| 87059 | پاکی کے مسائل | وضوء کے فرائض |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ مجھے اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ میں نے جتنی بار بھی وضو میں بازوں پر پانی بہایا ہے ، ہر بار مجھ سے کہنیاں رہ گئی ہیں یعنی ان پر پانی نہیں بہایا، اور اس طرح وضو سے میں نے کئی بار امامت بھی کی ہے، کیونکہ مجھے پتہ نہیں تھا۔کیا میری نمازیں ہوگئی ہیں؟
تنقیح:سائل نےمزیدوضاحت دیتےہوئےکہا کہ مذکورہ بالاطریقہ سے ایک سال تک وضو کیا ہے اور 9 نمازوں میں امامت بھی کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وضو میں دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں آپ کے یقین کے مطابق کہنیاں دھونے سے رہ گئی ہیں، لہٰذا آپ پر ایک سال کی نمازوں کا اعادہ واجب ہے۔
جن نو نمازوں میں آپ نے امامت کی،ان میں آپ کے پیچھےنماز پڑھنے والوں میں سے جن کو اطلاع دینا ممکن ہوانہیں اطلاع دیں،بقیہ کے بارے میں استغفار کریں۔
حوالہ جات
قال اللہ سبحانہ و تعالٰی:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ.(ألمائدۃ:(6
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ:(والثاني غسل اليدين) والمرفقان يدخلان في الغسل عند علمائنا الثلاثة. كذا في المحيط.(الھندیۃ:(4/1
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2رمضان المبارک 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


