| 87587 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک لڑکی جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے، اور دینی حوالے سے یہ اعزاز رکھتی ہے کہ وہ دو مرتبہ قرأت کے مقابلے میں نیشنل گولڈ میڈلسٹ رہ چکی ہے۔ اس کی شادی ایک ایسے لڑکے سے ہو گئی جو مکمل دنیا دار ہے، اور وہ اس پر بار بار ذہنی و جسمانی تشدد کرتا ہے اور گالیاں بھی دیتا ہے۔بار بار جرگے ہونے کے باوجود اس لڑکی کو کوئی انصاف نہیں ملا۔ پھر اس نے اپنے شوہر سے کہا: "مجھے طلاق دے دو۔" مگر شوہر نے جواب دیا: "نہ طلاق دوں گا، نہ آباد کروں گا، لٹکا کر رکھوں گا۔"اس دوران اس مرد نے مزید دو شادیاں بھی کر لیں۔ چنانچہ اس لڑکی نے عدالت سے رجوع کیا، اور عدالت نے اس کے حق میں تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دی۔اب کچھ مفتی حضرات کا کہنا ہے کہ عدالتی خلع طلاق نہیں ہوتی۔
تو ایسی صورت میں یہ لڑکی اس شوہر سے کیسے نجات حاصل کرے گی؟جبکہ:
وہ عدالتی خلع حاصل کر چکی ہے،یونین کونسل سے عدت مکمل ہونے کا اور نادرا سے طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی لے چکی ہے۔
براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔
تنقیح: فون پر بات کرنے سے معلوم ہو ا کہ شوہر نے خلع کو قبول نہیں کیا اور نہ اس لڑکی نے شرعی گواہوں کے ذریعے اپنا مدعا ثابت کیا، البتہ اس نے اس شوہر کی ریکارڈنگ پیش کی جس میں شوہر کی طرف سے بد تمیزی کی گئی تھی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین (عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یکطرفہ فیصلہ شرعا نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف درج ذیل صورتوں میں حاصل ہوتا ہے :
ا۔ شوہر نامرد ہو۔
2۔متعنت ہو یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ طلاق دیتا ہو۔
3۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو۔
4۔غائب غیر مفقود ہو یعنی پتہ معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہے۔
5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
نیز عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت (کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہیں صفات کی حامل دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی) سے ثابت کر نا پڑے گا، شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں۔
صورت مذکورہ میں اس لڑکی نے شوہر کی طرف سے بار بار ذہنی و جسمانی تشدد کرنے کے دعوی ٰکوشرعی گواہوں کے ذریعے ثابت نہیں کیا، بلکہ عدالت نے محض اس لڑکی کے دعوی کی بناء پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کی ہے ، اس لئے عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ڈگری شرعا معتبر نہیں، اور جب تک اس کا شوہر اس کو طلاق یا خلع نہ دے وہ اس کے نکاح میں ہیں۔
چونکہ خلع لینے کا ایک سبب شوہر کی طرف سے بار بار ذہنی و جسمانی تشدد کرناپایاجاتاہے،لہذاشرعابیوی کوعدالت یاجماعت المسلمین کےذریعہ نکاح فسخ کروانےکااختیار ہے، ایسی صورت میں عدالت کےذریعےفسخ نکاح کاطریقہ (جو حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی مشہورکتاب” الحیلۃ الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ “ میں مذکور ہے) اختیار کیا جا سکتاہے۔
حوالہ جات
"الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزہ" ص 101:
صورت تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوران کےنہ ہونےکی صورت میں جماعت مسلمین کےسامنےپیش کرےاورجس کےپاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کےذریعہ سےپوری تحقیق کرےاوراگرعورت کادعوی صحیح ثابت ہو،تواس کےخاوند سےکہاجائےکہ اپنی عورت کےحقوق اداء کرویاطلاق دےدو،ورنہ ہم تفریق کردیں گے،اس کےبعد بھی اگروہ کسی صورت پرعمل نہ کرےتوقاضی یاشرعاجواس کےقائم مقام ہو،طلاق واقع کردے،اس میں کسی مدت کےانتظا راورمہلت کی باتفاق مالکیہ ضرور ت نہیں۔۔۔۔
مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق فیصلہ کیاجائےتووہ عدالت کافیصلہ شرعامعتبرہوگا اوریہ فسخ نکاح طلاق بائن کےحکم میں ہوگا، اس کےبعدعورت عدت(تین ماہواریاں)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔اوراگرعدالت کےچکرلگانامشکل ہوں اوریہ گمان ہوکہ عدالت میں فیصلہ میں تاخیرہوگی،جیساکہ آج کل عدالتوں کی صورت حال ہےتوپھراس کاآسان طریقہ یہ ہےکہ عورت جماعۃ المسلمین(چندعلماء ومفیتان کرام کی جماعت/ یامعتبردارالافتاء کےچندمفتیان کرام )کےسامنےدوگواہوں کی موجودگی میں اپنادعوی ثابت کرےاوریہ جماعت یادارالافتاءکےحضرات گواہوں کےذریعہ پورےمعاملےکی اچھی طرح تحقیق کریں،پھرشرعی طریقےکےمطابق فسخ نکاح کافیصلہ کردیاجائےتوبھی یہ فیصلہ شرعامعتبرہوگا۔مستفاد از تبویب(84323 ) ( 87257).
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت 229 :
فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔
الھندیة:1 /488 :
اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔
"المبسوط" 8 / 311:"قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ( آیت: 227)
وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم۔۔۔وهو إشارة إلى أن عزيمة الطلاق بما هو مسموع وذلك بإيقاع الطلاق أو تفريق القاضي ، والمعنى فيه أن التفريق بينهما لدفع الضرر عنها عند فوت الإمساك بالمعروف ، فلا يقع إلا بتفريق القاضي كفرقة العنين ، فإن بعد مضي المدة هناك لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي بل أولى ؛ لأن الزوج هناك معذور وهنا هو ظالم متعنت ، والقاضي منصوب لإزالة الظلم فيأمره أن يوفيها حقها ، أو يفارقها ، فإن أبي ناب عنه في إيقاع الطلاق وهو نظير التفريق بسبب العجز عن النفقة ۔
«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):
«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/19 ذی القعدہ /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


