03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹوٹے سینگ والے جانور کی قربانی کاحکم
87863قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں میرے پاس دو چھترے ہیں ،ان میں سے ایک نے دوسرے کو سینگ مارا جس کی وجہ سے دوسرے چھترے کے سینگ کا خول ٹوٹ گیا ۔دریافت یہ کرنا ہے  کہ کیا ایسے چھترے کی قربانی کرنے سے وجوب ادا ہوگا یا نہیں؟بینوا توجروا 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اس چھترے کی قربانی کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

(قوله ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز قهستاني، وفي البدائع إن بلغ الكسر المشاش.(الدر المختار مع رد المحتار:6/323)

(ويضحي بالجماء)، وهي التي لا قرن لها؛ لأن القرن لا يتعلق به مقصود، وكذا مكسورة القرن بل أولى لما قلنا(تبيين الحقائق:6/ 5)

ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية:5/ 297)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

4/محرم الحرام،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب