| 86989 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
مفتی صاحب براہ کرم ارحا (Irha ) نام کا معنی بتائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’اِرحا ‘‘ (الف کے نیچے زیر کےساتھ)نام کا معنی ہمیں کتب لغت میں نہیں مل سکا ۔ اور’’اَرحاء‘‘ (الف پر زبر کے ساتھ۔ارْحَاء) " یہ عربی زبان کا لفظ ہے، اور جمع کے طور پر مستعمل ہے۔اس کی واحد " رَحیٰ" ہے، جس کے معنی چکی کے ہیں لہذا یہ نام مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ بہتر یہ ہے کہ بچیوں کے لیے صحابیات کے ناموں یا واضح اچھے معانی والے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام أبوداود السجستانی في ’’سننہ‘‘(303/7)(الحدیث رقم: 4948)من حدیث أبي الدرداءرضی اللہ عنہ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم.
في المغرب فی ترتیب المعرب : "رحي" الرَّحى مؤنث وتثنيتُها رحَيان والجمع أرحاءُ وأَرْحٍ وأنكر أبو حاتم الأَرْحِية. وقوله: ما خلا الرَحَى أي وَضْعَ الرحى وتستعار، الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشَر.
(المغرب فی ترتیب المعرب: 325/1 )
القاموس الوحید،ص:609)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
1رمضان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


