| 88085 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
دو افراد ہیں: ایک سعودی عرب میں ہے اور دوسرا کسی اور ملک (مثلاً عراق) میں۔ سعودی عرب والا شخص دوسرے کو 1000 ریال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ رقم افغانستان یا پاکستان میں کسی کو پہنچا دو۔
لیکن دوسرا شخص دو مہینے بعد وہ رقم بھیجتا ہے۔ تب تک ریال کی قیمت گر چکی ہوتی ہے (مثلاً پہلے 1 ریال = 18 افغانی تھا، اب 1 ریال = 15 افغانی ہو چکا ہے)۔اب پہلا شخص کہتا ہے: جب میں نے پیسے دیے تھے، تب شرح تبادلہ 18 تھی، اب 15 ہو چکی ہے، مجھے نقصان ہوا ہے، لہٰذا حساب اسی وقت کی قیمت کے مطابق ہونا چاہیے۔
کیا اسلام میں یہ جائز ہے؟ اس نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟رقم کس وقت کی قیمت کے مطابق ادا کی جائے گی ؟ ریال دینے کے وقت کی یا ریال بھیجنےکےوقت کی؟
تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جس شخص کو سائل نے ریال حوالہ کیے تھے وہ ہنڈی ہی کا کام کرتا ہے ، نیز سائل نے ریال مجلس عقد میں ہی حوالہ کردیے تھے اور یہ عقد کرتے وقت اسی دن کا تبادلہ ریٹ یعنی 1 ریال = 18 افغانی طے ہوا تھا ، نیز ابھی تک پیسے بھجوائے نہیں گئے ، بلکہ تنازع چل رہا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہنڈی کا کاروبار اور اس کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھجوانا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے :
1۔ دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ تبادلہ کا معاملہ ثمنِ مثل پر کیا جائے، یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہو اسی قیمت کے بدلے تبادلہ کیا جائے، قیمت اس سے کم یا زیادہ مقرر نہ کی جائے۔
2۔ دونوں عوضوں میں سے کسی ایک پر مجلسِ عقد میں قبضہ کیا جائے، یعنی معاملہ کرتے وقت وہ شخص جو پاکستان یا افغانستان پہنچ کر یا اپنے نمایندہ کے ذریعہ پاکستانی یا افغانی روپیہ اداء کرنا اپنے ذمہ لے رہا ہو، وہ اسی مجلس میں اس دوسری کرنسی (ریال وغیرہ) پر قبضہ کرلے جس کا بدلہ وہ پاکستانی یا افغانی روپیہ میں اداء کرے گا۔
3۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانوناً منع نہ ہو۔
مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی دو شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ سرے سے ناجائز ہوگا اور کمائی حرام ہوجائےگی۔ اور اگر تیسری شرط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، باقی معاملہ فی نفسہ درست رہے گا، یعنی کمائی حرام نہیں ہوگی۔(اسلام اور جدید معاشی مسائل، مجموعۂ رسائلِ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: 2/86۔87)
صورت مسئولہ میں پہلی دونوں شرائط ملحوظ ہیں کہ بقول سائل ، ریال مجلس عقد میں حوالہ کردیے گئے تھے اور یہ عقد اس دن کے مارکیٹ ریٹ پر ہوا تھا ، لہٰذا یہ معاملہ فی نفسہ جائز ہے ۔ رہی بات کہ اب تاخیر کی وجہ سے ریٹ گرنے کی صورت میں کون ذمہ دار ہوگا تو چونکہ 1000ریال اس دن کے مارکیٹ ریٹ پر افغانی کرنسی کے عوض فروخت کیے گئے تھے اور اس شخص کے ذمہ لازم تھا کہ مارکیٹ ریٹ یعنی 1 ریال = 18 افغانی کے حساب سے افغانستان میں افغانی کرنسی دیتا مگر اس کی تاخیر کے سبب ریٹ گر گیا ، اس لیے اسی طے شدہ ریٹ پر یعنی 1 ریال = 18 افغانی کے حساب سے رقم پہنچانا اس شخص پر لازم ہے ،اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہوگی، البتہ بطورِ فیس/ اجرت الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
تکملة فتح الملھم (3/268):
المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة، فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ؛ لأن اللہ سبحانہ وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]، فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة اللہ ورسولہ، فلما أفردھم اللہ سبحانہ بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.
فقه البیوع (2/739):
أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة".
بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175):
وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا…. وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.
تکملة عمدة الرعایة(مبحث السفتجة، ص:120، ط:رحمانية):
ويجب أن يعلم أن التي في زماننا المسماة في لساننا (بهنڈي مني آرڈر) ليس من هذا ولا له حكم السفاتج؛ لأن السفاتج كانت لسقوط خطر الطريق وذا للوصول – فإن قلت علة الكراهة هي النفع سواء كان لسقوط الخطر أو للوصول، قلت: بلى، ولكن الخطر مما لا يجوز الكفالة به ولا أجر عليه؛ لأنه ليس في وسع الإنسان إلا دفع اللصوص والحفظ إنما بفضل الله تعالى، وأما الإيصال تحل الأجرة عليه ويمكن العهدة عليه، فلا يلزم من النهي عن نفع سقوط الخطر كراهة أجرة الإيصال.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
18/محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


