| 88213 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
میرے والد صاحب میری والدہ کو الگ سے کوئی پیسے (بطور نفقہ) نہیں دیتے ، میرے دوبھائی والد صاحب کے ساتھ ان کی دکان پر کام کرتے ہیں ،جس کے بدلے میرے والد صاحب ان کو روزینہ دیتے ہیں ، میری والدہ نے میرے بھائیوں کو کہا ہے کہ دکان سے جو پیسے آتے ہیں تو اس میں سے ہر روز ایک ہزار روپے مجھے دیا کریں، دکان کی کمائی کوئی 10 سے 12 ہزار یا کبھی 15 یا 20 ہزار تک بھی ہو جاتی ہے اور والدہ جو پیسے لیتی ہیں ان کو پھر گھر ہی میں خرچ کرتی ہیں،جیسے اگر گاؤں سے کوئی بہن آ جاتی ہے جو شادی شدہ ہے، تو والد صاحب ان کی ایک دو دن مہمان نوازی کرتے ہیں اور اس کے بعد عام معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے تو باقی دن والدہ مہمان نوازی کا زیادہ خیال رکھتی ہیں، اسی طرح شادی شدہ بہنوں کے لیے کپڑے وغیرہ لینا عید کے موقع پر رمضان میں کچھ تحائف وغیرہ دینا اس کا اہتمام بھی والدہ ہی کرتی ہیں اسی طرح اگر کسی بچے کو فورا کچھ ضرورت ہو تو وہ بھی والدہ سے ہی پیسے لے لیتا ہے یعنی والدہ بھی کسی غیر ضروری کاموں میں پیسوں کو خرچ نہیں کرتی لیکن والد صاحب ان پیسوں کو ان جگہوں پر خرچ کرنے پر بھی راضی نہیں ہوتے اور پیسے بھی ہمارے پاس الحمدللہ کافی ہیں، کیونکہ میرے بھائی جو دکان چلاتے ہیں اس کا ان کو روزینہ ملتا ہے اور وہ والدہ کے کہنے پر ان کو چھپا کر پیسے دیتے ہیں، اب ہم والد کو سمجھاتے ہیں تو والد سمجھتے بھی نہیں ہیں کہ وہ خود ان کو اپنی رضا سے(کچھ رقم) دیا کریں تو کیا ایسی صورت میں چھپا کر پیسے دینا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح کیا میری والدہ کے لیے والد سے چھپ کر دکان کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت :اب اگر والد صاحب کو بتاتے ہیں تو والد صاحب والدہ کو پیسے بھی نہیں دیں گے اور بھائیوں سے بھی ناراض ہو جائیں گے اور اگر بھائی والدہ کو پیسے نہیں دیتے تو والدہ ناراض ہوتی ہیں اب بظاہر اس کی پیسے دینے کے علاوہ کوئی اور صورت بھی نہیں ہے تو لہذا وضاحت فرمائیں کہ ایسے چھپا کر پیسے دینا والدہ کو بھائیوں کے لیے جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اپنے مال میں سے دوسروں پر خرچ کرنااور سخاوت کا مظاہرہ کرنا شرعاً اچھا عمل ہے لیکن کسی پر یہ لازم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنا مال دوسروں کو ہبہ(گفٹ) کرے،اسی طرح یہ بھی شرعاً جائز نہیں کہ بلا اجازت دوسرے کے مال سے سخاوت کا اظہار کیا جائے،لہذا اولاد کا والد کی دکان سے اس لئے مال وصول کرکے والدہ کو دینا کہ وہ دوسروں پر خرچ کریں،کسی طور پر درست نہیں۔
جہاں تک نفقہ کی بات ہے تو بیوی کے واجب نان نفقہ میں کھانا پینا، سردی گرمی کے کپڑے وغیرہ، رہائش، گھر اور جسم کی صفائی ستھرائی کا ضروری سامان شامل ہے،اگر شوہر یہ بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتا،اس میں بھی بخل سے کام لیتا ہے، تو عورت کے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ خود شوہر کے مال میں سے اپنے نفقہ کے بقدر رقم كسی طرح حاصل کرلے، لیکن اولاد کے لئے پھر بھی درست نہیں کہ وہ والد کی دکان سے پیسے چوری کر کے والدہ کو دیں۔
یاد رہے کہ اگر والدہ ناجائز کام کا حکم دیں اور انکار کرنے پر ناراض ہوں، تو اولاد گناہگار نہ ہوگی، تاہم اولاد کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی کمائی میں سے والدہ کی جائز ضروریات میں مدد اور تعاون کرتے رہیں،اسی طرح والد صاحب کو بھی مناسب طریقے سے، مثلاً کسی قریبی بزرگ یا کسی معتبر عالم دین کے ذریعے جائز اور ضروری جگہوں پر مال خرچ کرنے کی ترغیب دلائی جائے ۔
حوالہ جات
مسند أحمد (2/ 333 ط الرسالة):
عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا طاعة لمخلوق في معصية الله.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 83):
فإن الإجماع على حرمة أخذ مال المسلم بغير حق.
الدر المختار (3/ 574-571):
باب النفقة: هي لغةً ما ينفقه الإنسان على عياله، وشرعا ( هي الطعام والكسوة والسكنى )
الفتاوى الهندية (1/ 549):
ويجب لها ما تنظف به وتزيل الوسخ كالمشط والدهن وما تغسل به من السدر والخطمي وما تزيل به الدرن، كالأشنان والصابون على عادة أهل البلد، وأما ما يقصد به التلذذ والاستمتاع مثل الخضاب والكحل فلا يلزمه، بل هو على اختياره، إن شاء هيأه لها وإن شاء تركه، فإذا هيأه لها فعليها استعماله. وأما الطيب فلا يجب عليه منه إلا ما يقطع به السهوكة لا غير، ويجب عليه ما يقطع به الصنان. ولا يجب الدواء للمرض ولا أجرة الطبيب ولا الفصد ولا الحجامة كذا في السراج الوهاج. وعليه من الماء ما تغسل به ثيابها وبدنها من الوسخ، كذا في الجوهرة النيرة. وفي فتاوى أبي الليث رحمه الله تعالى ثمن ماء الاغتسال على الزوج وكذا ماء وضوئها عليه غنية كانت أو فقيرة وفي الصيرفية، وعليه فتوى مشايخ بلخ وفتوى الصدر الشهيد رحمه الله تعالى، وهو اختيار قاضي خان، كذا في التتارخانية في باب الغسل
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
25/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


