| 87962 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
1۔میرے داداانتقال کے وقت پراپرٹی میں صرف ایک پرانا گھر چھوڑ کر گئے تھے، جسے بعد میں میرے پاپانے سیونگ(Saving) کر کے اور امی کا زیور بیچ کر بنوایا،پھر بعد میں ایک الگ پورشن چچانے اپنے لیے بنوایا۔دادا کے انتقال کے وقت میری تین نا بالغ پھوپھیاں اور ایک چچا تھے، جن کی بعد میں میرےپایا اور چچانے مل کر شادیاں کیں اور اب بھی ان کےساتھ برادری کے رسم و رواج کے مطابق لین دین کرتے ہیں۔پا پا لوگ آٹھ بہن بھائی ہیں، جن میں تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، جن میں سے تایا اور بڑی پھوپھو فوت ہو چکے ہیں۔تایا کو پاپا نے کئی سال پہلے دادی کا ایک گھر تھا، جو دادی نے خریدا تھا، وہ حصہ میں دے دیا تھا،اب شریعت کے مطابق پھوپھیوں کا حصہ پلاٹ میں سے ہوگا یا بلڈ نگ میں سے؟
پاپا کو کسی مولوی صاحب نے کہا ہے کہ بلڈ نگ میں سے بھی حصہ ہو گا، ایک اور مفتی صاحب نے کہا کہ صرف پلاٹ میں سے سب کا حصہ ہو گا، پوری بلڈ نگ میں سے نہیں ہو گا۔اس دو منزلہ عمارت کی قیمت ایک کروڑ دس /بیسں لاکھ کے قریب ہے۔
2۔ ہمارےوالدکےورثاء میں ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں۔ سوال يہ ہے کہ ان میں ہر وارث کا کتنا حصہ ہو گا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق آپ کے دادا کے وراثتی مکان پر چونکہ آپ کے والد صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے عمارت تعمیر کی تھی اس لیے آپ کے والد صاحب کی تعمیر شدہ عمارت ان کی ملکیت تھی اور اب ان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی، اسی طرح آپ کے چچا کا تعمیر کیا گیا پورشن ان کی ملکیت شمار ہو گا، اس کے علاوہ پلاٹ چونکہ آپ کے دادا کی ملکیت تھا اس لیے ان کے دیگر ترکہ سمیت یہ پلاٹ ان کے تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، باقی جو آپ کے والد اور چچا نے اپنی بہنوں کی شادیوں پر رقم خرچ کی تھی اگرخرچ کرتے انہوں نے وہ رقم واپس لینے پر باقاعدہ گواہ نہیں بنائے تھے تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان سمجھا جائے گا، اس کے عوض بہنوں کے وراثتی حصہ سے کوئی حصہ کم کرنا ہرگز جائز نہیں۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 142) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله ولا رجوع للأب إلخ) أي لو أدى الأب المهر من مال نفسه لا رجوع له على ابنه الصغير، قيل لأن الكفيل لا رجوع له إلا بالأمر ولم يوجد، لكن قدمنا أن إقدامه على كفالته بمنزلة الأمر لثبوت ولايته عليه. ولهذا لو ضمنه أجنبي بإذن الأب يرجع، فكذا الأب، نعم ذكر في غاية البيان رجوع الأب لما ذكر. وفي الاستحسان: لا رجوع له لتحمله عنه عادة بلا طمع في الرجوع والثابت بالعرف كالثابت بالنص إلا إذا شرط الرجوع في أصل الضمان فيرجع لأن الصريح يفوق الدلالة أعني العرف، بخلاف الوصي فإنه يرجع لعدم العادة في تبرعه، فصار كبقية الأب. اهـ. فعدم الرجوع بلا إشهاد مخصوص بالأب، ومقتضى هذا رجوع الأم أيضا حيث لا عرف إذا كانت وصية وكفلته، أما بدون ذلك فقد صار حادثة الفتوى في صبي زوجه وليه ودفعت أمه عنه المهر وهي غير وصي عليه ثم بلغ فأرادت الرجوع عليه. وينبغي في هذه الحادثة عدم الرجوع لإيفائها دين الصبي بلا إذن ولا ولاية، لا سيما على القول الآتي من اشتراط الإشهاد في غير الأب تأمل. وفي البزازية إذا أشهد أي الأب عند الأداء أنه أدى ليرجع رجع وإن لم يشهد عند الضمان. اهـ.
والحاصل أن الإشهاد عند الضمان أو الأداء شرط الرجوع كما في البحر. وقيده في الفتح بما إذا كان الصغير فقيرا واعتراضه في النهر بما مر من غاية البيان أي من حيث مطلق عموم التعليل بالعرف.
وقد يقال: إن ما في الفتح مبني على عدم اطراد العرف إذا كان الصغير غنيا فله الرجوع وإن لم يشهد ولا سيما لو كان الأب فقيرا فتأمل.
وبقي ما لو دفع بلا ضمان، ومقتضى التعليل بالعادة أنه لا فرق، فيرجع إن أشهد وإلا فلا.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 188) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
وفي البزازية أنه إذا أشهد عند الأداء أنه أدى ليرجع رجع وإن لم يشهد عند الضمان اهـ.
والحاصل أن الإشهاد عند الأداء أو الضمان شرط الرجوع وفي غاية البيان لو أدى الأب من مال نفسه فالقياس أن يرجع؛ لأن غير الأب لو ضمن بإذن الأب وأدى يرجع في مال الصغير فكذا الأب؛ لأن قيام ولاية الأب عليه في الصغر بمنزلة أمره بعد البلوغ وفي الاستحسان لا رجوع له؛ لأن الآباء يتحملون المهور عن أبنائهم عادة ولا يطمعون في الرجوع والثابت بالعرف كالثابت بالنص إلا إذا شرط الرجوع في أصل الضمان فحينئذ يرجع؛ لأن الصريح يفوق الدلالة أعني دلالة العرف.
2۔مرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الاداء ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک غیروارث کے لیےان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو دینے کے بعد باقی ترکہ کو بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگناہ حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
9 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
19.444% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
19.444% |
|
4 |
بیٹی |
7 |
9.722% |
|
5 |
بیٹی |
7 |
9.722% |
|
6 |
بیٹی |
7 |
9.722% |
|
7 |
بیٹی |
7 |
9.722% |
|
8 |
بیٹی |
7 |
9.722% |
|
مجموعہ |
|
72 |
100 |
حوالہ جات
القرآن الكريم: [النساء: 12]:
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
9/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


