03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز میں رفع یدین کا حکم
88032نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

نماز میں رفع یدین کا کیا حکم ہے؟باحوالہ جواب دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تکبیرِتحریمہ کے وقت رفع یدین کی مشروعیت پر اور سجدہ کرتے وقت اور اس سے اُٹھتے وقت رفع یدین کے متروک ہونے پر ائمہِ اربعہؒ کا اتفاق ہے،البتہ رکوع  کے لیے جاتے ہوئے اور اس سے اُٹھتے ہوئے رفع یدین کرنے میں علماء کا اختلاف ہے،شافعیہؒ،حنابلہؒ اور محدثین کی ایک بڑی جماعت  ان دو مواقع پر بھی رفع یدین کی قائل ہے ،جبکہ احنافؒ،مالکیہؒ ان دو مواقع میں ترکِ رفع یدین کو ترجیح دیتے ہیں،اس لیے حنفی کے لیے ان مواقع میں رفع یدین کرنا خلافِ اولیٰ عمل ہوگا۔واضح رہے کہ ائمہ اربعہ کے درمیان یہ اختلاف محض افضلیت اور عدمِ افضلیت کا ہے نہ کہ جواز اور عدمِ جواز کا جہاں تک احادیث  کا تعلق ہے حقیقیت یہ کہ انحضرت ﷺ سے رفعِ یدین اور ترکِ رفعِ یدین دونوں ثابت ہیں۔احناف ؒعدمِ رفع یدین کومندرجہ ذیل  رویات کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں:

فاعلم أن رفع اليدين في الصلاة ثبت في مواضع كما سيأتي ذكرها، و اتفقوا في استحباب الرفع في تكبيرة الإحرام، و نقل ابن المنذر وغيره الإجماع فيه كما حكاه شارح ’’المهذب‘‘ ...إلى قوله: وكذلك اتفق الجمهور على عدم استحبابه فيما عدا المواضع الثلاثة،أي: فيما بين السجدتين وبعد الركعتين، و في كل خفض و رفع،وإن كانت فيها روايات،واختلفوا في الرفع عند الركوع وبعده،وأصبح رفع اليدين عنوانا لهذه المسألة الخلافية المشهورة بين الأمة،فقال أبو حنيفة و أصحابه بترك الرفع فيهما،وهي رواية ابن القاسم عن مالك،واختاره المالكية، وقال الشافعي وأحمد بالرفع فيهما، وهي رواية عن مالك أيضا.

(معارف السنن: 2/453)

عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة. (سنن الترمذي  (1 / 343:

حضرتِ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ"کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھ کر نہ دیکھاؤں؟پھر انہوں نے نماز پڑھی تو صرف پہلی مرتبہ (تکبیرِ تحریمہ کے وقت)ہاتھ اٹھائے".

عن البراء، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه، ثم لا يعود. (سنن أبي داود (1 / 200:

حضرتِ براء ؓسے مروی ہے کہ" رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے پھر ہاتوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے۔".

عن ابن عباس قال: ترفع الأيدي في سبع مواطن، إذا رأى البيت، وعلى الصفا والمروة، وفي جمع، والعرفات، وعند الجمار. (مصنف ابن أبي شيبة (1 / 214:

حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی حدیث ہے جسے طبرانی نے مرفوعاً اور ابن ابی  شیبہ نے موقوفاً روایت کیا ہے۔اور صاحب ہدایہ نے بھی اسی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اس حدیث میں  سات مقامات میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے تکبیرِ افتتاح کا تو اس میں ذکر ہے ،لیکن رکوع اور رفع من الرکوع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ان رسول الله صلي الله عليه وسلم كان  إذا افتتح الصلوة رفع يديه في أول الصلوة ثم لم يرفعها في شئ حتي يفرغ.(أخرجه البيهقي في الخلافيات (1/404:

"بیشک رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو نماز کی شروع میں دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے اس کے بعد کسی موقع پر ہاتھوں کو نہیں اٹاتے تھے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے تھے"

      مذکورہ چندروایات بطورنمونہ پیش کی گئی ہیں،ان کے علاوہ دوسری متعدد روایات بھی موجود ہیں،جن کی تفصیل حضرت مفتی محمدتقی عثمانی کی تقریردرسِ ترمذی جلد نمبر۲ صفحہ۲۶ میں موجود ہے ،وہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

(التبویب،فتویٰ نمبر:84439)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14/محرم الحرام1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب