| 88040 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہماری والد ہ زینت بیگم 2022 میں فوت ہوئیں ۔اولاد میں تین بیٹے (حنیف خان، اشرف خان اور عارف خان) اور چھ بیٹیاں ( سلمیٰ، نجمہ ، نسیمہ ، نعیمہ ، اسماء اور ریشماں) تھیں۔ حنیف خان، اشرف خان، نسیمہ اورسلمیٰ کا انتقال والدہ زینت بیگم کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا۔ہماری والدہ اپنی زندگی میں ہی باحوش و حواس اپنی اولاد کے سامنے (عارف، نعیمہ ، نسیمہ ، ریشماں اور اسماء) یہ بولا تھا کہ یہ مکان میرے سارے بچوں میں تقسیم ہو گا اور اس بات پر اُن کے پانچوں بچوں کی گواہی موجودہے۔اب آپ بتادیں کہ ہماری والدہ زینت بیگم کے مکان کی تقسیم کس طرح ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ ميت كے ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد مرحومہ کے ذمہ واجب قرض کی ادائیگی کی جائے گی ،اس کے بعد اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (3/1) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحومہ کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورت مسئولہ میں اگر والدہ کے انتقال کے وقت ورثہ صرف یہی لوگ تھے جوسوال میں مذکورہیں ،تو ترکہ بیٹے بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے ۔
ترکہ کے 6 حصے بنائے جائیں گے،جس میں سے بیٹے(عارف ) کو 2،جبکہ بیٹیوں (نعیمہ ، نسیمہ ، ریشماں، اسماء) کو ایک ایک حصہ ملے گا۔فیصدی لحاظ سے بیٹے کو 33.3333% اور بیٹیوں کو 16.6666%ملے گا۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصے |
|
عارف |
2 |
33.3333% |
|
نعیمہ |
1 |
16.6666% |
|
نسیمہ |
1 |
16.6666% |
|
ریشماں |
1 |
16.6666% |
|
اسماء |
1 |
16.6666% |
واضح رہے کہ اولاد کے لیے شرعاً اپنے مال وجائیداد کی وصیت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ شریعت نے ترکہ میں سے ان کے حصے خود مقرر کر دیے ہیں، لہذا وفات کے بعد ہر وارث کو شریعت کے طے شدہ حصے کے مطابق ہی حصہ ملے گا، اس سے کم وبیش کرنا جائز نہیں،جہاں تک اس اولاد کا تعلق ہے جو والد ہ کی زندگی میں وفات پا چکی تھی (یعنی حنیف خان، اشرف خان، نسیمہ اورسلمیٰ )، ان کو والدہ کی میراث میں سےکچھ نہیں ملے گا اوران کی اولاد اپنی نانی/دادی کی میراث میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہو گی، کیونکہ حقیقی اولاد کی موجودگی میں پوتے اور نواسے وغیرہ شرعاً وارث نہیں ہوتے، البتہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا } [النساء: 8]
ترجمہ: اور جب میراث تقسیم ہونے لگے اور اس وقت (غیروارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ بھی آجائیں تو ان کو بھی اس (ميراث) میں سے کچھ دے دو اور ان کے ساتھ مناسب انداز سے بات کرو۔ (آسان ترجمہ قرآن: النساء: 8)
لہذا مرحوم بیٹوں/بیٹیوں کی اولاد اگر مستحق ہے تو میراث کی تقسیم کے وقت ان کو بھی احسان کے طور پر کچھ مال دے دینا چاہیے، اس سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور مسلمان رشتہ دار کے تعاون کا اجروثواب بھی ملے گا اور رشتہ داری کے تعلقات بھی ان شاء اللہ بہتر رہیں گے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم [النساء:11] :
﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 90):
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة،
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 287):
قوله (ولا تجوز الوصية للوارث) لقوله عليه السلام «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث؛
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 514) دار احياء التراث العربي، بيروت:
قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه، ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية لأنه تمليك مضاف إلى ما بعد الموت، وحكمه يثبت بعد الموت. "والهبة من المريض للوارث في هذا نظير الوصية" لأنها وصية حكما حتى تنفذ من الثلث، وإقرار المريض للوارث على عكسه لأنه تصرف في الحال فيعتبر ذلك وقت الإقرار.
قال: "إلا أن تجيزها الورثة" ويروى هذا الاستثناء فيما رويناه، ولأن الامتناع لحقهم فتجوز بإجازتهم؛ ولو أجاز بعض ورد بعض تجوز على المجيز بقدر حصته لولايته عليه وبطل في حق الراد.
صحيح البخاري (8/ 151) دار طوق النجاة:
وقال زيد:’’ ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن‘‘
ارسلان نصیر
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
17/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


