| 88191 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا اسلامی بینک میں ملازمت کرنا درست ہے ؟ مثال کے طورپر ،میزان بینک، فیصل اسلامی بینک، بینک اسلامی، البرکہ بینک، دبئی اسلامک بینک، یو بی ایل امین بینک، الحبیب بینک وغیرہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ پاکستان میں موجود بینک تین قسم کے ہیں :
1۔ ایسے بینک جو مکمل اسلامی طریقہ کا ر کے مطابق کام کرتے ہیں اور مستند علماء کرام کی زیرنگرانی اپنے معاملات شرعی اصولوں کی روشنی میں سر انجام دیتے ہیں۔ ایسےبینکوں میں ملازمت کرنااوران سےتنخواہ وصول کرنا جائزہے۔
2 ۔دوسرے وہ بینک ہیں جو مکمل سودی ہیں، ان بینکوں میں ایسی ملازمت کرنا جس ملازمت کابراہ راست سودی معاملات اور سود کی لکھت پڑھت سے تعلق نہ ہو مثلاً چوکیدار،چپڑاسی ،ڈرائیور و غیرہ، تو یہ ملازمت بھی جائز ہو گی اور آمدنی حلال ہو گی،تاہم اس سے بھی احتراز بہتر ہے۔
البتہ ان بینکوں میں ایسے شعبے میں ملازمت اختیار کرنا جس کا تعلق براہ راست سود ی معاملات اور سود کی لکھت پڑھت سے ہے مثلا ً منیجر،کیشئیر وغیرہ، تو ایسی ملازمت درست نہیں، اس صورت میں مذکورہ شخص کی آمدنی بھی حلال نہ ہو گی۔
3۔ تیسری قسم کے بینک وہ ہیں جن کے ماتحت سودی اور غیر سودی دونوں طرح کے معاملات سرانجام دیے جاتے ہیں،
ان بینکوں میں "غیر سودی بینکاری کی برانچز یا ونڈوز" الگ سے بنائی گئی ہیں، جن کا نظم عموماًمستند علماء کرام کی نگرانی میں ہوتا ہے اور سودی نظام سے ان کا تعلق نہیں ہوتا۔
ایسے بینکوں کی غیر سودی برانچزیا ونڈوز میں کام کرنا جائز ہے ، جبکہ ان کے سودی شعبوں میں کام کرنے کا شرعی حکم دوسری قسم میں مذکور سودی بینکوں میں کام کرنے جیسا ہی ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک، فیصل اسلامی بینک، بینک اسلامی، البرکہ بینک، دبئی اسلامک بینک کا تعلق پہلی قسم کے بینکوں سے ہے،جبکہ یو بی ایل امین بینک اور الحبیب بینک کا تعلق تیسری قسم سے ہے،جن میں ملازمت کا شرعی حکم ہر قسم کے ساتھ ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع(2/1066)
السابع:ان یؤجرالمرأنفسه للبنک بأن یقبل فیه وظیفة، فإن کانت الوظیفة تتضمن مباشرة العملیات الربویة،أوالعملیات المحرمةالأخری ،فقبول ھذہ الوظیفة حرام ،وذلک مثل التعاقد بالربوااخذاأوعطاء،أوخصم الکمبیالات،أوکتابة ھذہ العقود،اوالتوقیع علیھا،أوتقاضی الفوائد الربویة،أودفعها،أوقیدھا فی الحساب بقصد المحافظات علیھا،أوإدارةالبنک ،أوإدارةفرع من فروعه،فإن الإدارة مسئولة عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھاحرام ، ومن کان موظفا فی البنک بھذاالشکل ،فإن راتبه الذی یاخذ من البنک کله من الأکساب المحرمةِ۔۔۔
أماإذاکانت الوظیفة لیس لھاعلاقة مباشرة بالعملیات الربویة،مثل وظیفة الحارس، أوسائق السیارة،أوالعامل علی الھاتف ،أوالموظف المسئول عن صیانة البناء،أوالمعدات،أوالکھرباء۔۔۔ فلایحرم قبولھاان لم یکن بنیة الإعانةعلی العملیات المحرمة،وإن کان الاجتناب عنھاأولی، ولایحکم فی راتبه بالحرمة، لماذکرنامن التفصیل فی الإعانة والتسبب،وفی کون مال البنک مختلطابالحلال والحرام،ویجوزالتعامل مع مثل ھؤلاء الموظفین ھبة أوبیعاأوشراء."
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
25/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


