| 88239 | جنازے کےمسائل | تعزیت کے احکام |
سوال
گاؤں کے ایک محلے میں لوگوں کے درمیان ایک نظام رائج ہے کہ وہ آپس میں اجتماعی طور پر رقم (چندہ) جمع کرتے ہیں، اور جب کسی کے ہاں فوتگی ہو جاتی ہے تو اسی جمع شدہ رقم سے اس کی تجہیز و تکفین اور کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہ رقم پہلے سے بطور فنڈ جمع کر لی جاتی ہے یا بعض اوقات فوتگی کے وقت ہی جمع کی جاتی ہے۔
یہ سہولت صرف انہی افراد کو حاصل ہوتی ہے جو اس کمیٹی یا چندہ میں باقاعدگی سے رقم ادا کرتے ہیں، جبکہ جو لوگ چندہ نہ دیں، انہیں اس سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے، نیز ہر فرد سے برابری کی بنیاد پر رقم لی جاتی ہے۔
اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی حکم معلوم کرنا ہے:
۱۔اس طرح اجتماعی فنڈ یا کمیٹی قائم کرنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔اگر رقم فوتگی کے وقت ہی اکٹھی کی جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟اگر رقم پہلے سے بطور فنڈ اکٹھی کی جائے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟دونوں صورتوں (پہلے سے فنڈ جمع کرنے اور وقتِ ضرورت جمع کرنے) کا حکم یکساں ہے یا مختلف؟؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید یہ واضح رہے کہ میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجنا مستحب ہے، کیونکہ میت والا گھرانہ غم اور تکلیف میں ہوتا ہے، لہٰذا ان کی غمگساری اور دل جوئی کے لیے ایسا کرنا پسندیدہ عمل ہے۔اسی طرح تجہیز وتکفین کے انتظامات میں مدد کرنا بھی پسندیدہ ہے۔
۱۔اگر اس کام کے لیے کوئی قبیلہ یا خاندان ایک رفاہی فنڈ قائم کرے، اور اس میں مخیر حضرات بغیر کسی جبر کے از خود رقم دیں، تاکہ ضرورت کے وقت اس سے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی جا سکے، تو اس کی گنجائش موجود ہے۔
البتہ ایسی کمیٹی یا فنڈ قائم کرنا جس میں تمام افراد پر مخصوص رقم دینا لازم ہو اور اس میں غریب کے لیے کوئی رعایت نہ ہو، یا کمیٹی کے ممبرز پر خرچ ان کی جمع کردہ رقم کے تناسب سے ہواور فنڈ کی زیادہ تر سہولیات ان لوگوں کو حاصل ہوں جو زیادہ چندہ دیتے ہیں، تو ایسی صورت میں اس قسم کی کمیٹی بنانا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
الف۔ ممبران کو یکساں سہولت نہ دینا اور ان پر رقم کی تناسب سے فنڈ کی تقسیم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کمیٹی باہمی تعاون کے لیے نہیں بنائی گئی، بلکہ اس کا مقصد ہر ممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات فراہم کرنا ہے، جس کی وجہ سے کمیٹی کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
ب۔ کمیٹی کے ممبرز کو فنڈ یا چندے کے تناسب سے سہولیات فراہم کرنے میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم فائدہ پہنچے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ قمار (جوے) کے مشابہ ہو جاتا ہے۔
ج۔ ہر قبیلے اور خاندان میں ہر شخص صاحب استطاعت نہیں ہوتا، کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں ، جن کے پاس مالی گنجائش نہیں ہوتی ، ایسی صورت میں ہر حال میں ان سے رقم لینا شرعا درست نہیں ، کیونکہ اس طرح وہ دلی رضامندی سے چندہ نہیں دیتا، بلکہ شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دیتا ہے ،ورنہ اس کے بغیر وہ سہولیات کا مستحق نہیں ہوتا۔لہذا یہ بھی ناجائز ہونے کی ایک وجہ ہے۔
خلاصہ یہی ہے کہ اگر ایک ایسا رفاہی فنڈ قائم کیا جائے، جس میں مخیر حضرات دلی رضامندی سے چندہ دیں اور پھر اسی فنڈ سے ضرورت کے وقت میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجا جائے ، یا اسی فنڈ سے تجہیز وتکفین کے اخراجات برداشت کئے جائیں اور سب کو یہ سہولت یکساں حاصل ہو تو ایسی کمیٹی بنانے کی گنجائش ہے۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ میت والے گھر کی طرف سے سب کو اس طور پر کھانا کھلانے کی رسم کو عام کرنا مذموم ہے ،جو کہ ایک اجتماعی دعوت کی شکل اختیار کرلے، کیونکہ اجتماعی دعوت خوشی کے وقت ہوتی ہے ، نہ کہ غم اور مصیبت کے وقت ۔ لہذا جو قریب رہنے والے لوگ ہیں، ان کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں کھانا کھائیں اور میت والے گھرانہ پر بوجھ نہ بنیں ۔ البتہ دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں کوکھانا کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۲۔ جورقم رفاہی فنڈ میں پہلے سے جمع کرادی گئی ہویا بعد میں ، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اگر ان شرائط کی رعایت رکھی جائے جو کمیٹی یا فنڈ کے جواز کے لئے ذکر کردی گئی ہیں۔
اگر ان شرائط کا لحاظ نہ رکھا جائے پھر چاہے رقم پہلے سے جمع کرائی ہو یا بعد میں فوتگی کے وقت لوگ رقم جمع کریں، دونوں کا حکم(ناجائز ہونا) یکساں ہے۔
ذیل میں فنڈ یا کمیٹی چلانے کا شرعی طریقہ کار بتایا جاتا ہے ، ان اصولوں پر مبنی کمیٹی بنانا اور پھر اس کے ذریعے سے فوتگی کے وقت کے اخراجات برداشت کرنا، مہمانوں اور میت والے گھرانہ کے لئے کھانے کا انتظام کرنا درست ہوگا۔
الف۔ فنڈ یا کمیٹی وقف کی بنیاد پر ہو۔ مخیر حضرات جو چندہ دیں گے وہ وقف کی ملکیت ہوگا۔کسی بھی ممبر کو دوبارہ واپس مانگنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
ب۔وقف فنڈ بنانے کا مقصد صرف اور صرف باہمی تعاون وتناصر ہو۔ ان مواقع پر جو بدعات یا غیر شرعی رسمیں ہوتی ہیں ان میں تعاون کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
ج۔ وقف فنڈ کے موقوف علیہم صرف وہ لوگ نہیں ہوں گے جو چندہ دینے والے ہوں، بلکہ موقوف علیہم تمام مستحق ممبران ہوں گے،خواہ وہ چندہ دیں یا کچھ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے چندہ نہ دے سکیں ۔
د۔ انتظامی کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وقف سے تعاون صرف چندہ دینے والوں کے ساتھ مخصوص نہ کریں ،بلکہ وقت بر وقت ایک معتد بہ مقدار میں (کم از کم بیس فیصد یا اس سےزائد)ان ممبران سے بھی تعاون کریں جنہوں نے وقف فنڈ میں چندہ جمع نہ کیا ہو ۔
ہ۔ چندہ دینے والے ممبران پر تحریری طور پر یہ بات واضح کی جائےکہ انہیں چندہ دہندہ ہونے کی بنیاد پر وقف سے کسی اختصاصی یا ترجیحی دعویٰ یا کلیم کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ فوتگی کے وقت وقف فنڈ سے تجہیز وتکفین اور کھانے وغیرہ کا انتظام کمیٹی کے بنائیں گئے اصولوں پر ہوگا۔
و۔ اگر وقف فنڈ میں گنجائش نہ ہو تو کسی بھی درجے میں منتظمین کی یہ ذمہ داری نہ ہو کہ وہ موقوف علیھم کے ساتھ تعاون کریں ،یا اس کے لیے قرضے وصول کریں ،البتہ اگر منتظمین اپنی صوابدید پر بوقت ضرورت وقف فنڈ کے لیے قرض حاصل کریں اور بعد میں چندہ کی رقم سے ،یا کسی دوسرے جائز ذریعے سے اس کی ادائیگی کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
ز۔ فنڈ کے منتظمین کے پاس اس بات کا اختیار ہوگا کہ فوتگی کے وقت مخصوص کردہ رقم دیں ،یا ضرورت کے وقت مختص کردہ رقم سے کم یا زائد دیں۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (2/ 486):
حدثنا أحمد بن منيع وعلي بن حجر، قالا: حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن خالد، عن أبيه عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم.هذا حديث حسن صحيح.
وقد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت بشيء، لشغلهم بالمصيبة.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام (4/ 377):
الحديث دليل على استحباب تقديم الطعام لأهل الميت في يوم مصيبتهم رفقًا بهم مراعاة لحالهم، وهذا من محاسن الإسلام، ومؤكدات الإخوة بين المسلمين، ومشروعية المشاركات عند نزول الحاجات.
ولم يذكر في الحديث مدة الإطعام، فمن أهل العلم من قال: يوم وليلة؛ لأن الغالب أن الحزن الشاغل عن إعداد الطعام لا يستمر أكثر من يوم، ومنهم من قال: ثلاثة أيام..... ولا يجوز الإسراف في إعداد هذا الطعام، كما يفعله كثير من الناس اليوم، فإن الإسراف مذموم شرعًا، وليكن الطعام إلى أهل الميت بقدر حاجتهم، ويجوز لمن حضر أهل الميت أن يأكل معهم من هذا الطعام؛ لأنهم لم يصنعوه بأنفسهم وإنما صنع لهم.
أما أهل الميت فلا يجوز لهم صنع الطعام للناس؛ لأن هذا من البدع، وفيه مفاسد عظيمة.
فتح القدير للكمال (6/ 239):
ولو جعل دارا له بمكة سكنى لحاج بيت الله والمعتمرين، أو جعل داره في غير مكة سكنى للمساكين، أو جعلها في ثغر من الثغور سكنى للغزاة والمرابطين. أو جعل غلة أرضه للغزاة في سبيل الله تعالى ودفع ذلك إلى وال يقوم عليه فهو جائز،
ولا رجوع فيه.
الموسوعة الفقهية الكويتية(41/ 194):
وقول محمد إنه لا يجوز وقف المنقولات لكن إن جرى التعامل بوقف شيء من المنقولات جاز وقفه. قال في الاختيار: والفتوى على قول محمد لحاجة الناس وتعاملهم بذلك، كالمصاحف والكتب والسلاح.
وبناء على ذلك فحين جرى التعامل في العصور اللاحقة بوقف النقود وجدت الفتوى بدخول النقود تحت قول محمد بجواز وقف ما جرى التعامل بوقفه. قال في الدر المختار: بل ورد الأمر للقضاة بالحكم به كما في معروضات أبي السعود.
ووجه الانتفاع بها مع بقاء عينها هو عندهم بإقراضها، وإذا رد مثلها جرى إقراضه أيضا، وهكذا، قال ابن عابدين: لما كانت الدراهم والدنانير لا تتعين بالتعيين، يكون بدلها قائما مقامها لعدم تعينها.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 240):
قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم :(اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم)حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
3/صفر المظفر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


