03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت میں تعدی کی صورت میں ضمان کا حکم
88094شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

 میں نے ایک شخص سے کاروبار کے لیے کچھ رقم بطور سرمایہ لی تھی، لیکن ہم دونوں کے درمیان کوئی واضح معاہدہ تحریری یا زبانی اس بات پر نہیں ہوا تھا کہ نفع و نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔ میں نے وہ رقم غلط منصوبےمیں  یا غلط جگہ استعمال کر دی، جس کے نتیجے میں نقصان ہوا، اب وہ سرمایہ کار اپنی پوری رقم مجھ سے واپس مانگ رہا ہے، حالانکہ یہ کاروبار میں نقصان کی صورت تھی اور اس پر کوئی معاہدہ بھی طے نہیں تھا۔ کیا ایسے حالات میں سرمایہ کار کا اپنی پوری رقم واپس مانگنا سود (ربا) شمار ہوگا؟ کیا شرعی طور پر میں اس رقم کا ذمہ دار ہوں؟

تنقیح :   سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہواکہ  بیس لاکھ روپے کاروبار میں لگانے کے لئے دوسرے شخص سے لئے گئے تھے، اسی طرح مزید بھی کچھ لوگوں سے  کاروبار  میں شرکت کے لئے بطور سرمایہ رقم لی تھی  اور دس لاکھ روپےاپنے پاس سے لگا کر سائل نے ذاتی استعمال میں خرچ کرلی اور کسی ایسی جگہ خرچ کی کہ ساری رقم ضائع ہوگئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے بطور ِ تمہید یہ سمجھ لیں کہ  شرکت میں  نفع کی شرح متعین کرنا لازم ہے ، اگر نفع کی شرح طے نہ کی جائے تو شرکت کا عقد فاسد ہوجاتا ہے ، ایسے عقدِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اس میں  نفع کی تقسیم ہر ایک کے سرمایہ کے حصص کے اعتبار سے ہوتی ہے،  نیز شرکت میں نقصان ہونے کی صورت میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر شریک عامل (یعنی جو رقم لے کر کام کررہا ہے ) کی طرف سے کوئی تعدی ، غفلت یا سستی نہ پائی جائے اور نقصان ہوجائے تو  ہر شریک کا نقصان اُس کے مال کے تناسب سے ہوگا، یعنی جتنے فیصد کسی کی سرمایہ کاری ہے ، اتنے ہی فیصد وہ نقصان میں حصہ دار ہوگا۔

صورت مسئولہ میں جو کل سرمایہ ضائع ہوگیا  ، تو  آپ کے ہاتھ میں ان سب شرکاء  کا  سرمایہ امانت تھا اور اس سرمایہ کو اپنے ذاتی استعمال میں غلط جگہ خرچ کرکے آپ نے تعدی کی ہے ، لہٰذا تمام شرکاء کے سرمایہ کی ادائیگی آپ کے ذمہ  لازم ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار (4/ 320) :

(ويضمن بالتعدي) وهذا حكم الأمانات اھ

مجلة الأحكام العدلية (ص: 254) الناشر: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:

المادة (1330) ركن شركة العقد الإيجاب والقبول لفظا أو معنى. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر: شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء وقبل الآخر بقوله قبلت فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة , وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر مالا وفعل الآخر مثل ما قال له فتنعقد الشركة لكونه قبل معنى.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(389/3):

الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب