| 88469 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
آج سے کچھ عرصہ پہلے 2023 میں ہمارے بڑے بھائی فقیر محمد کی ساس گھر پر آئیں اور والد صاحب سے کہا کہ ہم آپ کو قرضِ حسنہ پر مکان دلوانا چاہتے ہیں۔ اس پر والد صاحب نے کہا کہ ہم مکان تو لیں گے مگر قرضِ حسنہ پر نہیں لیں گے، ہم اس کے لیے وقت مقرر کر لیں گے۔ اور اس مکان کی قیمت کا اندازہ 12 لاکھ تھا،مگراس وقت مکان تعمیر سمیت تقریباً 14 لاکھ میں والد صاحب کو ملا، اور رقم کا وقت 12 سال طے ہوا۔ اور اب اس کی مالیت 1,50,00,000 روپے ہے۔اس وقت والد صاحب نے ان سے کہا تھا کہ ہم آپ کو ہر مہینے کرائے کی طرح دیں گے، مگر انہوں نے کہا تھا کہ نہیں، ہم اس طرح رقم لیں گے کہ تھوڑی رقم جمع کرکے پھر آپ ہمیں دیں گے۔ مکان خریدنے کے بعد 2012 میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت تک ہم بھائیوں کے ساڑھے تین لاکھ قرض ادا کیا تھا، اور باقی ادا نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد والدہ نے پہلے دو بھائیوں کو الگ کیا اور پھر دوسرے دو چھوٹے بھائیوں کو الگ الگ کیا۔ اب اس مکان میں ہمارے بڑے بھائی فقیر محمد کی رہائش ہے۔ کچھ وقت کے بعد بڑے بھائی فقیر محمد کا سسرال جانا ہوا تو وہ انہیں مکان کی فائل دے رہے تھے، تو بھائی نے فائل نہیں لی اور کہا کہ فائل ابھی آپ اپنے پاس ہی رکھیں، کیونکہ رقم کی ادائیگی ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔مگر اب ہمارے سارے بھائی کہہ رہے ہیں کہ مکان کا قرضہ اتارو اور مکان کا فیصلہ کرو اور ہمیں حصہ دو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ
مکان اگر والد صاحب کی ملکیت تھا تو اس کنڈیشن میں مکان کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہوگا، آیا اس کے ہاتھ میں ہوگا جس نے قرضِ حسنہ پر مکان بناکرہمیں فروخت کیا تھا؟ جبکہ رقم کی 12 سالہ مدت بھی پوری ادائیگی کے بغیر ختم ہو چکی ہے، یا اس مکان پر ہم بھائیوں اور بہنوں کا حق ہے جبکہ ہماری والدہ بھی زندہ ہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
ہمارے مرحوم والد کا نام عثمان غنی تھا اور اس کے ورثہ درج ذیل ہیں:
زوجہ (عائشہ بانو)
چھ بیٹے (عبدالعزیز، فقیر محمد، عبدالرحیم، عبدالوھاب، عبدالرؤف اور عبدالستار)
پانچ بیٹیاں (زلیخا، ممتاز، فرزانہ، شبانہ اور امبرین)
ضروری نوٹ:
پہلے والے استفتاء میں پورے ورثہ کے نام نہیں تھے، اس میں پورے ورثہ کے نام ہیں۔
جس نے مکان قرضِ حسنہ پر دلوایا تھا انہوں نے باقی قرضہ معاف کر دیا ہے،مگر یہ کہا ہے کہ اب ہم چاہیں تو یہ مکان اپنی بہن یا بیٹی کے نام کر دیں۔ اس پر رہنمائی فرمائیں کہ قرض معاف کرنے کے بعد ان کو یہ اختیار ہے؟یا یہ ہم بہن بھائیوں کا حق ہے؟
میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مکان میرے بھائی فقیر محمد کے سسرال نے بنواکر ہمارے والد کو 14 لاکھ روپے میں ادھار پر فروخت کیا تھا اور قیمت کی ادائیگی کے لیے 12 سال کا وقت طے کیا تھا۔ درمیان میں ہمارے والدصاحب کا انتقال ہوا اور اس وقت تک صرف ساڑھے تین لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے جبکہ باقی رقم کی ادائیگی باقی تھی۔ لیکن بعد میں مکان فراہم کرنے والوں نے اپنا قرضہ معاف کر دیا لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ اب یہ ہمارا اختیار ہے کہ یہ مکان ہم اپنی بہن کے نام کر دیں۔ جبکہ دیگر ورثہ اپنے اپنے حصوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ توبتائیں کہ اس مکان پر حق کس کا ہے؟مکان فراہم کرنے والوں کا یا ورثہ کا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں خریدنے کے ساتھ ہی یہ مکان آپ کے والد کی ملکیت ہو گیا تھا، لہٰذا ان کی موت کے بعد یہ ان کی میراث میں شامل ہوگا اور ان کے تمام ورثاء کا حق ہوگا،نہ کہ مکان فراہم کرنے والوں کا،خصوصا جبکہ انہوں قرض بھی معاف کردیا ہے،اب ان کا اس مکان میں کوئی اختیاراورحق نہیں ہے،یہ مرحوم عثمان کےورثہ کاحق ہے اورانہیں میں اپنے شرعی حصوں کے اعتبارسے تقسیم ہوگا،جس کا طریقہ یہ ہےکہ تقسیم سے پہلے مرحوم عثمان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات، قرض (مکان کی بقیہ قیمت اس میں شامل نہیں ہے کیونکہ وہ معاف ہوچکی ہے)، اور ایک تہائی تک وصیت کی علی الترتیب ادائیگی ہوگی، اور اس کے بعد یہ مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ان کے شرعی ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگاکہ اگر مرحوم کے ورثاء صرف وہی لوگ ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، یعنی زوجہ،چھ بیٹےاورپانچ بیٹیاں تو کل منقولہ اور غیر منقولہ ترکہ میں سے بیوی کو %12.5،ہربیٹے کو %10.294اورہربیٹی% 5.147دیاجائے۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 248):
اشترى سلعة وقبضها بإذن البائع، ثم مات المشتري، أو أفلس قبل أن يدفع الثمن، أو بعدما دفع طائفة منه وعليه دين لأناس شتى فالغرماء جميعا في الثمن أسوة وليس بائعها أحق بها منهم عندنا؛ لأن البائع لما سلمها إلى المشتري فقد رضي بإسقاط حقه من عينه ورضي به في ذمته فصار كغيره من سائر الغرماء.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللہ تعالی :
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.......وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن [النساء/11]
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
الفقہ الإسلامی وأدلتہ للزحيلی:
يصح إبراء الدين الثابت في الذمة... ويعد الإبراء من الدين تبرعا؛ لأن فيه معنى التمليك، وإن كان في صورة إسقاط. (الفصل الرابع عشر: الإبراء، المبحث الأول ـ تعريف الإبراء ومشروعيته، ج: 6، ص: 4370، ط: دار الفكر - سوريَّة – دمشق)
وفی الفتاوی الہندیة:
هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا... هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي. (كتاب الهبة، الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه، ج: 4، ص: 384، ط: دار الفكر)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
6/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


