03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی شرعی تقسیم
87452میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد محترم کی ایک ملکیت (پلاٹ) ہے اور ان کو فالج ہوگیاتھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں وہ پلاٹ میری والدہ محترمہ کے نام کر دیا تھا اور اب میرے والد اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔ اب وراثت میں ایک بھائی، چھ بہنیں اور والدہ محترمہ ہے۔

سوال نمبر1 : اب اس پلاٹ کو اگر والدہ کی زندگی میں تقسیم کیا جائے تو شرعی اعتبار سے ہر بہن، ایک بھائی اور والدہ محترمہ کا کتنا حصہ ہوگا ؟

سوال نمبر 2: اگر والدہ کی وفات کے بعد اس پلاٹ کو تقسیم کرلیا جائے تو شرعی اعتبار سے ایک بھائی اور چھ بہنوں کا کتنا حصہ بنے گا؟

تنقیح:سائل کے  والد نے  پلاٹ کو اپنی زوجہ کے نام کرنے  کے بعد  قبضہ نہیں کروایا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کوئی  بھی چیز  محض کسی کے نام کرنے سے اس کی ملکیت میں نہیں آتی ،جب تک اس چیز پر مکمل  قبضہ اور تصرف کا اختیار نہ دے دیا  جائے۔لہذا آپ کے والدکا  پلاٹ پر قبضہ کروائے  بغیر محض اس کو  آپ کی والدہ کے   نام کردینے سے یہ ہبہ مکمل نہیں ہوا،اس لیےمذکورہ پلاٹ بدستور آپ کےوالد  کی ملکیت میں برقرار ہا اور ان کے انتقال کے بعد وہ ان کے تمام  ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہرقسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے اس کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،اس کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے مرحوم کی زوجہ  کو آٹھواں حصہ  اور باقی ترکہ کو ان کے بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کردیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، لہذا اوپر ذکر کیے گئے تین حقوق ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ  کوچونسٹھ  (64)حصوں میں برابر تقسیم کر کے مرحوم کی زوجہ کو آٹھ(8)حصے، ،  بیٹے کوچودھ (14) حصے اور ہر ہر بیٹی کو ساتھ (7)حصے  دے دیے جائیں۔لہٰذا اگر مرحوم کے ترکہ میں صرف ایک پلاٹ ہے ،تو اس کی کل مالیت کی تقسیم بھی مذکورہ حصص اور   درج ذیل فیصدی اعتبار سے ہوگی۔

مرحوم کے ورثہ کے حصص نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:

ورثاء

عددی                        حصہ

فیصد

بیوی

8

12.5%

بیٹا

14

21.875%

بیٹی

7

10.937%

بیٹی

7

10.937%

بیٹی

7

10.937%

بیٹی

7

10.937%

بیٹی

7

10.937%

بیٹی

7

10.937%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اور اگر پلاٹ کو  تقسیم کرنے سے پہلےمیت کےورثہ میں سے  زوجہ کا بھی انتقال ہوجائے اور میت(زوجہ)   کے ورثہ میں صرف ایک بیٹا اور چھ بیٹیاں ہوں تو اس صورت  میں  میں پلاٹ کو چونسٹھ (64) حصوں میں برابر تقسیم کرنے بعد بیٹے کو سولہ (16)حصے اور ہر بیٹی کو (8)  حصے  دئے جائیں ۔

ورثاء

عددی  حصہ

فیصد

بیٹا

16

25%

بیٹی

8

12.5%

بیٹی

8

12.5%

بیٹی

8

12.5%

بیٹی

8

12.5%

بیٹی

8

12.5%

بیٹی

8

12.5%

حوالہ جات

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 378):

«لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (6/ 447):

«‌التركة تتعلق بها ‌حقوق ‌أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث»

السراجي في الميراث:(ص:18)، مکتبۃ البشری:

أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة، عند عدم الولد وولد الابن و إن سفل ٢ - والثمن مع الولد أو ولد الابن و إن سفل.

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (6/ 234):

«{‌يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنتين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.»

   عمار بن عبد الحق

 دارالافتاء،جامعۃ الرشید کراچی

 14 /ذی القعدہ/1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب