03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک خاتون کے دعوے سے حرمت رضاعت کا حکم
87995رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

صائمہ کا نکاح آج سے پندرہ دن پہلے مصطفی کے ساتھ ہوا،ایک خاتون جو کہ صائمہ کی رشتے میں چچی اور  خالہ ہیں،(دو رشتے  اس  طرح  کہ صائمہ کے والد اور چچا نے دو بہنوں سے شادی کی تھی۔ ) اور  مصطفی کی ساس(پہلی بیوی کی والدہ ) اور ممانی  ہیں ، ان کا یہ  دعوی ہے کہ انہوں نے صائمہ کو دودھ پلایا ہے اور اس بات پر وہ جھوٹی قسم بھی اٹھا رہی ہیں،جس وقت یہ خاتون دودھ پلانے کا دعوی کر رہی ہیں،اس وقت ان کو خود آٹھ ماہ کا حمل تھا،ان خاتون نے پہلے صائمہ کی منگنی بھی اپنے بیٹے کے ساتھ کی تھی ، پھر نو سال بعد یہ کہہ کر منگنی توڑ دی  کہ صائمہ  کو میں نے دودھ پلایا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صائمہ ایک معذور لڑکی ہے،جس کی معذوری کی وجہ سے رشتہ توڑاتھا،پھر کچھ عرصے بعد  اس خاتون نے اپنے چھوٹے بیٹے کے  لئے صائمہ کا رشتہ مانگا،حالانکہ پہلے رضاعت کا دعوی کر کے بڑے بیٹے کے ساتھ کی گئی منگنی توڑ چکی تھی،اس خاتون کے بہنوئی نے بھی متنبہ کیا کہ پہلے آپ اس بات کا اقرار کر رہی  تھیں کہ میں نے   صائمہ کو دودھ پلایا ہے،اب آپ کو دوسرے بیٹے کے لئے رشتہ نہیں مانگنا چاہیے،بہرحال چھوٹے بیٹے کے ساتھ رشتے  کرنے سے صائمہ نے انکار کر دیا۔

اب جب صائمہ کا نکاح مصطفی کے ساتھ ہو ا، تو دوبارہ سے یہ خاتون یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ نکاح درست نہیں، کیونکہ میں نے صائمہ کو دودھ پلایا ہے، تاکہ یہ نکاح ختم ہوجائے،اگر اس خاتون نے دودھ پلایا ہوتا ،تو کوئی تو اس کی گواہی دیتا،جبکہ تمام خاندان والے اس خاتون کے دودھ پلانے کے دعوے کی تردید کر رہے ہیں، دراصل یہ خاتون اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لئے جھو ٹی قسم کھا رہی ہیں،( کیونکہ مصطفی  کے نکاح میں پہلے سے ان خاتون  کی ایک بیٹی ہے اور مصطفی دوسری شادی   صائمہ کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔)

تنقیح: رشتوں کے لحاظ سے واضح رہے کہ مصطفیٰ کی پہلی بیوی اور صائمہ آپس میں چچا زاد اور خالہ زاد ہیں، اور دونوں مصطفیٰ کے دو مختلف ماموں کی بیٹیاں ہیں۔

  اگر رضاعت ثابت ہو جائے ،تو   مصطفی کا ایک وقت میں دو رضاعی بہنوں کو اپنے عقد جمع کرنا لازم آئے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صرف عورت کے دودھ پلا دینے کے دعوی سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے، بلکہ خاتون کے ذمہ ضروری ہے کہ وہ اپنے دعوی پر دو معتبر مرد یا ایک معتبر مرد اور دو  معتبرعورتوں کو بطور گواہ پیش کرے ۔

 صورت مسئولہ میں  مدعیہ خاتون کے پاس کوئی گواہ بھی  نہیں  ، نیز  قرائن (خاتون کا دومرتبہ اپنے  بیٹوں کے لئے رشتہ مانگنا )بھی اس بات پر دلالت کرتے  ہیں کہ  مذکورہ خاتون غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں،  لہذا مصطفی کا صائمہ  سے نکاح درست ہے ۔

حوالہ جات

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 35):

(سئل) ‌في ‌شهادة ‌النساء ‌وحدهن ‌على ‌الرضاع ‌هل ‌تقبل؟

(الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية.(أقول) : أي ترك احتياطا.

المبسوط للسرخسي (5/ 137)

(قال:) ولا يجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبية كانت أو أم أحد الزوجين، ولايفرق بينهما بقولها، ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، وهذا عندنا۔...

وعندنا إذا وقع في قلبه أنها صادقة فالأحوط أن يتنزه عنها ويأخذ بالثقة، سواء أخبرت بذلك قبل عقد النكاح أو بعد عقد النكاح، وسواء شهد به رجل أو امرأة، فأما القاضي لا يفرق بينهما ما لم يشهد به رجلان أو رجل وامرأتان؛ لأن خبر الواحد إذا كان ثقة حجة في أمور الدين، وليس بحجة في الحكم والقاضي لا يفرق بينهما إلا بالحجة الحكمية، فأما إذا قامت عنده حجة دينية يفتي له بأن يأخذ بالاحتياط؛ لأنه إن ترك نكاح امرأة تحل له خير من أن يتزوج امرأة لا تحل له.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب