03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت ختم کرنے کے بعد سرمایہ کا حکم
87954شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

زید نے بکر کے کاروبار میں یکم  اکتوبر 2018 کو 150,000 ریال رقم لگائی، اس شرط پر کہ   ماہانہ نفع کا 5 فیصد حصہ ہر چھ مہینے کے بعد حساب کرکے  زید کو دیا جائے گا۔ کاروبار میں شرکت  ختم کرنے کی صورت میں دو  سے تین ماہ کے  اندر   رقم کی واپسی کی جائے گی۔ اس معاہدے کو باقاعدہ لکھ کر طرفین نے دستخط کئے ۔ بکر نے پہلے چھ ماہ کا نفع  زید کو ادا  نہیں کیا۔ ایک سال گزرنے کے بعد ستمبر 2019 میں بکر نے زید کو نفع کی رقم  16,519ریال بتائی،مگر رقم کی ادائیگی اس دفعہ بھی نہیں کی۔ پونے دو سال( یعنی 21 ماہ، 3جون 2020 تک) بکر نے زید کو کوئی نفع نہیں دیا(جو کہ عقد کے رو سے  ہر چھ ماہ بعد دینے تھے)۔ بکر نے 21 ماہ کے جمع شدہ نفع میں سے صرف  آخری 9ماہ کے نفع کی رقم 6,621  زید کو بتائی، مگر اس بار بھی کوئی ادائیگی نہیں کی۔

 زید نے بکر کے ساتھ  تحریری طور پر  کاروباری معاہدہ منسوخ کردیا ۔ معاہدے کی منسوخی کے 3مہینے  بعد جب  زید نے بکر سے تحریری معاہدے کے مطابق  ساری رقم کی واپسی کا مطالبہ کیاتو بکر نے صرف آخری 9ماہ کے نفع کی رقم 6,621 ادا کی اور باقی پوری رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا۔کچھ عرصہ بعد  جب  زید نے متعدد دفعہ بکر سےرقم کی واپسی کا  مطالبہ کیا تو بکر  نے معاہدے کی ابتداء  کے(تقریباً) 4 سال  بعد 26 نومبر 2022 کو پہلے سال یعنی پہلے 12 ماہ کےنفع 16,519   ادا کئے اور بقایااصل رقم 150,000 ہر ماہ 10 ہزار کی قسط وار ادائیگی کا وعدہ کیا، مگر اب 7ماہ گزر جانے کے بعد  صرف 20,000  ریال ادا کئے ہے اور بکر کے ذمے  130,000 ریال ابھی بھی  واجب الآدا ہے۔ زید ہمیشہ کاروباری حالات درست نہ ہونے کا عذر پیش کرتا ہے اور قرآنی آیات سنا کر صبر کرنے اور دعا کرنے کی تلقین کرتا ہے،کبھی کہتا ہے کہ  پاکستان میں پلاٹ ہے، وہ جب اچھی قیمت میں بِک جائے  گا تو پورے پیسے ایک ساتھ دے دوں گا۔

اس تفصیل کے  بعد  مندرجہ ذیل سوالات ہیں:

۱۔کاروبار میں شراکت داری کو منسوخ   کرنے کے بعد  بکر کے ذمے زید کی جو رقم  واجب الاداء ہے ، کیا وہ ادھار کے حکم میں ہے؟

۲۔ زید اس رقم پر ہر سال زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے۔ کیا زید کے ذمے زکوٰۃ کا ادا کرنا ہے؟ یا زکوۃ بکر کو ادا کرنی چاہیے؟

 ۳۔بکر کا کہنا ہے کہ زید نے کاروباری معاملہ کیا تھا اب کاروباری حالات اچھے نہیں، لہذا بکر زید کی پوری رقم ادا کرےگا ،مگر جب سہولت ہوگی۔ کیا یہ عمل درست ہے؟  کیا کاروباری معاملہ ہونے سے بکر کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ جب چاہے اپنی سہولت دیکھ کر پیسے واپسی کرے یا وہ تحریری معاہدے کا پابند ہے؟

۴۔ زید کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ پچھلے 4 سال سے  بکر سے  رقم کی واپسی کا مطالبہ کرکرکے انتہائی ذہنی اذیت میں مبتلاء  ہوچکا ہے۔ اس صورت حال میں بکر کی کیا شرعی ذمہ داری کیا   ہے؟ کیا اس  صورت حال میں ،بکر پیسے واپس کرنے میں جو ٹال مٹول کررہا اس سے وہ گناہ گار ہوگا؟

۵۔شرعی نقظہ نظر سے بکر کا زیادہ نفع کے لیے پاکستان میں موجود پلاٹ نہ بیچنا کیسا ہے؟ جبکہ بکر شدید ضرورت کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے پیسوں کی واپسی کا تقاضا کر رہا ہے۔

۶۔ اگر زید اپنے پیسوں کی واپسی کے لیے سعودی عرب میں عدالت سے رجوع کرے تو کوئی شرعی حرج تو نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

درج بالا تفصیلات اگر حقیقت کے مطابق ہیں تو اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے۔ہر سوال کا ترتیب وار جواب دیا جارہاہے:

۱۔شرکت فسخ کرنے کے بعد زید کا جو سرمایہ بکر کے پاس تھا وہ بکر کے ذمے میں ادھار ہے، بکر پر اس کی ادائیگی لازم ہے، لہذا صورت مسئولہ میں زید کی جو رقم بکر کے  ذمے رقم  واجب الاداء ہے،بکر کو چاہئے کہ جلد از جلد ادا کرے۔

۲۔سوال نمبر ۲ کے جواب سے پہلے اصول ذہن نشین فرمائیں:

 شریک اول، شریک ثانی کے سرمایہ اور نفع  کی زکوۃ اس  کی اجازت کے بغیر ادا نہیں کرسکتا، اگر  اس(شریک اول) نے  بغیر اجازت کے زکوۃ ادا کردی تو شریک ثانی  کو اس پر رجوع کرنے  کا حق حاصل ہوگا۔

مشترک کاروبار کے سرمایہ کی زکوۃ ادا کرنے کے دو طریقے ہیں:

الف۔شریک اول اپنے سرمایہ اور نفع وغیرہ کوجمع کرے، پھر اس پر جتنا قرض ہے ،وہ مجموعہ سے منہا کرکے باقی ماندہ رقم کی  زکوۃ خود ادا کرے۔

ب۔ شریک اول  شریک ثانی کو اپنے مال اور نفع کی زکوۃ ادا کرنے کی اجازت دے۔ اب جب شریک ثانی شریک اول کے سرمایہ اور نفع کے مجموعے کی زکوۃ ادا کردے تو پھر دوبارہ شریک اول کو زکوۃ ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر زید  اپنے سرمایہ اور نفع کی زکوۃ ہر سال ادا کرچکا ہے تو پھر زکوۃ ادا ہوچکی، دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔بکر  اپنے سرمایہ اور نفع کی زکوۃ خود ادا کرے گا۔

۳۔ شرکت فسخ کرنے کے بعد کاروبار  میں شرکت نہ رہی تو  کاروباری معاملہ بھی باقی نہ رہا، لہذا اب زید کا سرمایہ (ایک لاکھ ،پچاس ہزار ریال)بکر کے ذمے باقی ہے ۔اب بکر  کو چاہئے کہ اپنے پلاٹ وغیرہ بیچ کر  زید کا سرمایہ   واپس کرے۔ بکر نے جو معاہدہ  زید کے ساتھ کیا ہے اس کی پاسداری کرنا بکر پر لازم ہے۔

۴۔بکر  کو چاہئے کہ زید کی رقم واپس کردے ، بلاوجہ رقم واپس نہ کرنا ظلم ہے، حدیث شریف  میں اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، خاص طور پر جب بکر کے پاس کاروبار کے علاوہ اور جائیدادیں وغیرہ ہیں۔

۵۔بکر کا پلاٹ اگر مارکیٹ کی قیمت کے مطابق بک رہا ہے تو اس پر لازم ہے کہ پلاٹ بیچ کر ادھار کی رقم واپس کردے ، اس سے زیادہ پیسوں کی خاطر بلاوجہ پلاٹ نہ بیچنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر پلاٹ مارکیٹ ریٹ سے بہت ہی کم قیمت پر بک رہا  تب اگر بکر پلاٹ نہ بیچے تو مضائقہ نہیں ، لیکن زید کے ادھار کو واپس کرنے کا دوسرے ذرائع سے انتظام کرے۔

۶۔ صورت مسئولہ میں زید کو قانونی کاروائی ، یا اپنے حق کی وصولی کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [المائدة: 1]

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚﵞ 

القرآن الکریم[النساء: 29]:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚﵞ 

صحيح البخاري (3/ 94):

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌مطل ‌الغني ظلم، ومن أتبع على ملي فليتبع.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 321):

(وتصح ببعض المال) لأن الحاجة ماسة إليه والمساواة ليست شرطا فيه فوجب القول بصحته (ومع فضل مال أحدهما) لعدم اشتراط التساوي فيه (وتساوي ماليهما لا الربح وبالعكس) أي تساوي الربح لا المالين لقوله صلى الله عليه وسلم «الربح على ما شرطا» والوضعية على قدر المالين مطلقا بلا فضل بخلاف شرط كل الربح لأحدهما لخروج العقد به عن الشركة (و) تصح أيضا (بكون أحدهما) أي أحد المالين (دراهم والآخر دنانير) أو من أحدهما دراهم بيض ومن الآخر سود (وبلا خلط) وقال زفر والشافعي لا يصح بدونه لأن الربح فرع المال ولا يتصور وقوع الفرع على الشركة إلا بثبوت الشركة في الأصل ولا اشتراك بلا خلط ولنا أن الشركة عقد توكيل من الطرفين ليشتري كل منهما بماله على أن يكون المشترى بينهما وهذا لا يفتقر إلى الخلط والربح يستحق بالعقد كما يستحق بالمال ولهذا يسمى العقد شركة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 328):

(ولم يزك أحدهما مال الآخر بغير إذنه، فإن أذن كل وأديا معا) أو جهل (ضمن كل نصيب صاحبه) وتقاصا أو رجع بالزيادة (وإن أديا متعاقبا كان الضمان على الثاني، علم بأداء صاحبه أو لا كالمأمور بأداء الزكاة).

فقه البيوع ، المجلد الأول،ص:٨٠،٨١ :

وكذلك يوجد عند الحنفية نصوص تدلّ على لزوم الوعد، وكون الوفاء به واجباً على الواعد . فقال الإمام أبو بكر الجصاص رحم الله في تفسير قوله تعالى : ( يَتَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴾ [الصف: ٢] :

يحتج به في أنّ كلّ من ألزم نفسه عبادة، أو قربة، وأوجب على نفسه عقداً، لزمه الوفاء به؛ إذ ترك الوفاء به يُوجب أن يكون قائلاً ما لا يفعل، وقد ذم الله فاعل ذلك. وهذا فيما لم يكن معصية، فأما المعصية، فإن إيجابها في القول لا يلزمه الوفاء بها ، وقال النبي ﷺ: «لا نذر في معصية، وكفارته كفارة يمين وإنّما يلزم ذلك فيما عقده على نفسه مما يتقرب به إلى الله ، مثل : النذور، وفي حقوق الآدميين، العقود التي يتعاقدونها ). ....

وكذلك ذكر العلامة خالد الأتاسي في مبحث بيع الوفاء عن الفتاوى الخانية:

(وإن ذكرا البيع من غير الشرط، ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة، فالبيع جائز، ويلزم الوفاء بالوعد، لأنّ المواعيد قد تكون لازمة، فتجعل لازمة لحاجة الناس ).

حمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

11/محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب