| 87056 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال:ایک شادی شدہ مرد اگر اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ کسی ملک کی نیشنلٹی حاصل کر سکے، تو کیا اجازت دینے والے کا نکاح برقرار رہے گا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایساعمل قبیح اور شرعاً سخت ناپسندیدہ ہے،تاہم اگر اجازت دینے سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو نکاح برقرار رہے گا۔ اس صورت میں محض شہریت حاصل کرنے کے لیے دوسرا نکاح جائز نہیں اور ایسا نکاح منعقد بھی نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. (الھندیۃ:280/1)
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: أمانكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله.(الردعلی الدر:(516/3
قال ابن نجيم الحنفي رحمہ اللہ:ولو قال: (اذهبي) فتزوجي وقال: لم أنو لم يقع لأن معناه إن أمكنك، قاله قاضي خان.(النھرالفائق:(360/2
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


