03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نہرِعام اور نہرِخاص کی تعریف
87692پانی کی باری سے متعلق مسائلنہروں اور کاریز کے مسائل

سوال

نہرِ عام" اور "نہرِ خاص" کی موجودہ دور کے اعتبار سے کیا تعریف ہوگی؟ نیز ہمارے علاقے میں بڑے بڑے زرعی علاقے ایک ہی نہر سے سیراب ہوتے ہیں اور متعدد درّوں (وادیوں) کے لیے ایک ہی نہر استعمال ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں کیا یہ نہر "عام" شمار ہوگی یا "خاص"؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نہر ِعام : نہرِعام اس نہر کو کہتے ہیں جس کے شرکاء غیر محدود ہوں اوراس کا پانی شرکاء کے اراضی میں تقسیم ہوکر ختم نہ ہوتا ہے بلکہ پانی بچ کر آگے دوسرے زمینوں ،صحراء ،غیر آباد جگہوں یا سمندر کی طرف نکل جاتا ہو۔

نہرِخاص:نہرِخاص اس نہر کو کہتے ہیں جس کے شرکاء محدود(سو افراد کے آس پاس)  لوگ ہوں اور نہر کا پانی ان ہی لوگوں کی زمینوں میں ختم ہوجاتا ہو یا بہت ہی معمولی سا بچ جاتا ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں وہ نہر جو متعدد وادیوں، علاقوں یا درّوں سے گزرتی ہو  اور جس سے غیر محدود افراد استفادہ کرتے ہوں، "نہرِ عام" کہلائے گی ، اور اس کے احکام بھی نہرِ عام کے مطابق جاری ہوں گے۔

البتہ، اس نہرِ عام سے جو ذیلی نہریں مخصوص زمینوں کے لیے نکالی جاتی ہیں اور جن سے صرف محدود مالکان یا شریک فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ "نہرِ خاص" کے حکم میں آئیں گی اور ان پر نہرِ خاص کے احکام لاگو ہوں گے۔

حوالہ جات

«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 253):

«الأنهار المملوكة وهي التي دخلت في مقاسم على الوجه المشروح أي في مجاري ملك جماعة نوعان وتعريف كل منهما وأحكامه مبين في المادة (267 1) .

النوع الأول - هو الأنهار التي يتفرق وينقسم ماؤها بين الشركاء لكن لا ينفذ جميعه في آخر أراضي هؤلاء بل تجري بقيته للمفازات أي البراري المباحة للعامة بأن يفتح عدة أشخاص جدولا بالاشتراك وتسيل المياه منه إلى مزارعهم وأن لا تنفذ تلك المياه في مزارعهم بل تجري بقيتها للبراري وبما أن الأنهار التي هي من هذا القبيل عامة من وجه فتسمى بالنهر العام ولا تجري فيها الشفعة كما لا تجري في الأنهار الغير المملوكة.

النوع الثاني - النهر الخاص وهو الذي يتفرق وينقسم ماؤه على أراضي أشخاص معدودين والذي ينفد ماؤه عند وصوله إلى نهاية أراضيهم ولا ينفذ إلى مفازة، وقد أعطيت إيضاحات عن ذلك في شرح المادة (955) (منلا مسكين) .

والشفعة إنما تجري في هذا النوع فقط باعتبار أنه خليط في حق المبيع.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 220):

«وعامة المشايخ على أن الشركاء على النهر إن كانوا يحصون فصغير وإلا فكبير. ثم اختلفوا، فقيل ما لا يحصى خمسمائة، وقيل أربعون، وقيل الأصح تفويضه إلى رأي كل مجتهد في زمانه اهـ كفاية ملخصا. قال العيني: وهو الأشبه. وفي الدر المنتقى عن المحيط: وهو الأصح.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

1/ذو الحجہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب