| 87863 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں میرے پاس دو چھترے ہیں ،ان میں سے ایک نے دوسرے کو سینگ مارا جس کی وجہ سے دوسرے چھترے کے سینگ کا خول ٹوٹ گیا ۔دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے چھترے کی قربانی کرنے سے وجوب ادا ہوگا یا نہیں؟بینوا توجروا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اس چھترے کی قربانی کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
(قوله ويضحي بالجماء) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره، فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز قهستاني، وفي البدائع إن بلغ الكسر المشاش.(الدر المختار مع رد المحتار:6/323)
(ويضحي بالجماء)، وهي التي لا قرن لها؛ لأن القرن لا يتعلق به مقصود، وكذا مكسورة القرن بل أولى لما قلنا(تبيين الحقائق:6/ 5)
ويجوز بالجماء التي لا قرن لها، وكذا مكسورة القرن، كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية:5/ 297)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


