| 87902 | نماز کا بیان | مریض کی نماز کا بیان |
سوال
ایک خاتون مریضہ جن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے ان کے کمرے کا بستر شمالا جنوبا ہے۔ ان کو نماز پڑھنے کے لیے بیٹھ کر قبلہ رخ ہونا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ کی ہڈی میں شدید تکلیف ہوتی ہے ۔ کیا ان کے بستر کو سر کی سائیڈ مستقلاً مشرق کی طرف اور پاؤں کی سائیڈ مغرب کی طرف کی جا سکتی ہے ،تاکہ نماز پڑھنے کے لیے ان کو تکلیف نہ اٹھانی پڑے؟بستر کی سائیڈ تبدیل کرنے سے سوتے ہوئے بھی پاؤں مستقل قبلہ رخ ہی رہیں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ بستر کے شمالا جنوبا رکھنے کی صورت میں نماز پڑھنے کے لیے مریضہ کی ٹانگ میں شدید تکلیف ہوتی ہے ،اس لیے ان کے بستر کو مجبوری کی وجہ سے ا س طرح رکھنا کہ پاؤں قبلہ کی طرف رہیں ، اس کی گنجائش ہے۔سوتے وقت جتنا ممکن ہو قبلہ کی طرف پاؤں کرنے سے گریز کریں ،لیکن اگر ممکن نہ ہو یا پاؤں بغیر ارادہ کے قبلہ کی طرف ہوجائیں تو اس کی وجہ سے گناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
ويكره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج) ...كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب... (قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط. (الدر المختار مع رد المحتار:1/655)
وفي الخلاصة :وإذا لم يقدر على القعود صلى مضطجعا على قفاه متوجها نحو القبلة ورأسه إلى المشرق ورجلاه إلى المغرب. (البحر الرائق:2/124)
وإذا لم يستطع القعود صلى مستلقيا على قفاه متوجها نحو القبلة، ورأسه إلى المشرق، ورجلاه إلى المغرب هذا هو الأفضل عندنا. ( المحيط البرهاني:2/142)
قال رحمه الله (وإن تعذر القعود أومأ مستلقيا أو على جنبه) والاستلقاء أن يلقى على ظهره ويجعل رجلاه إلى القبلة وتحت رأسه مخدة ليرتفع فيصير شبه القاعد ويصير وجهه إلى القبلة لا إلى السماء، وهو أفضل لقوله عليه الصلاة والسلام «يصلي المريض قائما فإن لم يستطع فقاعدا فإن لم يستطع فعلى قفاه. ( تبيين الحقائق:1/201)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


