| 88095 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم تین افراد ہیں میں ،میرا بڑا بھائی اور والدہ۔ میرے والد صاحب نے اپنے انتقال سے پہلے ایک سادہ کاغذ پر وصیت لکھی تھی کہ والدہ کے انتقال کے بعد فلاں فلیٹس بیچ کر جو پیسے آئیں گے اس میں سے 20 فیصد بڑے بیٹے کو، 20 فیصد چھوٹے بیٹے کو، 20 فیصد اس بیٹے کو جس کے یہاں لڑکا پیدا ہو ، 20 فیصد والدہ کے نام صدقہ اور 20 فیصد میرے (والد صاحب ) نام صدقہ کر دیا جائے ۔ میری والدہ الحمدللہ زندہ ہیں اور ٹھیک ہیں ۔والدہ یہ چاہتی ہیں کہ ان کی موجودگی میں فلیٹس بیچ کر سب کو 20، 20 فیصد والد صاحب کی وصیت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے تاکہ بعد میں آپس میں پریشانیاں اور نا اتفاقیاں نہ ہوں۔ہم سب بھی اس پر راضی ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ جو 20 فیصد والد صاحب کے نام پر صدقہ کرنا ہے اس رقم سے ہم گھر والے حج کا فر يضہ ادا کر سکتے ہیں؟جو والدہ کے نام پر 20 فیصد صدقے والی رقم بنے گی وہ والدہ دینے کو تیار ہیں۔سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے 20 فیصد صدقے کی رقم میں سے ہم فريضہ حج ادا کر سکتے ہیں ؟ اور والدہ اپنی 20فیصد صدقے والی رقم ہمیں دے سکتی ہیں حج کرنے یا دوسرے مصارف کے لئے ؟
وضاحت:متوفی کی وفات پر مذکورہ ورثہ ہی موجود تھے۔متوفی کے ملک میں چار فلیٹس تھے جس میں سے چوتھے فلیٹ کے اندر متوفی کی اہلیہ 50 فیصد شریک ہیں۔وفات کے بعد سے دو فلیٹس پر متوفی کے دونوں بیٹوں کا قبضہ ہے۔نیز تمام ورثہ صاحب حیثیت ہیں اور زکاۃ کے مستحق نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حدیث مبارکہ کی رُو سے ورثہ کیلئے وصیت کی ممانعت وارد ہوئی ہے،لہٰذا مذکورہ تمام روثہ میں سے کسی کے حق میں بھی یہ وصیت نافذ نہیں ہوگی۔البتہ والد صاحب نے اپنے نام سے جو20فیصد صدقہ کرنے کی وصیت کی ہے وہ نافذ ہوگی اور ورثہ اس کو صدقے کے مصارف میں خرچ کرنے کے پابند ہیں۔
چونکہ میت کی اہلیہ پہلے سے ایک فلیٹ کی 50فیصد مالکہ ہیں ،اسلئے بدستور وہ اُن کی ملک میں ہی رہے گا۔نیز اس فلیٹ کا بقیہ حصہ اور بقیہ تین فلیٹ کے اندر احکام میراث جاری ہوں گے۔
مذکورہ بالا تفصیل کی رُو سے والدصاحب کے انتقال سے ہی ان کی مملوکہ تمام تر جائیداد درج ذیل تناسب سے ورثہ کی ملکیت میں منتقل ہوگئی۔
|
میت کی اہلیہ |
بڑا بیٹا |
چھوٹا بیٹا |
|
آٹھواں حصہ |
عصبہ(بقیہ ) |
|
|
12.5% |
43.75% |
43.75% |
صورت مسئولہ میں چونکہ اولاد صاحب حیثیت ہے،اسلئے والد کے صدقے کے پیسوں سے حج ادا نہیں کرسکتی،البتہ میت کی اہلیہ اپنے حصہ میراث میں سے رضا مندی کے ساتھ کچھ دینا چاہیں تو انہیں اختیار ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 349):
وأما) الثالث فلما روينا عنه عليه الصلاة والسلام أنه قال: «لا، وصية لوارث».
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 330):
«أما الكتاب العزيز فقوله تبارك وتعالى في آية المواريث: {يوصيكم الله في أولادكم} [النساء: 11] إلى قوله جلت عظمته {من بعد وصية يوصي بها أو دين} [النساء: 11] و {يوصى بها أو دين} [النساء: 12]...(وأما) السنة فما روي «أن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه وهو سعد بن مالك كان مريضا فعاده رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله: أوصي بجميع مالي؟ فقال: لا، فقال بثلثي مالي؟ قال: لا، قال: فبنصف مالي؟ قال: لا قال: فبثلث مالي؟ فقال عليه السلام الثلث، والثلث كثير إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس»
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
18 /محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


