| 87813 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میں آئر لینڈ میں ایک ڈاکٹر ہوں ، ہم نے آپ کے ماضی میں کلپس دیکھے ہیں جس میں آپ نے یہ بتایا ہے کہ قسطوں پہ کوئی چیز لی جائے ،جیسا کہ موٹر سائیکل یا کوئی بھی اور چیز تو اس کی گنجائش موجود ہے بشرطیکہ وہ فکسڈ ریٹ پرہو اور ایک ہی بیٹھک میں اس کو طے کر لیا جائے ۔سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں یہاں پر بینک گھر کے لیے قرض دیتا ہے جس کو یہاں پہ مورگیج (Mortgage) کہا جاتا ہے اور اگر وہ فکس ریٹ پرہو تو اس کی گنجائش موجود ہے یانہیں ؟ کیونکہ اگر ہم یہاں پرقرض لیتے ہیں تو وہ ہم طے کر لیں گے کہ وہ فکسڈ ریٹ پہ ہوگا اور مستقبل میں اس میں ردوبدل نہیں ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ آج کل مغربی ممالک میں عمومابینک کےساتھ مل کرگھرمورگیج (Mortgage) پرلیاجاتاہےجس میں بینک اس شخص کوگھرخریدنےکےلئےرقم مہیاکردیتاہےاورپھرقسطوں میں اپناادھارسودسمیت وصول کرتا ہے اور اس گھرکےکاغذات بطوررہن کےاپنےپاس رکھ لیتاہے،چونکہ یہ طریقہ کارسودپرمبنی ہے لہذا اس طرح سےبینک کے ساتھ گھرلیناتوناجائزہے،البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ اگربینک اس بات پرتیارہوجائےکہ بینک خودمطلوبہ گھر خریدے پھر اس میں اپنانفع شامل کر کے قسطوں پرفروخت کردےتوایساکرناجائزہےاوراس کوشرکتِ متناقصہ کی صورت میں بھی لیا جا سکتا ہے، جس میں خریداراوربینک دونوں رقم ملاکرگھرخریدتےہیں پھربینک اپنےحصہ کے چھوٹے چھوٹے یونٹس بنا کر خریدار کوہرماہ بیچتارہتاہے۔بینک کےمملوکہ حصص کوخریدارجب تک خریدنہ لےوہ اس کاکرایہ ادا کرتا ہے۔ (ماخوذ از تبویب: 79019)
صورت مسئولہ میں چونکہ بینک خود گھر خرید کر کسٹمر کو اقساط پر نہیں بیچ رہا بلکہ گھر خریدنے کے لیے رقم بطور قرض مہیا کرتا ہے اور اقساط میں اضافہ شامل کر کے وصول کرتا ہے ، اگرچہ اس کا ریٹ فکس ہو یہ سود ہی کے زمرے میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔
حوالہ جات
القران الکریم[البقرة : 278-280 ] :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾
اعلاء السنن (14/513):
"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
26 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


