03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گرافک ڈیزائننگ كا حكم
87469اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میں ایک فوڈ کمپنی کے ساتھ بھی کام کر رہی ہوں، جس میں میں کھانوں کی تصاویر بناتی ہوں (جیسے بریانی مسالے کے لئے بریانی کی تصویر بنانا، پھول بوٹے یا اس سے متعلق ڈیزائننگ کرنا)۔ ان تصاویر کو ایک اور لڑکی ویڈیو (ریلز) میں تبدیل کرتی ہے، اور پھر کمپنی کی سوشل میڈیا ٹیم وہ ویڈیوز انسٹاگرام پر اپلوڈ کرتی ہے جن میں اکثر بیک گراؤنڈ میوزک ہوتا ہے۔میرا کام صرف تصاویربناکر دینا ہوتا ہے۔  -2کیا اس کمپنی سے حاصل ہونے والی کمائی میرے لیے حلال ہے؟

اگر کسی عمل میں جزوی طور پر حرام یا مشتبہ پہلو شامل ہو لیکن میں اس کا حصہ نہ ہوں، تو کیا اس کا اثر میری کمائی پر ہوتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید کے  سمجھ لیجئے کہ کسی خاص پیغام کو تحریر، تصویر اور مختلف شکلو ں کے امتزاج سے بہتر طریقے پر پیش کرنے کے کام کو گرافک ڈیزائننگ کہا جاتاہے ۔اگر یہ جائز طریقوں اور  جائز کاموں کے لیے کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ،جیسا کہ کسی جائز کاروبار کرنے والی کمپنی کا ایساLogo بنانا جس میں کوئی ناجائز تصویر وغیرہ نہ ہو، یا کسی پروڈکٹ کے لئے جائز ڈیزائن بناناجیسے بریانی مسالے کے لئے بریانی کی تصویر بنانا، یاکسی جائز کاروبار کا تشہیری مواد تیار  کرنا وغیرہ، اور  اگر گرافک ڈیزائننگ ناجائز کاموں کےلیے کی جائے یا ناجائز طریقے سے کی جائے تو اس سے حاصل

کردہ آمدن حلال نہ ہوگی جیسا کہ کوئی ناجائز چیز بنانا،فحش تصاویر بنانا،یاکسی ناجائز کاروبار کا تشہیری مواد تیار کرنا وغیرہ۔

اس تمہید کے بعد چونکہ آپ  گناہ کے کام کا سبب بننا سبب بعید ہے او رآپ کو علم بھی  ہے کہ آپ کے بنائےہوئے ڈیزائننگ کو کمپنی ناجائز طور پر استعمال کر رہی ہے ،لہٰذا آپ کے لئے یہ کمائی حلال  تو ہے لیکن اس طرح کا کام کرنا نامناسب ہے ،بہتر ہے کہ کوئی ایسا کام اختیار کیا جائے جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہ ہو۔

حوالہ جات

فقه البيوع (1/184):

لكن هناك معنى آخر يُقارب معنى الإعانة، وهو التسبّب، وهو أيضاً لا يخلو عن حرمة وكراهة إذا كان سبباً للمعصية :فتنقيح الضابط في هذا الباب على ما من به علي ربي: أن الإعانة على المعصية حرام مطلقاً بنص القرآن، أعني: قوله تعالى: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾ [المائدة: (٢) ، وقوله تعالى: ﴿ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ ) [القصص: ۱۷] ولكن الإعانة حقيقة هي: ما قامت المعصية بعين فعل المعين، ولا يتحقق إلا بنية الإعانة، أو التصريح بها، أو تعينها في استعمال هذا الشيء بحيث لا يحتمل غير المعصية، وما لم تقم المعصية بعينه لم يكن من الإعانة حقيقةً، بل من التسبّب، ومن أطلق عليه لفظ «الإعانة» فقد تجوز، لكونه صورة إعانة، كما مر من السير الكبير (١).

ثم السبب إن كان سبباً محركاً وداعياً إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام، كالإعانة على المعصية بنص القرآن، كقوله تعالى: ﴿ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ﴾ [الأنعام: ۱۰۹]، وقوله تعالى: ﴿ فَلَا تَخْضَعْنَ بالقول ) [الأحزاب: ٣٢) ، وقوله تعالى: ﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ ) الآية [الأحزاب: ٣٣].

وإن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذه كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والمؤجر، من دون تصريح به باللسان، فإنّه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرح كان داخلاً في الإعانة المحرمة، وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يُفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيهاً.

الدر المختار  :(4/ 268)

(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) و يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم بخلاف أهلالحرب .

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

 12/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب