03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی مکان کو وقف کرنا
87945وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ میرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ بڑا بھائی اور دونوں بہنیں شادی شدہ اور خوشحال ہیں، جبکہ میں اور میرا چھوٹا بھائی (دونوں غیر شادی شدہ) وراثت میں ملے ہوئے ایک مکان میں مقیم ہیں۔اس کے علاوہ میری ذاتی کمائی سے حاصل شدہ ایک الگ مکان اور ایک گاڑی بھی میری ملکیت میں ہیں۔ اس وقت میرے اس ذاتی مکان میں میرا ایک قریبی دوست فی سبیل اللہ رہائش پذیر ہے۔

میری خواہش ہے کہ میرے انتقال کے بعد بھی وہ دوست اور اس کی اولاد اسی مکان میں مقیم رہیں اور ان کے بعد یہ مکان کسی معتبر دینی یا رفاہی ادارے کے زیرِ انتظام دینی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔نیز ،جب تک میں زندہ ہوں، مکان کی نگرانی میرے پاس رہے، میرے انتقال کے بعد یہ نگرانی میری بہن کو منتقل ہو، بہن کے انتقال کےبعد ،یہ  نگرانی و تولیت کسی معتبر و قابلِ اعتماد دینی یا رفاہی ادارے کو سونپ دی جائے، جو اس وقف کو شرعی و رفاہی مقاصد کے لیے استعمال کرے ۔

نیز ،ضرورت  کے وقت  ہم جگہ کی تبدیلی بھی کر سکیں ، مثلاً : اس کو فروخت کرکے اس سے بہتر جگہ خرید سکیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میری یہ خواہشات شریعت کے مطابق جائز ہیں ؟ اگر جائز ہیں تو  ان کو عملی اور پائیدار شکل دینے کے لئے کون سا شرعی طریقہ اختیار کیا جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان کو اپنی صحت مند زندگی میں (یعنی مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل) اپنے مال و جائیداد میں ہر طرح کے جائز تصرف کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے، لہٰذا سوال میں مذکور خواہشات شرعاً جائز اور قابلِ عمل ہیں۔

وقف کرتے وقت اگر واقف (وقف کرنے والا) وقف سے متعلق کوئی جائز شرط لگانا چاہے، تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، جیسے: وقف کی نوعیت، متولی کی تعیین، یا متولی کے لیے شرائط وغیرہ۔ اور جب وقف مکمل ہو جائے تو متولی پر ان شرائط کی پابندی لازم ہوتی ہے، کیونکہ فقہائے کرام نے اصول بیان فرمایا ہے:"شرطُ الواقفِ كنصِّ الشارعِ" یعنی واقف کی لگائی ہوئی شرط شارع علیہ السلام کے حکم کی مانند ہے۔ پس جیسے شارع کے حکم کی مخالفت جائز نہیں، ایسے ہی واقف کی شرط کی خلاف ورزی بھی جائز نہیں، بشرطیکہ وہ شرط شریعت کے خلاف نہ ہو۔

لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں، اگر آپ مذکورہ خواہشات کو باقاعدہ، شرعی اور پائیدار شکل دینا چاہتے ہیں تو  ایک  واضح تحریری وقف نامہ تیار کریں، جس میں وقف کی نیت کے ساتھ مثلاً آپ درج ذیل عبارت  تحریر کریں :

"میں  مکمل ہوش و حواس اور رضا مندی کے ساتھ اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اپنی ذاتی ملکیت(فلان  مکان ،مکمل پتہ) کو درج ذیل تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کریا ہے :

 (1) اس مکان کے استعمال کا پہلا حق دار میرا دوست [نام و شناختی کارڈنمبر وغیرہ] اور اس کی اولادہے،لہذا وہ جب تک چاہیں یا ضرورت سمجھیں اس مکان میں رہائش پذیر رہیں گے اور   اسےوقف کے دینی اصول   اورشرعی احکام کے مطابق استعمال کریں گے۔

(2) ان کی ضرورت پوری ہونے کے بعد یہ مکان متولی کی صوابدید اور فیصلے کے مطابق  کسی معتبر دینی یا رفاہی ادارے کے زیرِ انتظام، دینی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔
(3) جب تک میں زندہ ہوں، اس وقف   کی تولیت اور نگرانی کا  مکمل اختیار میرے پاس رہے گا اور میں خود اس کا متولی ہوں گا۔
(4) میرے انتقال کے بعد میری بہن [نام] اس وقف کی متولیہ اور نگران ہوں گی۔

(5)بہن کے بعد، تولیت و نگرانی کسی معتبر دینی یا رفاہی ادارے کے سپرد کر دی جائے گی،جو وقف کو اس کے شرعی اور رفاہی مقاصد کےمطابق استعمال کرےگا۔
(6) متولی کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ   ضرورت کے وقت مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ جگہ کو فروخت کر کے اس سے بہتر، زیادہ مفید یا مناسب جگہ خرید کر وقف کرے  یا حاصل شدہ قیمت کو کسی اور دینی و رفاہی کام میں خرچ کرے۔"

اس کے علاوہ بھی آپ اپنی صوابدید کے مطابق مزید کوئی ایسی بات جو  شرعی طور پر جائزہو  شرائطِ وقف میں  شامل کرسکتےہیں۔البتہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ متولی میں تولیت کی شرعی شرائط پائی جائیں۔ اگر وہ شرائط نہ ہوں، تو ایسے شخص کو متولی بنانا جائز نہیں ہوگا۔

متولی کے لیے شرائط درج ذیل ہیں:

1:  وقف کا انتظام وانصرام سنبھالنے کی اہلیت وصلاحیت موجود ہو۔

2: کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔۔

3: امانت داری کے ساتھ وقف کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہو۔

4: وقف کے مال میں خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب نہ کرے۔

5: کسی وجہ سے وقف کے انتظام وانصرام کی اہلیت مفقود نہ ہو، جیسے جنون وغیرہ۔

6: وقف ميں لگائی گئی شرائط کی پاسداری کرتا ہو۔ (ماخوذ از اسلام كا نظامِ اوقاف بتصرف:ص:548تا556)۔

یاد رہے، جیسے ہی آپ وقف  کریں گے، یہ جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے لیے وقف ہو جائےگی۔لہذااس وقف کے ذاتی استعمال کی اجازت نہ ہوگی ،البتہ چونکہ آپ خود کو متولی مقرر کریں گے، اس لیے زندگی بھر اس کا نظم و نسق اور نگرانی آپ کے ہی پاس رہے گی۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 375):

«والحاصل: أن الواقف إذا أطلق أو عين الاستغلال كان للاستغلال، وإن قيد بالسكنى تقيد بها، وإن صرح بهما كان لهما جريان على كون شرط الواقف كنص الشارع،»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 397):

«(الباب الرابع فيما يتعلق بالشرط في الوقف) في الذخيرة إذا وقف أرضا أو شيئا آخر وشرط الكل لنفسه أو شرط البعض لنفسه ما دام حيا وبعده للفقراء قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: الوقف صحيح ومشايخ بلخ رحمهم الله تعالى أخذوا بقول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى ترغيبا للناس في الوقف»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

6/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب