| 87057 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرےوالدین کا مسئلہ یہ ہے کہ امی خلع لینا چاہتی ہیں، کیونکہ ابو نے دوسری شادی کر لی ہے۔ ابو اور امی کے تعلقات گزشتہ 10 سال سے ٹھیک نہیں ہیں، اور اس دوران کئی مسائل بھی پیش آئے۔ دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات بھی گزشتہ 10 سال سے ختم ہو چکے ہیں۔اب تقریباً 50 سال کی عمر میں ابو نے دوسری شادی کر لی ہے، جس کے بعد امی بضد ہیں کہ وہ خلع لیں اور اپنے نام سے ابو کا نام ہٹوا دیں۔ابو کا موقف ہے کہ امی کو نفسیاتی اور روحانی مسئلہ ہے، اور وہ طلاق نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے بعد امی کہاں جائیں گی اور دربدر ہو جائیں گی۔ اس لیے وہ طلاق دینے سے انکار کر رہے ہیں۔
یہ معلوم کرنا ہے کہ مصلحت کے تحت کیا ابو صرف "طلا، طلا" تیزی سے کہہ سکتے ہیں تاکہ امی کو محسوس ہو کہ طلاق ہو گئی ہے اور وہ سکون سے بیٹھ جائیں، جبکہ حقیقت میں طلاق کےالفاظ مکمل نہ ہوں،اس طرح ابو بھی مطمئن رہیں کہ امی بچوں کے ساتھ ہی ہیں اور کہیں نہیں جا رہیں۔یہ مسئلہ حل کرنا بہت ضروری ہے ،کیونکہ ابو کے طلاق نہ دینے اور امی کے خلع پر اصرار کرنے کی وجہ سے گھر میں مسلسل شور شرابہ اور تماشا ہو رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں بیوی (تمہاری والدہ) کے اطمینان اورگھرمیں شور شرابہ ختم کرنے کے لیے محض "طلا طلا" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
ماخذہ:التبویب،فتویٰ :62491
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ: (هو) .....(رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق.و قال ابن عابدین رحمہ اللہ في الحاشیۃ: (قوله :هو ما اشتمل على الطلاق) أي على مادة ط ل ق صريحا، مثل أنت طالق.(الدر مع الرد:(226,227/3
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
2رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


