| 87693 | شفعہ کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک بڑا زرعی علاقہ ہے ، جہاں سے تقریباً ایک ہزار من گندم پیدا ہوتی ہے۔ اس زمین سے ایک نہر گزرتی ہے جو سب سے اوپر والے شریک کی زمین سے شروع ہو کر تمام درمیانی زمینوں سے گزرتی ہوئی سب سے نیچے والے شریک کی زمین سے ہوتی ہوئی دوسرے علاقے کی جانب نکل جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سب سے اوپر والا شریک محض اس بنیاد پر کہ نہر اس کی زمین سے گزر رہی ہے، سب سے نیچے والے شریک کی زمین میں حقِ شفعہ کا دعویٰ کر سکتا ہے؟
جبکہ یہ بات بھی واضح رہے کہ سب سے اوپر والے شریک کی پانی کی باری، اس کے جنگلات، چراگاہ اور دیگر متعلقہ ضروریات، نیچے والے شریک کے ساتھ مشترک نہیں بلکہ مکمل طور پر الگ ہیں۔ مزید یہ کہ شفیع اور مشفوع عنہ کی زمین کے درمیان تقریباً ایک کلومیٹر کا فاصلہ بھی موجود ہے۔تو ایسی صورت میں محض نہر کا گزَرنا کیا شرعاً حقِ شفعہ کے دعوے کے لیے کافی ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ حقِ مبیع میں نہر میں شرکت کی بنا پر حقِ شفعہ صرف اسی صورت میں ثابت ہوتا ہے جب شفیع کی شرکت نہرِ خاص میں ہو۔ نہرِ عام میں شرکت کی بنیاد پر شرعاً حقِ شفعہ حاصل نہیں ہوتا۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ نہر مختلف زمینوں سے گزرتی ہوئی دوسرے علاقے کی طرف نکل جاتی ہے، اس لیے فقہی اعتبار سے یہ نہرِ عام کہلائے گی۔ چنانچہ اس نہر میں شرکت کی بنیاد پر شرعاً حقِ شفعہ حاصل نہیں ہوگا،بلکہ جارِ ملاصق (وہ شخص جس کی زمین مبیع سے متصل ہو)حقِ شفعہ کا زیادہ مستحق ہوگا۔
حوالہ جات
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 253):
«الأنهار المملوكة وهي التي دخلت في مقاسم على الوجه المشروح أي في مجاري ملك جماعة نوعان وتعريف كل منهما وأحكامه مبين في المادة (267 1) .
النوع الأول - هو الأنهار التي يتفرق وينقسم ماؤها بين الشركاء لكن لا ينفذ جميعه في آخر أراضي هؤلاء بل تجري بقيته للمفازات أي البراري المباحة للعامة بأن يفتح عدة أشخاص جدولا بالاشتراك وتسيل المياه منه إلى مزارعهم وأن لا تنفذ تلك المياه في مزارعهم بل تجري بقيتها للبراري وبما أن الأنهار التي هي من هذا القبيل عامة من وجه فتسمى بالنهر العام ولا تجري فيها الشفعة كما لا تجري في الأنهار الغير المملوكة.
النوع الثاني - النهر الخاص وهو الذي يتفرق وينقسم ماؤه على أراضي أشخاص معدودين والذي ينفد ماؤه عند وصوله إلى نهاية أراضيهم ولا ينفذ إلى مفازة، وقد أعطيت إيضاحات عن ذلك في شرح المادة (955) (منلا مسكين) .والشفعة إنما تجري في هذا النوع فقط باعتبار أنه خليط في حق المبيع.»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص621):
«(للخليط) متعلق بتجب (في نفس المبيع.
ثم) إن لم يكن أو سلم (له في حق المبيع) وهو الذي قاسم وبقيت له شركة في حق العقار
(كالشرب والطريق خاصين) ثم فسر ذلك بقوله: (كشرب نهر) صغير (لا تجري فيه السفن وطريق لا ينفذ) فلو عامين لا شفعة بهما.
بيانه: شرب نهر مشترك بين قوم تسقى أراضيهم منه بيعت أرض منها فلكل أهل للشرب الشفعة، فلو النهر عاما والمسألة بحالها فالشفعة للجار الملاصق فقط»
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
1/ذو الحجہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


