| 88230 | پاکی کے مسائل | پانی کے مسائل |
سوال
میں گھر میں سوئمنگ پول کے پانی میں بیٹا تھا جس میں مذی کے قطرے پڑگئے۔ پول کا سائز 225 مربع فٹ سے کم ہے لیکن اتنا بڑا ہے کہ دو بندے آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔اب پانی ناپاک ہوگیا اور ناپاک پانی نے جسم کو بھی ناپاک کردیا ۔اسکے بعد سوئمنگ پول سےنکل کر کمرے میں گیا اور قالین پر گیلے جسم کے ساتھ لیٹ گیا۔اس دوران میں نے اور بھی چیزوں(دروازے کھولنے کیلئے ہینڈل میز وغیرہ) کو گیلے ہاتھوں سے چُھوا۔مجھے اس بات کا بھی یقین یا غالب گمان ہےکہ جو گیلا پن ذکر کردہ چیزوں کو پہنچی اس میں نجاست یعنی مذی یا پیشاب کے قطروں کا کوئی اثر(رنگ،بو،ذائقہ) موجود نہیں تھا۔ان چیزوں پر زیادہ غور کرنے کی وجہ سے وہم کا مرض لاحق ہو رہا ہے اور زیادہ محتاط رہنے کی وجہ سے مسائل بن رہے ہیں۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ ناپاک جسم کی تری سے کوئی چیز ناپاک ہوسکتی ہیں ،اگر اس میں ناپاکی کا اثر(رنگ بو ذائقہ) نہ ظاہر ہو۔
وضاحت:سائل سے با وجود کوشش کےرابطہ نہ ہوسکا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ تالاب کی پیمائش 225مربع فٹ سے کم ہے،اس لئے یہ ماء ِقلیل (شریعت کے رُو سے کم پانی)ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ ادنی سی نجاست بھی واقع ہونے سے پانی ناپاک ہوجاتاہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں جب سائل کا پورا بدن اور کپڑےمذکورہ پانی سے تر ہوگئے تو وہ بھی ناپاک ہوگئے۔
سائل بعد ازاں جب قالین کے اوپر ان گیلے کپڑوں کے ساتھ لیٹ گیا تو اس صورت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کپڑے اس قدر گیلے تھے کہ انکو نچوڑا جائے تو قطرے گریں ، تو اس صورت میں اگر قالین پر تری بھی ظاہر ہوگئی توقالین پر لیٹنے سے وہ قالین بھی ناپاک ہوجائے گا،لیکن اگر کپڑے اس قدر گیلے نہیں تھے تو قالین ناپاک نہ ہوگا۔نیر دروازوں کے دستے وغیرہ کواحتیاطا گیلے کپڑے سے صاف کرلیا جائے۔
قالین کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ متاثرہ جگہ کے نیچے کوئی تسلہ(ٹب) وغیرہ رکھ کر تین مرتبہ اس طرح دھو لیا جائے کہ اُس سے پانی ٹپکنا بند ہوجائے،پوری طرح سوکھنا ضروری نہیں ہے،تین مرتبہ ایسا کرنے سےقالین پاک ہوجائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية : الفتاوى الهندية (1/ 46):
كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم. كذا في البحر الرائق...البول المنتضح قدر رءوس الإبر معفو للضرورة وإن امتلأ الثوب. ..هذا إذا كان الانتضاح على الثياب والأبدان أما إذا انتضح في الماء فإنه ينجسه ولا يعفى عنه؛ لأن طهارة الماء آكد من طهارة الأبدان والثياب والمكان. كذا في السراج الوهاج.
رد المحتار ط الحلبي (1/ 322) :
والحاصل أن المائع متى أصابته نجاسة خفيفة أو غليظة وإن قلت تنجس ولا يعتبر فيه ربع ولا درهم، نعم تظهر الخفة فيما إذا أصاب هذا المائع ثوبا أو بدنا فيعتبر فيه الربع كما أفاده الرحمتي.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص159):
«كما لا ينجس ثوب جاف طاهر لف في ثوب نجس رطب لا ينعصر الرطب لو عصر" لعدم انفصال جرم النجاسة إليه. واختلف المشايخ فيما لو كان الثوب الجاف الطاهر بحيث لو عصر لا يقطر فذكر الحلواني أنه لا ينجس في الأصح وفيه نظر لأن كثيرا من النجاسة يتشربه الجاف ولا يقطر بالعصر كما هو مشاهد عند ابتداء غسله فلا يكون المنفصل إليه مجرد نداوة إلا إذا كان النجس لا يقطر بالعصر فيتعين أن يفتى بخلاف ما صحح الحلواني...ويطهر متنجس" سواء كان بدنا أو ثوبا أو آنية "بنجاسة" ولو غليظة "مرئية" كدم "بزوال عينها ولو" كان "بمرة" أي غسلة واحدة "على الصحيح" ولا يشترط التكرار لأن النجاسة فيه باعتبار عينها فتزول بزوالها.
الفتاوی الہندیة ( 42/1 ):
وما لا ینعصر یطہر بالغسل ثلاث مرات والتجفیف فی کل مرة؛ لأن للتجفیف أثرا فی استخراج النجاسة وحد التجفیف أن یخلیہ حتی ینقطع التقاطر ولا یشترط فیہ الیبس.
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
17 /محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


