) البناء ( في نصيب الباني فيها ) ونعمت ( وإلا هدم ) البناء وحكم الغرس كذلك قوله ( وإلا هدم البناء ) أو أرضاه بدفع قيمته. (الردعلی الدر:(268/6

قال العلامۃ داماد أفندي رحمہ اللہ: وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة ،فالعمارة له أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه، فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه، فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه ،فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين. )مجمع الأنهر: (743/2

قال العلامۃ أمين أفندي رحمہ اللہ:إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:315/3،المادہ:(1309

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم                                                                                                                                               

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 یکم رمضان المبارک1446ھ                       

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب